بالی وُڈ فلمیں مُسلم ثقافت کی منفی ترجمان (قسط نمبر ۲)

دہشت گردی بھارت میں سامنے آرہی ہے وہ چاہے گائے رکھشاکے نام پر ہویا کشمیر کی آزادی سے متعلق اس نے سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارت کے منہ پر کالک مل دی ہے ۔اسی طرح 2009ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”ویل ڈن ابا“میں چور کو برقعہ پہن کر پولیس کی گرفتاری سے بچ نکلتے دکھایا گیا۔

منگل مارچ

bollywood filme muslim saqafat ki manfi tarjuman episode 2
 دہشت گردی بھارت میں سامنے آرہی ہے وہ چاہے گائے رکھشاکے نام پر ہویا کشمیر کی آزادی سے متعلق اس نے سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارت کے منہ پر کالک مل دی ہے ۔اسی طرح 2009ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”ویل ڈن ابا“میں چور کو برقعہ پہن کر پولیس کی گرفتاری سے بچ نکلتے دکھایا گیا۔اسی طرح مسلم خواتین کی بھی کردار کشی کی گئی ہے ،اکثر انہیں منفی کرداروں میں دکھایا گیا ہے ۔


مثال کے طور پر ”پاکیزہ “میں مینا کماری ،اُمراؤ جان “میں ریکھا کو طوائف اور ”مغل اعظم “مد ھو بالا کو ایک کنیز کے کردار میں دکھایا گیا ہے ۔
بہر حال فلم ڈور ،پنک اور لپ اسٹک میں مسلمان کرداروں کی صحیح عکاسی کی گئی ہے ۔مسلمانوں کو منفی کرداروں میں کیوں پیش کیاجاتا ہے ؟بظاہر تو اس کی وجہ نائن الیون کا سانحہ ہے جب نیو یارک میں جڑواں ٹاورز پر حملہ ہوا تھا ۔

(جاری ہے)

اس کے بعد تو لگتا ہے جیسے بالی وُڈ نے طے کر لیا کہ کسی مسلمان کر دار کو مثبت انداز میں پیش نہ کیا جائے ۔
اس روش نے بالی وُڈ کو گہنا دیا ہے جس کی ایک مثال گزشتہ برس یعنی 2018ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”پد ماوت “ہے جس کا پہلا نام پد ماوتی تھا،اس فلم کی کہانی مسلمان بادشاہ علاؤ الدین خلجی ،راجپوت حکمران رتن سنگھ اور ہندوملکہ پد ماوتی کے گردگھومتی ہے ۔

ہندوؤں نے اس پر اعتراض کیا کہ اس فلم میں پدماوتی کو شرمناک کردار میں پیش کیا گیا ہے ،اس پر ملک گیر مظاہرے ہوئے کہ فلم کو نمائش کی اجازت نہ دی جائے ۔
یہ احتجاج اس وقت ختم ہوا جب بھارتی سپریم کورٹ نے فلم پر پابندی لگانے کی رٹ خارج کر دی ۔
دوسری طرف ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے اس کی ملک بھر میں نمائش پر اس لئے پابندی عائد کردی کہ اس میں علاؤ الدین خلجی کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ فلم میں علاؤ الدین کو ظالم ،گستاخ ،غیر انسانی رویے کا مالک ،دھو کے بازاور عیاش دکھایا گیا ہے جو مسلمان حکمرانوں کے شایان شان نہیں۔
یاد رہے کہ ملائیشیا کے سنسر بورڈ نے 2014ء میں ہالی وُڈ فلم ”نوح“(NOAH)پر بھی پابندی لگا دی تھی اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس میں مذہبی عقائد کی تذلیل کی گئی ہے ۔اس کے بعد 2015ء میں ”ففٹی شیڈز آف گرے “نامی فلم پر پابندی لگا دی گئی جس کی وجہ عریانیت قرار دی گئی تھی۔


اس پر تو دوآراء نہیں ہو سکتیں کہ فلمیں ایک مضبوط ہتھیار ہوتی ہیں جن کے ذریعے عوام کے رویوں میں تبدیلی لانا ممکن ہے اور ان کے ذریعے سماجی اقدار کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ایسے ہی اگر معاشرے کی روایات سے ہٹ کر موضوعات کو فلم کی شکل دی جائے گی تو فلم کے ذریعے دیا جانے والا پیغام ضائع ہو جائے گا ۔اسی صورت حال کی وجہ سے بالی وڈ میں بننے والی فلمیں کوئی تاثر قائم کرنے میں ناکام ہیں بلکہ اگریوں کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ ان فلموں کی اکثریت منطق اور سوجھ بوجھ سے عاری ہیں اور نئی نسل کو متاثر کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔


اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ معاشرے کے کچھ حصے کو متاثر کرتی ہیں تو یہ تاثر منفی قرار پائے گا جس کے ذریعے معاشر ے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے اور امن وامان کو خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی کو بھی شہ مل رہی ہے ۔فلم ”رئیس “کی مثال لے لیں ۔اس فلم کے پوسٹر اور تشہیر دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ ایک تفریحی فلم ہو گی مگر اس میں مسلمان کرداروں کو جس طرح نمایاں طور پر پیش کیا گیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ دہشت گرد اور گینگ لیڈر صرف اور صرف مسلمان ہی ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ یہ تاثر قائم ہے کہ بھارت کی انڈرورلڈ میں سب مسلمان ہیں اور یہ لوگ ہی اسلام کو پر تشدد اور خونریز مذہب ثابت کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔یہ سوال اب بھارت کے علاوہ جہاں بھی بالی وُڈ فلمیں دیکھی جاتی ہیں پوچھا جارہا ہے کہ مسلمان خواتین کو برقعوں میں چھپا کر حُسن ،ناچتی طوائفوں اور بے قابو شہزادیوں کے طور پر ہی کیوں پروجیکٹ کیا جاتا ہے ۔


اس کے علاوہ سب گینگسٹر اور دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں ،کیا انہیں راشٹر یہ سیوک سنگ (Rss)کے وہ غنڈے دکھائی نہیں دیتے جو کبھی گاؤ رکھشا اور کبھی غداری کے نام پر مظلوم مسلمانوں کا کھلے بندوں قتل عام کرتے ہیں ۔یہ کس سے پوشیدہ ہے مگر ایسے موضوعات پر کبھی بالی وُڈ فلمیں نہیں بنائی جاتی۔بالی وڈ کے کہانی نویسوں ،ہدایتکاروں اور فلمسازوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے معدودے چند منفی عناصر کو فلموں کا موضوع نہ بنائیں بلکہ اسلامی ثقافت کو مکمل اور جامع طور پر پیش کریں ۔


بر صغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں میں بہت سی باتیں مشترک ہیں ۔مثال کے طور پر طرز تعمیر ،خوراک ،
ادب اور موسیقی جو ان دو قومیتوں کو باہم جوڑے ہوئے ہے ،تاریخ دان اور محقق ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں مگر فلمسازوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے کو مزید تقسیم کرنے والی فلمیں بنانے سے اجتناب کریں ۔یہ درست ہے کہ دونوں قومیتوں میں اختلافات بھی ہیں جو ایک خاندان کے افراد کے درمیان بھی ہو سکتے ہیں تو پھر مشترکہ ثقافت کو کیوں موضوع نہ بنایا جائے بجائے اس کے کہ اختلافات کا جھنڈا ہی بلند رکھا جائے ۔


بالی وُڈ کی فلمیں صرف بھارت ہی میں نہیں غیر ممالک میں بھی دیکھی جاتی ہیں اور ان فلموں کو بنانے والے افراد پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہبی جذبات اور معاشرے کی اقلیتوں کو مثبت انداز میں پیش کریں اور خاص طور پر ایسے ماحول میں جب انتہا پسند نظر یات سماجی نفرت پھیلا رہے ہیں ۔یہ تو ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بالی وُڈ فلمیں شائقین فلم پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں مگر ان فلموں میں مذہبی عقائد اور روایات کے حوالے سے ایسا مواد موجود ہوتا ہے جو جذبات بھڑ کانے کا کام کرتا ہے
۔


بالی وڈ فلمیں مسلمان کرداروں کو ایک خاص طریقے سے پیش کرتی ہیں ۔یا تو وہ بگڑے ہوئے شرابی ،جواری نواب ہیں یا دہشت گرد یا پھر انہیں انڈرورلڈ کے گینگ لیڈر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔کبھی بالی وڈ کی فلموں میں مسلمان بادشاہوں کی شان اور لکھنوٴ تہذیب کو اُجا گر کیا جاتا تھا لیکن اب جس طرح کی فلمیں بن رہی ہیں ان کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔


(1) مسلمان کرداروں کو انسانی جذبوں سے سر شار دکھانے کی بجائے دہشت گرد دکھایا جارہا ہے ۔
(2) مسلمانوں کو اکثر غداروں کے روپ میں دکھایا جاتا ہے جس سے معاشرے میں مسلمانوں کیخلاف نفرت کے جذبات بھڑک رہے ہیں ۔
(3) مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کے مثبت پہلو اب فلموں کا موضوع نہیں بنتے جس سے ماضی کی عظمتوں پر پردہ ڈالا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب چودھویں کا چاند ،میرے محبوب ،پہلو بیگم اور پاکیزہ پر مبنی فلمیں نہیں بن رہیں ۔
(4) 1980ء کی دہائی کے خاتمے اور 1990ء کی دہائی کے آغاز سے ہندورائٹ ونگ تحریک نے بالی وُڈ میں اپنے پاؤں جمانا شروع کئے اور مسلمانوں کو جو بھارت میں بستے ہیں اور پاکستانیوں کو کیمرے نے منفی انداز میں دکھانا شروع کر دیا۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments