بالی وُڈ فلمیں مُسلم ثقافت کی منفی ترجمان

ہندوانتہا پسندوں کا بھارتی فلم انڈسٹری پر اثرورسوخ

بدھ مارچ

Bollywood filme muslim Saqafat ki manfi tarjuman
 سلیم بخاری
 پہلی قسط
اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ فلمیں عوام الناس کی رائے قائم یا تبدیل کرنے کا ایک نہایت موٴثر ذریعہ ہیں ۔دُنیا میں امریکہ،بھارت ،برطانیہ اور پاکستان وہ ممالک ہیں جہاں بڑی تعداد میں فلمیں بنتی ہیں اور انہیں دُنیا بھر میں پذیرائی بھی ملتی ہے ۔امریکہ کے ہالی وڈ میں متعدد ایسی فلمیں بنی ہیں جن میں مسلمان کرداروں کو موضوع بنایا گیا تو ان کے ساتھ انصاف بھی کیا گیا لیکن اس کے برعکس بھارت کے بالی وڈ میں بننے والی اُن تمام فلموں جن کا موضوع اسلامی ثقافت تھا میں مسلم کرداروں کو انتہائی منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔

اس آرٹیکل میں ہم یہ احاطہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ ایسا سہو اً ہورہا ہے یا اس کے پیچھے خاص ہندومائنڈ سیٹ ہے جو مسلمانوں کی تذلیل سے تسکین حاصل کرتا ہے ۔

(جاری ہے)

بھارتی فلموں کا تجزیہ کرنے سے پہلے ذرا سا ہالی وُڈ فلموں کا تذکرہ ضروری ہے جہاں مسلمان کرداروں کا انتخاب کرکے ان سے انصاف کیا گیا ہے ۔
”دی میسج “کے نام سے 1976ء میں ریلیز ہونے والی ہالی وُڈ فلم میں شامی ڈائریکٹر مصطفی عقد(Moustapha Akkad) نے مذہب اسلام کے آغاز کو موضوع بنایا تو انہیں ہالی وُڈ میں اس لئے کوئی سٹوڈیو نہ مل سکا کہ اس میں ہالی وُڈ کا کوئی ایکٹر شامل نہیں تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار ادا کر سکے۔

اس کے باوجود یہ فلم بنی جس میں نہ نبی کریم اور نہ ہی خلفائے راشدین کے کرداروں کو کسی انسانی روپ میں دکھایا گیا تاہم اس فلم میں ماضی کے عظیم اداکاروں انتھونی کوئین اور آئرن پاپس نے کردار ادا کئے۔
اس فلم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے فتح مکہ تک کا زمانہ دکھایا گیا ہے،اس میں حضرت بلال حبشی جو ایک غلام تھے اور قبول اسلام کے بعد پہلے موٴذن بنے اور حضرت عمار اور اُن کے والدین کو بھی دکھایا گیا جو اسلام کے پہلے شہید کے درجے پرفائز ہوئے۔

آج اس فلم کو بنے چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی دوبارہ دیکھنے کے قابل ہے کیونکہ اس فلم کو بناتے وقت مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا گیا تھا ۔فلم کی ریلیز کے بعد ایک طویل عرصہ تک یہ فلم اسلامی ممالک میں نمائش پر پابندی کا شکاررہی اور جب یہ یقین ہو گیا کہ اس فلم میں کوئی منظر ایسا نہیں جو قابل اعتراض ہو تو تمام مسلمان ملکوں میں اسے نمائش کیلئے پیش کیا گیا ۔


اس کے بعد 1980ء میں ریلیز ہوئی ایک فلم”لائن آف دی ڈیزرٹ“جس کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی مصطفی عقد تھے جنہوں نے اس سے پہلے ”دی میسج “کی ہدایت کاری کی تھی ۔یہ فلم 20ویں صدی کے لیبیائی انقلابی رہنما عمر مختار کی زندگی پر مبنی تھی اس فلم میں بھی انتھونی کوئین اور آئرن پاپس نے مرکزی کردار ادا کئے جبکہ فلم ”دی ٹریپ “کے ہیرو اولیورریڈ نے بھی اس فلم میں خطر ناک اطالوی جرنیل گراز یانی (Marshal Rodolfo Graziani) کا رول کیا تھا۔


فلم کی کہانی کا مرکز لیبیا کی اٹلی کے قبضے کے خلاف جدوجہد آزادی ہے جو ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔عمر مختار کے کردار میں انتھونی کوئین نے جو لازوال اداکاری کی اسے نہ سراہنا بہت بڑی زیادتی ہو گی ۔اس کے فلم ساز اور ہدایت کار نے اسلامی معاشرے کی اقدار اور جنگجوؤں کے جذبہ حریت کو نہایت شاندار طریقے سے پیش کیا۔اس کے بعد 1991ء میں بنی فلم ”رابن ہڈ“،اس فلم میں بھی کیون کا سنر(Kevin Michael Costner) نے کردار میں جان ڈال دی جبکہ مورگن فری مین نے مسلم کردار عظیم کے لئے باکمال اداکاری کی ۔


عظیم کے کردار میں اسلام کی اقدار اور وفاداری کو ایک بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ،پھر 1999ء میں ہالی وُڈ نے ریلیز کی فلم ”دی تھر ٹینتھ وارےئر “(The 13th Warrior) جو زیادہ مشہور تونہ ہو سکی مگر باکس آفس پر 23ویں سب سے زیادہ کامیاب فلم کا اعزاز اس نے ضرور حاصل کر لیا ۔اس فلم کا مرکزی خیال مائیکل کرکٹن کی کتاب ”ایٹرز آف دی ڈیڈ“سے لیا گیا تھا جس کا مرکزی کردار ایک عراقی شاعر ہوتا ہے جو جلاوطن ہو کر نا روے کے باشندوں سے جا ملتا ہے جن کی اپنی حیثیت مٹتی جارہی ہے ۔


یہ فلم ہمیں مسلمانوں کی قیادت کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔اس کے بعد 2001ء میں ریلیز ہوئی فلم”علی “اور اسی سال ایک اور فلم بنی ”کِنگڈم آف ہیون “جس کا تذکرہ بعد میں ہو گا ۔جہاں تک فلم ”علی “کا تعلق ہے تو اس کے فلم میکرمائیکل مان (Michael Mann) نے ایک کھلاڑی کی زندگی اور اس کی روح کو سلولائیڈ پر منتقل کرنے کی بھاری ذمہ داری قبول کی اور کھلاڑی بھی ایسا جس نے باکسنگ کی دُنیا میں تہلکہ مچا دیا ہو اور اس جیسا نہ کوئی پہلے تھا اور نہ کوئی بعد میں پیدا ہو گا ۔


اس فلم کی ابتدا تو محمد علی کی سونی لسٹن (Sonny Liston) کے ساتھ پہلے مقابلے سے ہوتی ہے جو امریکی عدالتی جنگ تک جا پہنچتا ہے کیونکہ محمد علی نے ویت نام جنگ میں حصہ دار بننے کی غرض سے فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کر دیا تھا اور فلم کے آخر میں محمد علی کا جارج فورمین سے مقابلہ دکھایا جاتا ہے جسے باکسنگ کی تاریخ میں رنگ کے اندر مصر کے (Rumble in the jungle) قرار دیا گیا تھا ۔


فلم میں محمد علی کے جنگ کے حوالے سے رویے کو فوکس کیا گیا تھا ۔
چونکہ ویت نام کی جنگ میں حصہ نہ لینے کے فیصلے نے اس کے کیرےئر کے خاتمے کے خدشے کو جنم دیا تھا ،
محمد علی اس میں یہ کہتے ہوئے بھی دکھائے گئے :”میں جنگ کیوں لڑوں ،مجھے تو آج تک کسی ویت کانگ گوریلے نے کالا کہہ کر مخاطب نہیں کیا۔“اس فلم میں دل سمتھ نے جس مہات سے محمد علی کا رول کیا اس پر اسے آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا جبکہ جیمی فاکس کو علی کو متحرک کرنے والے یہودی (Drew Bundini Brown) کارول کرنے پر آسکرایوارڈ سے نوازا گیا ۔


اب آتے ہیں ”کنگڈم آف ہیون “کی طرف ۔ناقدین کا خیال ہے کہ اس میں تکلیف دہ بات صرف یہ تھی کہ جہاں لائم نیسن(Liam neeson) اور لانڈوبلوم(Orlando Bloom)،برینڈن گلیسن (Brendan Gleeson)،ایواگرین (Eva Green)،جیریمی آئرنس
(Jeremy Irons)،ایڈورڈنارٹن (Edward Norton)اور مائیکل شین (Michael sheen)جیسے اداکاروں نے کام کیا تھا مگر کسی عرب اداکارکو اس میں نہیں لیا گیا۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ شامی اداکار گھاسن مسعود(Ghassan Massoud) اور برطانوی نژاد سوڈانی اداکار Alexander Siddigکی اداکاری لاجواب تھی ۔


ایک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ابتدا میں فلم کا مرکزی کردار صلاح الدین ایوبی کا تھا جسے اداکار سین کانری نے ادا کرنا تھا بعدازاں اس کردار کو انتہائی مختصر کر دیا گیا اس کے باوجود بھی یہ کردار پوری فلم پر حاوی رہا اور اس کے کئی مناظر میں عظیم اسلامی رہنما کی ذہانت ،رحم اور انصاف کرنے کی خوبیوں کو اُجا گر کیا گیا۔فلم میکر رڈلی سکاٹ(Ridly scott)کی مذہبی تنازعات کو فوکس کرنے کی خوبی نے اس فلم کو آج کے دگر گوں حالات میں بھی دیکھنے کے قابل بنا دیا ہے ۔


یہاں ایک اور ہالی وڈ فلم کا بھی ذکر ضروری ہے جو میلکم ایکس (Malcolm X) کی زندگی پر بنی اور 1992ء میں ریلیز ہوئی ۔اس فلم کے ڈائریکٹر سپائیک لی (Spike Lee) تھے ،فلم بنیادی طور پر میلکم ایکس کے بچپن ،اس کے پادری باپ کے سفید فام انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل،نشہ آور منشیات کے استعمال ،جیل میں گزارے ہوئے دنوں اور پھر ”نیشن آف اسلام“(Nation of Islam)نامی تنظیم کے رکن بننے تک کا احاطہ کرتی ہے ۔


اس تنظیم کی ترقی اور شہرت کے لیے میلکم نے بہت کام کیا تھا مگر اس کی قیادت سے ان کی نہ بن سکی اور انہوں نے جلاوطنی اختیار کر لی۔ میلکم ایکس کا کردار شُہرت یافتہ اداکار ڈینزل واشنگٹن (Denzel Washington) نے کمال فن سے ادا کیا اور اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد گی بھی حاصل کی ۔معروف اداکارہ اینجلا باسٹ(Angela basset) نے میلکم کی بیوی کا کردار نبھایا ۔

یقینی طور پر اس فلم نے میلکم ایکس کی کہانی کو عوام الناس تک پہنچانے کا کام کیا۔
اس کے بعد 2008ء میں ریلیز ہوئی ”باڈی آف لائز“جس کا فوکس دہشت گردی تھا۔اس میں لیونارڈوڈی کیپر یو اور رسل کروکی اداکاری کو بجا طور پر اعلیٰ قرار دیا جا سکتاہے ۔یہ فلم موضوع کے اعتبار سے ایک اچھی کوشش ضرور قرار دی جا سکتی ہے،فلم کی ہیروئن جو ایرانی نژاد اُردنی اداکارہ ہیں نے کمال کی اداکاری کی ہے ۔

2011ء میں منظر عام پر آئی”سالمن فشنگ ان دی یمن”(Salmon Fishing in the yemen) جس کا موضوع ایک عرب شیخ کا اپنے ملک میں سالمن مچھلی کا شکار ہے ،یہ بنیادی طور پر رومانوی ڈرامہ ہے جس کے ہیروایون میکریگر اور ہیروئین ایملی بلنٹ نے باکمال اداکاری سے شائقین فلم کو محفوظ کیا ۔
فلم میں عرب شیخ کا کردار مصری اداکار امر وقعد (Amer Waked)نے بخوبی نبھایا۔ہر لحاظ سے یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے ۔

اس کے ایک سال بعد آئی فلم ”ڈی ریلکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ “جس کے لیڈ اداکاروں میں رض احمد ،کیٹ ہڈسن اور کیفر سدر لینڈ نمایاں تھے ۔یہ فلم ایک ایسے پاکستانی پہلوان کی
کہا نی ہے جو 9/11کے سانحہ کے بعد اپنی شناخت کا متلاشی ہوتا ہے ۔
رض احمد نے اس فلم کا لیڈرول کیا ہے ،چنگیز نامی شخص پر نسٹن سکالر شپ پر امریکہ جاتا ہے اور ٹوئن ٹاورز کے سانحہ کے بعد چنگیز کے لیے سب سے بڑا معمہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کون ہے کیونکہ ہر دوسرا امریکی اسے شک کی نظروں سے دیکھتا ہے ۔

وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون سے شہر یا ملک سے اپناناطہ جوڑے ،وہ اپنے ملک سے دور ہوتا ہے اور جہاں وہ ہے وہاں اسے نفرت سے دیکھاجاتا ہے ۔یہ معاملہ صرف اس کے ساتھ نہیں بلکہ ہر اس تارک وطن کو در پیش ہوتا ہے جو اپنا ملک چھوڑ کر کسی اور ملک میں قسمت آزمارہا ہے ۔درحقیقت جو اقلیتیں دوسرے ملکوں میں بستی ہیں ان میں سے مسلمان اور عربوں کے ساتھ بہت بد
سلو کی کی جاتی ہے ۔


ڈاکٹر جیک شاہین نے اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سب سے برے حالات کا سامنا مسلمانوں اور عرب باشندوں کو درپیش ہے۔ دوسری طرف بھارت میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں اور وہاں بھی جس قسم کی فلمیں بن رہی ہیں ان میں مسلمان اقداروروایات کو مسخ کیا جارہا ہے ۔صدیوں سے بھارت میں آباد مسلمانوں کی ثقافت نے اپنی شناخت خود بنائی اور اس کے عروج کا زمانہ عہدمغلیہ سے واضح ہے ۔


طویل عرصہ میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی ثقافتوں میں بہت سی مشترکہ اقدار تخلیق پاتی رہی ہیں ۔مثال کے طور پر لکھنوٴ جو بھارت کا ایک بڑا شہر ہے اپنی ثقافتی اقدار کی وجہ سے جانا جاتا ہے یہاں کی تہذیب اور شفاف اُردو زبان اس شہر کی پہچان ہے اور مغلیہ دور میں تو اس کی بہت ترویج و ترقی ہوئی ۔بھارتی فلموں میں اس حقیقت کی جس طرح تشریح کی گئی ایسی فلموں کو بے پناہ پذیرائی ملی ۔

پہلی دلچسپ بات یہ ہے بالی وڈ کی فلموں کو ہندی فلمیں کہا جاتا ہے حالانکہ یہ سب فلمیں خالصتاً اُردو زبان میں بنتی ہیں ،تمام گانے اردو میں لکھے اور گائے جاتے ہیں ۔
پہلے ان فلموں کا تذکرہ ضروری ہے جن میں مسلمان ثقافت کا پہلو نمایاں ہے اور ان میں کسی قسم کا تعصب نہیں ۔مسلمان طرز حکومت اور ثقافت سے سجی فلم تھی مشہور زمانہ”مغل اعظم “جو طویل عرصہ تک تکمیل کے مراحل سے گزر کر 1960ء میں ریلیز ہوئی ،اس فلم کا مرکزی کردار تو شہزادہ سلیم کا انار کلی سے معاشقہ تھا تاہم یہ اپنی دیگر بے شمار خوبیوں کے باعث لازوال فلم تسلیم کی گئی اور آج بھی اس کا سحر قائم ہے ۔


دلیپ کمار اور مدھو بالا کی باہمی کیمسٹری کا اندازہ صرف ان مناظر کو دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے جنہیں دیکھ کر شائقین فلم دم بخودرہ جاتے ہیں ۔اکبر اعظم کے کردار میں پر تھوی راج شہزادہ سلیم کے روپ میں دلیپ کمار ،سنگ تراش کے کردار میں کمار اور انار کلی کی نزاکتیں اور انداز دل رُبائی لئے مدھو بالا اور جودھابھائی ملکہ کے روپ میں درگا کھوٹے نے باکمال اور لازوال اداکاری کے جو ہر دکھائے۔

اس فلم میں موسیقار اعظم نوشاد کی دھنیں ،لتا اور رفیع کے سُروں میں پیار کیا تو ڈرنا کیا ،تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں گے اور اے محبت تو زندہ باز جیسے گانوں نے فلم کو چار چاند لگادےئے ۔
کے آصف کی اس فلم کو بالی وڈ کے ماتھے کا جھو مر قرار دینا بے جانہ ہو گا۔یہ فلم بلیک اینڈ وائٹ تھی مگر بعدازاں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اسے رنگین بنا کر دوبارہ نمائش کے لئے پیش کیاگیا ۔

یاد رہے کہ فلم ”انار کلی “کے نام سے بھی 1953ء میں ایک فلم بنی تھی مگر سوائے اس کے چند گانوں کے فلم میں کوئی دوسری خوبی ڈھونڈنا مشکل ہے ،اس گانوں میں ”مجھ سے مت پوچھ ،یہ زندگی اسی کی ہے جو کسی کا ہو گیا اور دعا کر غم دل “شامل تھے ۔
تاہم اس فلم میں پردیپ کمار اور بینا رائے کی اداکاری کی تعریف نہ کرنا بہت زیادتی ہو گی ۔1960ء ہی میں ایک دوسری فلم ”چودھویں کا چاند “ریلیز ہوئی۔

یہ فلم بھی ایک گھمبیر سوشل موضوع پر بنائی گئی تھی مگر اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اس میں معیاری کامیڈی پر بھی بہت توجہ دی گئی اور جانی واکرنے مزاحیہ کردار میں باکمال اداکاری کی خاص طور پر اس کا گانا ”میرا یار بنا ہے دولہا“قابل دیداداکاری کا مظہر ہے ۔ان فلموں میں دلچسپی کے کئی پہلو تو ہیں مگر مسلمان ثقافت اور تاریخ کو تعصب کی نذر کیا گیا ہے ۔


مسلمان ہے تو شرابی اور بگڑا ہوا نواب دکھایا گیا ہے ۔خاتون کو طوائف کے روپ میں فلم بند کیا گیا ۔یہ الگ بات ہے کہ نواب کے رول میں گرودت اور طوائف کی تمام تر نزاکتیں اور ادائیں لئے وحید رحمن نے لاجواب اداکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔
فلم کے گانوں اور موسیقی نے اسے چار چاند لگا دےئے،گانے نے شکیل بدایونی نے لکھے اور انہیں سُروں سے سجایا محمد رفیع نے ان گانوں میں ٹائٹل گانے ”چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو “اور ”ملی خاک میں محبت جلا دل کا آشیانہ “کو بھلا کوئی کیسے بھلا سکتا ہے مگر جس مسلمان ثقافت کو اُجا گرکرنے کی کوشش کی گئی اس میں بہت منفی اقدار شامل تھیں۔

مثال کے طور پر نواب گھرانوں میں شراب ومجرے کا رواج یا پھر کسی نواب کی بیگم کا کسی غیر محرم شخص سے رومانس ۔
ایسا سب کچھ مسلم ثقافت کا کسی صورت مظہر نہیں ۔”جہاں آراء “کے نام سے ایک فلم 1964ء میں ریلیز ہوئی جس کا بنیادی مقصد مسلمان حکمرانوں کے آداب وروایات کو اُجا گر کرنا تھا مگر فلم کے موضوع سے ہٹ کر مسلمان اور بادشاہوں کے ادوار میں خانگی حالات کیا ہوتے تھے اُن پر فوکس رکھا گیا ۔

فلم میں مالاسنہا شا ہجہاں کی بہن کے روپ میں خوب جچیں اور خاس طور پر ان کے مکالمے بولنے کا انداز اُردو زبان کی سماعتی خوبیوں کو مزید اُجا گر کرتا ہے۔ایک اور کوشش کی گئی کہ ایسی روایت جو کسی طرح بھی اسلامی قرار نہیں دی جا سکتی کو بھی فلموں میں اجا گر کرنے کی کوشش کی گئی کہ مغل گھرانوں میں شہزادیاں شادی نہیں کرتیں ۔
درحقیقت ساری فلم کی کہانی اس ناپسندیدہ روایت کی بنیاد پر لکھی گئی تھی ۔

شہزادی جھرنا (مالاسنہا)نے بھی اپنی ساری زندگی اپنے بھائی کی دیکھ بھال کے لئے مختص کر رکھی تھی کیونکہ ملکہ ممتاز محل کے انتقال کے بعد بادشاہ کے قریب ترین صرف اس کی بہن جھرنا ہی تھی ۔بعض ناقدین کی رائے ہے کہ شہزادی جھرنا کے کردار کو فلم کی ضرورت کے تحت اُلٹ پلٹ کیا گیا جو حقیقت سے بہت دورہے ۔قارئین آپ کو یا د ہو گا کہ اس فلم کی ریلیز کچھ پہلے یعنی 1963ء میں ”تاج محل“کے نام سے بھی ایک فلم منظر عام پر آئی تھی جس کی کہانی ممتاز محل اور شاہ جہاں کے رومانس سے متعلق تھی ۔


اس فلم کے مکالمے اور ملبوسات تو لائق تحسین تھے ہی مگر جس چیز نے اسے کامیاب کرایا وہ تھا اس کا میوزک ۔مثال کے طور پاگانے ”جو بات تجھ میں ہے تیری تصویر میں نہیں ”اور “جوو عدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا “۔متذکرہ بالا دونوں فلموں میں جس طرح محلاتی سازشوں کو اُجا گر کیا گیا اس سے مسلمان معاشرے کے بارے میں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا 1972ء میں ریلیز ہوئی فلم ”پاکیزہ“جسے لکھنوی تہذیب کی جھلکیاں دکھانے کی غرض سے بنایا گیا تھا اور یہ مقصد بہت حد تک حاصل بھی ہو گیا تھا ۔

فلم کی کہانی ایک طوائف کے گرد گھومتی ہے جو شدید خواہش رکھتی ہے کہ اس سے محبت کی جائے اور معاشرہ اسے قبول کرے ۔کوٹھوں پر مجرہ سُننے جانا تو معزز افراد کے لئے روز مرہ شغل ہے ،جب شہر سوتا ہے تو طوائفوں کے کوٹھوں پر رُت جگا کا سماں ہوتا ہے ۔
اس فلم کی کہانی ،اس کے مکالمے اور اُن کی ادائیگی لا جواب تھی ۔مینا کماری نے اس فلم میں اپنی ماں کا کردار بھی خود کیا تھا اور وہ اداکاری کی معراج پر دکھائی دیں ۔

طوائف کے کردار تین اداکاراؤں نے کئے ہیں ۔مینا کماری نے ”پاکیزہ “،ریکھا نے ”مقدر کا سکندر “اور ”امراؤ جان “اور مادھوری ڈکشٹ نے
”دیوداس “میں ۔ان عظیم فنکاراؤں نے اپنی اداکاری سے طوائف کے کردار کو ایک مقام دلوادیا۔ فلم ”پاکیزہ“میں دیگر اداکاروں نے بھی کمال کی اداکاری کی جن میں اشوک کمار ،راج کمار ،راگنی اور کمال کپور شامل تھے ۔


اس فلم کا یہ مکالمہ تو زبان زد عام، تھا”آپ کے پاؤں دیکھے ،بہت حسین ہیں انہیں زمین پر مت اتارےئے گا میلے ہو جائیں گے ۔“اپنے پہلے رول میں مینا کماری نرگس بنی جو ماں کا رول تھا اور بیٹی کے کردارمیں وہ صاحب جان بنیں ۔یہاں فلم کے گانوں کا تذکرہ نہ کرنا بہت زیادتی ہو گی ۔یوں تو اس فلم کے سبھی گانے کمال تھے مگر ”انہی لوگوں نے لے لیا دوپٹہ میرا ،تھاڑے رہیو اوبانکے یا ر ،موسم ہے عاشقانہ اے دل کہیں سے اُن کو ڈھونڈ لانا“خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔

کمال امروہوی نے کہانی اور مکالمے لکھے تو گویا قلم توڑ دیا۔1977ء میں فلم ”شطر نج کے کھلاڑی “ریلیز ہوئی جس کی کہانی اس دور پر محیط ہے جب ہندوستان کی ریاست اودھ (Awadh) کے نواب کا انگریزوں نے تختہ اُلٹ دیا تھا۔نواب واجد علی شاہ کا کردار عظیم اداکار امجد خان نے کمال مہارت سے ادا کیا ۔اس کے ساتھ ساتھ فلم میں دو سفید پوش افراد کی کہانی بھی چلتی ہے ۔


جو شطر نج کے کھیل سے دیوانگی کی حد تک پیار کرتے ہیں ،ان میں سے ایک کردار مرزا ساجد علی کا ہے جو سنجیو کمار نے کیا جبکہ دوسرا کردار میر روشن علی کا ہے جسے سعید جعفری نے بخوبی نبھایا۔خورشید کے کردار میں شبانہ اعظمی نے اداکاری کی ۔ہالی وڈ اداکار Richard Attenboroughنے برطانوی جنرل جیمز کا کردار کیا۔ہر چند کہ یہ بھی باکس آفس پر ایک کامیاب فلم تھی مگر لکھنوٴ کی ثقافت کی کئی روایات توڑ مروڑ کر پردہ سکرین پر پیش کی گئیں ۔

بھارت میں بنے والی بے شمار فلمیں مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں ۔
بالی وُڈ کے تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے ہے کہ جب سے فلمی دُنیا پر ہندوانتہا پسند جماعتوں نے اثرورسوخ حاصل کیا ہے تب سے مسلمانوں کو منفی طور پر مبنی کرداروں میں دکھایا جانے لگا ہے ۔ایک اَن پڑھ معاشرے میں عوام کے روبرو مسلمانوں اور ان کی ثقافت کا یوں مذاق اڑانا ایک باقاعدہ تحریک کا حصہ رہا ہے اور جب سے بی جے پی کو اقتدار ملا ہے صورتحال اور بھی ابتر ہو گئی ہے ۔

یہ در حقیقت مذہبی جنون کی روشن ہے جو باعث تکلیف ہے ۔
اس تصور کو اس امر سے اور بھی تقویت ملتی ہے کہ 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں بننے والی سینکڑوں فلموں میں سے پانچ بھی ایسی نہیں ہوں گی جن کا ولن کوئی مسلمان کریکٹر ہو ۔یہ احساس صرف مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ بھارت میں رہنے والی غیر جانبدار قوتیں بھی اس صورت حال سے شدید پریشان ہیں ۔

ایک فلم بنی تھی ”سلم ڈاگ ملینئر“جس میں ہندوستانی معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے غربت اور عصمت دری کے مناظر دکھائے گئے جس پر سخت احتجاج ہوا ۔
یہ امر تو ایک حقیقت ہے کہ فلموں میں مذہب کو بنیاد بنا کر کہانی نہیں لکھی جانی چاہئے ۔1960ء میں ”چودھویں کا چاند “1963ء میں ”میرے محبوب“1967ء میں “بہو بیگم“اور1972ء میں ”پاکیزہ “جیسی فلموں میں مسلم معاشرے کو اتنا منفی نہیں دکھایا گیا تھا لیکن 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے اوائل میں رائٹ ونگ (انتہا پسند )تنظیموں نے تو جیسے بالی وڈ پر قبضہ کر لیا ۔


کیمرے کی آنکھ سے مسلمانوں کو عام طور پر اور پاکستانیوں کو خاص طور پر منفی انداز سے دکھایا جانے لگا اور زہر آمیز فلموں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جن میں بمبے ،فضا ،اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو،کمپنی ،انڈر ورلڈ اور انکاؤنٹر جیسی فلمیں شامل تھیں ۔ان کے علاوہ فلم غدر ،ایک پریم کتھا اور مشن کشمیر جیسی فلموں میں بھی اسلام کا مسخ شدہ چہرہ دکھایا گیا ۔ایسی فلموں میں ولن کو ہندوستان کے خلاف نعرے بازی کرتے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو انتہائی منفی انداز میں پردہ سکرین پر دکھا کر ہندوؤں کو اُکسانے کی کوشش تسلسل سے کی جاتی رہی ہے اور جو

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments