شہنشاہ ظرافت منور ظریف قسط 2

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ ساکہیں جیسے فی البدیہہ مکالموں اور نقالی میں انھیں ملکہ حاصل تھا

ہفتہ اپریل

shenshah zarafat Munawar zareef qist 2
 غزالی
لوگوں کو ہنسانا ایک فن ہے اور یہ فن ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔فلم سے پہلے تھیٹروں میں مزاحیہ اداکار لوگوں کو ہنسانے کے لئے یہ کردار کیا کرتے تھے ۔آہستہ آہستہ ترقی ہوئی تو فلم کا دور شروع ہو گیا۔آغاز میں آواز کے بغیر فلمیں بنتی تھیں ۔ہالی وڈ کے اہم مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن نے اپنی صرف حرکات وسکنات کے ذریعے اپنے مزاحیہ کرداروں میں وہ جان ڈالی کہ دیکھنے والے لوٹ پوٹ ہو گئے پھر جب آواز والی فلمیں بننا شروع ہوئیں تو فلم میں کچھ حصہ مزاح کے لئے رکھا جانے لگا۔


آہستہ آہستہ ایسا دور بھی آیا کہ پوری کی پوری فلم مزاحیہ رنگ میں بنی جس میں تمام اداکار مزاحیہ کاسٹ کیے گئے۔ہماری پاکستانی فلم انڈسٹری جو اس وقت شدید زوال کا شکار ہو چکی ہے ایک وقت تھا کہ صرف لاہور میں پانچ سٹوڈیو تھے جن میں دن رات فلموں کی شوٹنگز ہوتی تھیں ۔

(جاری ہے)

آج وہی سٹوڈیو ز اپنی شکلیں بدل چکے ہیں ،ان میں کئی سٹوڈیو پلازوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں تو کہیں کاروں کی ورکشاپس بن چکی ہیں۔


ہماری فلم انڈسٹری کے عروج کے دور میں منور ظریف ایک ایسا مزاحیہ فنکار ہماری فلم انڈسٹری کو ملا جس کی فلموں میں آمد سے پہلے نہ کوئی ایسا فنکار آیا اور نہ ہی اس کے بعد آج تک کوئی فنکار پیدا ہوا جو اس پائے کا ہو۔منور ظریف 25دسمبر 1940ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ،گوجرانوالہ سے یہ سارا خاندان لاہور منتقل ہو گیا۔منور ظریف کا اصل نام محمد منور تھا اور منور ظریف سے پہلے ان کا بڑا بھائی ظریف فلموں میں مزاحیہ کردار کیا کرتا تھا لیکن وہ بہت تھوڑی عمر میں اللہ کو پیارا ہو گیا ۔

منور ظریف کے والد کسی سر کاری ادارے میں آفیسر تھے ۔منور نے 1960ء میں پہلی فلم ”ڈنڈیاں“میں کام کیا۔
منور ظریف کے فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے اداکارز لفی ،نذر،ایم اسماعیل ،ظریف اور نرالا جیسے قد آور مزاحیہ اداکاروں کا فلم انڈسٹری میں طوطی بولتا تھا لیکن منور ظریف کے فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے پر مذکورہ لوگ ماند پڑگئے اور فلم ساز منور ظریف کو زیادہ سے زیادہ فلموں میں کاسٹ کرنے لگے کیونکہ ان کی بے ساختہ مزاحیہ اداکاری اور مکالمے فلم بینوں کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے تھے۔

ان کی سکرین پر انٹری سے سارا ہال تالیوں سے گونج اُٹھتا تھا۔اداکار رنگیلا کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا۔”رنگیلا اور منور ظریف “اور ”پردے میں رہنے دو“جیسی بڑی فلمیں عوام میں ایسی مقبول ہوئیں کہ پاکستان کے ہر شخص کی زبان پر منور ظریف کا نام آگیا۔
اس عظیم فنکار نے پاکستان کی ہر بڑی اداکارہ کے ساتھ اپنے فن کے جوہر دکھائے جن میں اداکارہ آسیہ،فردوس،ممتاز،صاعقہ،نبیلہ ،تانی ،زمرد اور سنگیتا قابل ذکر ہیں ۔

ہدایت کار منور ظریف اور رنگیلا کو کیمرہ ”آن“کرکے کہہ دیتے تھے کہ آپ کے جی میں جو چاہے آئے بولتے جائیں البتہ مکالمے سین کے مطابق ہوں ۔ایسے فنکار کی خوب صورت اداکاری کودیکھ کر فلم انڈسٹری کے بڑوں نے اُسے ”شہنشاہ ظرافت“کے خطاب سے نوازا۔
اس لچنڈ فنکار کے چاہنے والے بر صغیر میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں کیونکہ ہندوستان کی فلموں میں منور ظریف کو کاپی کرنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن کسی اداکار سے اس کی کاپی نہیں ہو سکی ،انہیں پردہ سیمیں پر دیکھ کر لوگ مسرت محسوس کرتے تھے ،خواتین بھی ان کی فلمیں بہت شوق سے دیکھتی تھیں ۔

منور ظریف نے اپنے ہر کردار کے ساتھ انصاف کیا۔دھوتی کرتہ ،شلوار قمیض اور پینٹ شرٹ میں ملبوس ہر کردار میں وہ خوب جچتے تھے۔
نوکرووہٹی دا،شیداپستول،اصلی تے نقلی ،بنارسی ٹھگ ،جیرابلیڈ ،بد تمیز ،اج دا مہینوال ،گامابی اے،حکم دا غلام ،نمک حرام ،بندے دا پُتر ،خوشیا،چکر باز،میراناں پاٹے خاں ،کل کل میراناں ،جانو کپتی ،شریف بدمعاش ،شوکن میلے دی ،ڈاچی ،لچھی ،ہیرا پھمن،ایماندار ،سند باد ،جاپانی گڈی ،طوطا چشم ،دھن جگراماں دا ،بہار و پھول برساؤ ،سجن کملا ،سی آئی ڈی ،اَج دی گل ،انجام ،اُستاد شاگرد ،مستانی محبوبہ ،ریشماں تے شیرا،ہسدے آؤ ہسدے جاؤ،شرارت،بھول،بات پہنچتی تیری جوانی تک،میری زندگی ہے نغمہ ،خوفناک ،میرانام راجہ،امن اور چنگاری،زینت اور نیلم جیسی کامیاب فلموں میں کام کرکے اپنے آپ کو امر کرنے والے اداکار منور ظریف نے تقریباً ساڑھے تین سو فلموں میں کام کیا۔


وہ چار بھائی تھے۔ظریف ،منور ظریف ،مجید ظریف اور منیر ظریف ،ان چاروں بھائیوں نے فلموں میں کام کیا اور عوام الناس سے خوب پذیرائی حاصل کی۔منور ظریف نے پاکستان کے ہر بڑے اداکار کے ساتھ کام کیا جن میں سد ھیر، یوسف خان،اکمل ،اعجاز ،سلطان راہی،مظہر شاہ،وحید مراد ،محمد علی ،شاہد ،ندیم ،حبیب اور ننھا شامل ہیں ،ہر بڑے فنکار کی کئی دوسرے فنکاروں نے نقل کی لیکن منور ظریف کی نقل کرنے والے اداکار کامیاب نہیں ہو سکے ۔

ان کے بیٹے فیصل ظریف نے بھی ایک فلم”پتر منور ظریف دا“میں بطور ہیرو کام کیالیکن وہ فلمیں دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
فلم بینوں کے چہرے پر قہقہوں کا طوفان برپا کرنے والے منور ظریف کی اپنی مُسکراہٹ بھی دل موہ لینے والی تھی ۔وہ عورت کا کردار اتنی خوبصورتی سے کرتے تھے کہ دیکھنے والے کو عورت کاگمان ہو نے لگتا ۔فی البدیہہ مکالمے اور جوان و بوڑھی عورت کی آواز بڑی مہارت سے نکالتے تھے۔

فلمی دنیا کے اُفق پر راج کرنے والے اس عظیم فنکار کی مزاحیہ اداکاری پرسیٹ پر موجود سب لوگ ہنس پڑتے تھے ۔اداکار بابرہ شریف نے جب فلم دُنیا میں قدم رکھا تو منور ظریف بابرہ شریف کی زُلفوں کے اسیر ہو گئے ۔
گوکہ منور ظریف پہلے سے شادی شدہ تھے لیکن بابرہ شریف کی خوب صورتی پر مرمٹے۔بابرہ شریف نے منورظریف کو مسلسل نظر انداز کئے رکھا جس کی وجہ سے منور ظریف نے کثرت سے شراب نوشی شروع کر دی اور آخر کار 29اپریل1976ء کو مزاح کی دُنیا کا اتنا بڑا فنکار اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔


اپنے سولہ سالہ فلمی کیرےئر میں منور ظریف نے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جنہیں فلمی تاریخ کبھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔پاکستان فلم انڈسٹری کے صفِ اوّل کے مزاحیہ اداکارکے سوگواران میں ایک بیوہ کاایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں ۔منور ظریف کو لاہور میں دفن کیا گیا،ان کے جنازے میں اداکاروں کے علاوہ لاہور کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments