جی ڈھونڈتاہے پھر وہی فلموں کے رات دن

منڈواسے سینما تک کراچی کے بیشتر سینما اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں

منگل جون

Ji dhondta Hai phir wohi filmon k raat din
 ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی
2013ء میں بر صغیر پاک وہندمیں فلم سازی کی صنعت کے سوسال مکمل ہوئے۔پہلی فیچر فلم بمبئی اب(ممبئی)کے ایک پارسی دادابھائی پھالکے نے ”راجہ ہریش چندر“کے نام سے 1913ء میں بنائی تھی۔یہ ایک خاموش فلم تھی،پھر پہلی بولتی فلم ”عالم آراء“بھی ایک پارسی فلم ساز وہدایت کار اردیشرایرانی نے بنائی جو 1913ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔

ہندوستان میں”فلم صدی“زور وشور سے منائی گئی۔ہم نے سوچا ہم بھی کچھ پرانی یادیں تازہ کرلیں۔
غالب نے اپنے پسندیدہ مشغلے کے حوالے سے کہا تھا:
تریا کی قدیم ہوں دودچراغ کا
ہم نے بھی ایک شوق بچپن ہی میں پال لیا تھا جو تقریباً ادھیڑ عمر تک عملاً جاری رہا۔اس کے بعد جب ایک طرف زمانے کے انداز بدلے اور دوسری طرف جوانی کا اُبال اعتدال پر آنے لگا تو شوق غائب ہو گیا لیکن کچھ انمٹ یادیں چھوڑ گیا جن میں آج اپنے قارئین کو شریک کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی کیا ہمار ی عمر کے جتنے بھی آثار قدیمہ آج تبر کا پائے جاتے ہیں،گئے وقتوں میں ان سب کا ایک ہی پیٹنٹ مشغلہ تھا یعنی فلم بینی جس کے وافر مواقع کراچی اور اس کے مضافات میں اسی طرح دستیاب تھے جیسے آج شہریوں کو جگہ جگہ اسلحہ اور منشیات کی سہولتیں حاصل ہیں۔جب ہمارا یہ خوب صورت اور پُرامن شہر کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہونے لگا،گھر گھروی سی آر،ڈی وی ڈی،ٹی وی ،نیٹ چیٹنگ کا رواج عام ہوا ،ساحل سمندر،فارم ہاؤسز اور مزار قائد”بنیادی تفریحی مراکز“قرار پائے تو سینما گھر زمین بوس ہوتے گئے اور ان کی جگہ فلک بوس پلازے کھڑے ہونے لگے۔


ہماری فلم بینی تقسیم ہندسے قبل ہی شروع ہوگئی تھی جب ہم نے اپنے بڑے بہن بھائیوں کے ساتھ دہلی میں 1947ء میں ”رتن“دیکھی تھی۔اس وقت ہماری عمر لگ بھگ چھ سال ہی ہوگی۔
1944ء میں بنی ہوئی اس فلم کا ہیروکرن دیوان اور ہیروئن سورن لتا تھی۔یہ ایک المیہ فلم تھی جس کا ایک گیت ”انگڑائی تری ہے بہانہ “بہت مشہور ہوا تھا۔فلم کے اختتام پر ہیروئن مرجاتی ہے۔

ہمیں آج تک یاد ہے کہ اس کے سوگ میں ہماری بڑی ہمشیرہ نے گھر آکر رات کا کھانا نہیں کھایاتھا کہ ابھی تو اس بچاری کی ارتھی بھی نہیں اُٹھی ہوگی ۔اس زمانے میں سینما ہال کو ہائی سکوپ یا منڈوا کہا جاتا تھا اور چونکہ اس میں ناچ گانے ہوتے تھے اس لیے شرفاء کے بچے یا تو چھپ چھپا کر یا بزرگوں سے”خصوصی پرمٹ “
حاصل کرکے اُدھر کا رُخ کرتے تھے خود بیشتر سخت گیر اور تقدس مآب بزرگوں کے اپنے کیا شریفانہ مشاغل تھے،یہ عرض پھر کروں گا۔


آزادی کے فوراً بعد جب ہمارا خاندان کچھ عرصے لاہور میں قیام کے بعد کراچی آیا تو ہمارا گھر ایمپائر (بعد میں قسمت)ٹاکیز(مشن روڈ)کے قریب واقع تھا۔1949ء میں یہاں ناصر خان اور شمیم کی فلم”شاہدہ “چل رہی تھی ۔کراچی کا یہ واحد سینما گھر تھا جس کا پروجیکشن روم پیچھے سڑک کی جانب تھا۔گرمی سے بچانے کی خاطر اس پر لوہے کی قینچی ٹائپ گرل کا دروازہ تھا ،لڑکے بآسانی اس پر چڑھ جاتے تو سکرین 90ڈگری کے زوایے سے ان کے سامنے ہوتی تھی ۔

ہم نے بھی اسی طرح پریم ناتھ،ریحانہ اور گوپ کی قہقہہ آدرفلم”سکائی“بغیر ٹکٹ دیکھ لی تھی۔آپریٹر حضرات اس پر اعتراض نہیں کرتے تھے لیکن جب یہ مفت خورے آپس میں اُلجھ پڑتے تو سب کو بھگا دیا جاتا تھا ۔اب اس سینماکی جگہ فلیٹس تعمیر ہو چکے ہیں۔
1950ء میں جب ہم پانچویں کے طالب علم تھے تو ہمارے ایک ہم جماعت ایک دن سکول میں چھٹی کی درخواست دے کر ہمیں رٹزسینما میں فلم”چھوٹی بھابھی“دکھانے لے گئے جس میں کرن دیوان اور نرگس نے ہیرو،ہیروئن کے کردار ادا کئے تھے۔

رٹز سینما ہمیں اس لیے بھی یاد رہے گا کہ یہاں ہم نے 1954ء کی بنی ہوئی اپنے من پسند ہیرودیوآنند کی فلم”ٹیکسی ڈرائیور“11مرتبہ دیکھی تھی۔اس فلم کا ایک گانا”جائیں تو جائیں کہاں “جسے طلعت محمود نے اپنی پُر سوز آواز میں گایا تھا بچے بچے کی زبان پر تھا۔فلم کی ہیروئن کلپناکارتک تھی جو بعد میں دیوآنند کی بیوی بنی۔
اس فلم میں شیلا رامانی نے کلب ڈانسر کاز بردست کردار ادا کیا تھا۔

شیلا رامانی 1956ء میں کچھ عرصے کے لئے پاکستان آئیں اور یہاں انہوں نے پاکستانی ہیروشاد کے ساتھ فلم ”انوکھی“میں ہیروئن کا رول ادا کیا۔”انوکھی“سے لہری نے بحیثیت کا میڈین اپنے کیرےئرکاآغاز کیا تھا ۔اس فلم کا ایک گانا”گاڑی کو چلانا با بوذرا ہلکے ہلکے ہلکے“بہت مقبول ہوا تھا۔یہ فلم پلازہ سینما میں لگی تھی۔اب رٹز پر مارکیٹ تعمیر ہو چکی ہے اور پلازہ مسمار حالت میں پڑا ہوا ہے۔


ہمارے شوق فلم بینی(کاش ہم کتب بینی لکھتے)کو ہمارے ایک ہم جماعت عبدالسلام نے مہمیز بخشی۔وہ ایک دھنی فلم بین تھے لیکن کبھی اکیلے نہیں جاتے تھے۔نہ جانے کس طرح ہمارے اور ان کے ستارے مل گئے(الحمداللہ ساٹھ سال سے آج تک ملے ہوئے ہیں)مشکل یہ تھی کہ ہمیں جو جیب خرچ ملتا تھا اس میں آلو چھولے کھانے کے بعد کچھ نہیں بچتا تھا۔سلام صاحب نے یہ مسئلہ یوں حل کیا کہ ہمارا ٹکٹ بھی ہمیشہ وہی خریدتے تھے ۔


ٹکٹوں کی شرح یہ تھی تیسرا درجہ 6آنے ،دوسرا درجہ 12آنے،پہلا درجہ ایک روپے دو آنے ،باکس آفس دور وپے چار آنے اور گرینڈسرکل تین روپے چھ پیسے۔اب ہم نے سلام صاحب کے ساتھ ”باقاعدہ“سکول سے بھاگ کر فلمیں دیکھنا شروع کیں۔پہلی فلم تاج محل سینما میں ناصر خان ،مدھو بالا اور اوم پر کاش کی ”نازنین“دیکھی جو ایک دلچسپ کا میڈی فلم تھی ۔پھر تو حال یہ ہو گیا کہ :
تھمتانہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
یہ تقریباً تین عشروں تک ہم”فلمیریا“کے مرض میں مبتلا رہے۔

لیکن سینما ہال میں ضائع ہونے والے وقت کی تلافی ہم زیادہ پڑھ کر کرلیتے تھے جبکہ سلام صاحب کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کے قائل نہ تھے۔ان کے طرز عمل پر1962 ء کی فلم ”ہم دونوں (دیوآنند اور نندا)میں رفیع کے گائے ہوئے ایک گیت کے یہ بول صادق آتے تھے:
جومل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا
جو کھو گیا میں اس کو بھلاتا چلا گیا
تاج محل سینما بھی اب آنجہانی ہوچکا ہے ۔

جوبلی سینما دوسری جانب ہمارے گھر سے زیادہ قریب تھا یہاں ہم نے سب سے پہلی فلم ریحانہ اور سوہن لال کی”لاجواب“دیکھی تھی۔اس فلم کا ایک گیت ”زمانے کا دستور ہے یہ پرانا“بہت مشہور ہوا۔اسی سینما میں اپنے وقت کی عظیم فلمیں”ساقی “اور ”بادل“لگیں جن میں پریم ناتھ اور مدھو بالا ہیروہیروئن تھے۔یہیں ہندوستانی فلم”جال“(دیوآنند اور گیتا بالی)کی نمائش ہوئی جس کے خلاف 1954ء میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے ایک زور دارتحریک چلائی جس کی قیادت ڈبلیوزیڈاحمد،شوکت حسین رضوی اور سیف الدین سیف نے کی تھی ۔

اداکاروں ،ہدایت کاروں ،موسیقاروں اور فلمی صنعت سے وابستہ دیگر افراد سے لاہور کی جیلیں بھر گئی تھیں۔بہر حال تحریک کامیاب ہوئی اور حکومت کو معاہدہ کرنا پڑا کہ ایک (دوسرے درجے کی)ہندوستانی فلم کے بدلے ایک پاکستانی فلم برآمد کی جائے گی۔جوبلی سینما کا ا ب وجود نہیں۔
جوبلی کے بالکل سامنے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سینما گھر وں کی ایک طویل قطار پائی جاتی تھی۔

ان میں ریوالی،کوہ نور(جو پہلے ایلائٹ تھیٹر تھا)ایروز،افشاں ،قیصر ،نشیمن اور گوڈین سینما شامل تھے۔اب افشاں اور نشیمن کے علاوہ سب بند ہو چکے ہیں۔ایم اے جناح روڈ پر پرانی نمائش سے کیماڑی تک 13سینما گھر تھے یعنی کیپری ،پرنس ،ناز ،نشاط،پلازہ ،رٹز،میجسٹک ،محفل ،پکچر پاؤس(یہ بندر روڈ کی ایک گلی ٹھٹائی کمپاؤنڈ میں واقع تھا)لائٹ ہاؤس ،نگینہ کیماڑی اور بدر (جیکسن روڈ)جو اس سمیت میں کراچی کا آخری سینما تھا۔


میجسٹک سینما پر اللہ والا مارکیٹ کی تعمیر کے بعد اس میں دو چھوٹے سینما ہاؤس ”کنگ“اور”کوئین “بنے۔تاہم اب نشاط ،کیپری اور پرنس کے علاوہ سب ختم ہوگئے ہیں ۔نگینہ میں ہم نے سریش اور وجنتی مالا کی فلم”یاسمین“دیکھی تھی۔نازسینما کو شُہرت ہدایت کار محبوب کی فلم”آن“سے ملی۔دلیپ کمار ،پریم ناتھ،نادرہ اور نمی کی یہ فلم1952ء میں ریلیز ہوئی تھی اور تماش بینوں کو اس کا اتنی شدت سے انتظار تھا کہ بہت سوں نے ریلیز سے ایک رات پہلے ہی لائنوں میں بستر لگالیے تھے۔

Your Thoughts and Comments