آبروئے موسیقی شہنشاہ غزل مہدی حسن

تم کو ایک شخص یاد آئے گا لتامنگیشکرنے ان کی گائیکی کو”بھگوان کی آواز“قرار دیا تھا

منگل جون

Abroye mousiqi shehenshah e ghazal mehndi hassan
 وقاراشرف
مہدی حسن کا شمار برصغیر پاک وہند کے نامور غزل گائیکوں میں ہوتا ہے اور انہیں بجا طور پر شہنشاہ غزل کہا جاتا ہے۔18جولائی 1927ء کو ہندوستان کے شہر جودھ پور کے ایک گاؤں لونا میں آنکھ کھولنے والے مہدی حسن 13جون 2012ء کو 84سال کی عمر میں راہی ملک عدم ہو گئے تھے۔وہ کلاونت گھرانے کی سولہویں پیڑھی سے اپنا تعلق بتایا کرتے تھے ۔مہدی حسن نے گائیکی کی ابتدائی تربیت اپنے والد اُستاد عظیم خان اور چچا اُستاد اسماعیل خان سے حاصل کی جو دونوں روایتی دھرپدگائیک تھے۔


اس کے علاوہ بڑے بھائی پنڈت غلام قادر نے بھی ان کی گائیکی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔قیام پاکستان کے وقت بیس سالہ مہدی حسن اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور چیچہ وطنی کے قریب سکونت پزیر ہوگئے ۔

(جاری ہے)

اس دوران ان کے خاندان کو شدید مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس سے نمٹنے کے لئے مہدی حسن نے ایک سائیکل شاپ پر بھی کام کیا پھر کار اور ڈیزل ٹریکٹر مکینک کے طور پر بھی محنت کرکے اپنی فیملی کی کفالت کی لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود ریاض ترک نہیں کیا اور مشکل راگوں کی روزانہ کی بنیاد پر مشق جاری رکھی۔


1957ء میں انہیں ریڈیو پاکستان پر بطور ٹھمری گائیک گلوکاری کا موقع ملا ،ان کی پہلی غزل جو ریڈیو پر مشہور ہوئی وہ میر تقی میر کی مشہور زمانہ غزل”دیکھ تو دل کہ جان سے اُٹھتا ہے“تھی جس سے انہیں کافی پہچان ملی اور آگے چل کر وہ غزل گائیکی کے آسمان پر جگمگائے۔1956ء میں فلموں کے لئے پلے بیک سنگنگ شروع کی جب ایک فلم”شکار“کے لئے گیت”نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچانہ ہوجائے“گایا جس کے شاعر یزدانی جالندھری تھے اور اس کی دُھن موسیقار اصغر علی ،محمد حسین نے ترتیب دی تھی۔

اسی فلم کے لیے انہوں نے یزدانی جالندھری کا لکھا ایک اور گیت”میرے خیال وخواب کی دُنیا لیے ہوئے پھر آگیا کوئی رُخ زیبا لیے ہوئے“بھی گایا تھا۔
مہدی حسن نے اگر چہ 8سال کی عمر میں خود کو کلاسیکی موسیقی میں متعارف کروالیا تھا لیکن اس سفر کا باقاعدہ آغاز1952میں ریڈیوپاکستان کراچی سے کیا۔60ء اور70ء کی دہائیوں میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔

پچیس ہزار سے زیادہ فلمی وغیر فلمی گیت اور غزلیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔سنتوش کمار،درپن،وحید مراد اور محمد علی سے لے کر ندیم اور شاہد تک ہر ہیروپر مہدی حسن کے گائے ہوئے گیت فلمائے گئے تھے۔
انہوں نے مجموعی طور پر نے 441کے لگ بھگ فلموں کے لیے گانے گائے اور فلمی گیتوں کی تعداد 626ہے جن میں اردو فلموں کی تعداد 366ہے جن میں 541گیت گائے جبکہ 74پنجابی فلموں میں82 گیت ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

1962ء سے 1989ء تک وہ مسلسل پلے بیک سنگنگ کرتے رہے۔پھر انہوں نے شدید بیماری کے باعث پلے بیک گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔اداکارمحمد علی پر ان کے سب سے زیادہ گانے فلمائے گئے جن کی تعداد سو سے زائد تھی۔
ایک فلم”شریک حیات“1968ء میں وہ خود بھی پردئہ سیمیں پر نظر آئے تھے۔1964ء میں فلم”فرنگی“کے لئے فیض احمد فیض کی لکھی ہوئی غزل ”گلوں میں رنگ بھرے“گائی تو پاکستان فلم انڈسٹری میں ان کا ڈنکا بجنے لگا جس کے بعد پھر انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اس غزل کو رشید عطرے نے کمپوز کیا تھا۔

مہدی حسن کے البمزکی ایک وسیع تعداد ہے جن میں کہنا اسے ،نذرانہ ،انداز مستانہ ،کلاسیکل غزل والیم ایک دوتین ،غالب کی غزلیں،گولڈن گیت،کھولی جو آنکھ،لائف سٹوری ،صدائے عشق،سرحدیں ،دی لچنڈ،یادگار غزلیں والیم ون،نقش فریادی اور دیگر نمایاں ہیں۔
ان کی گائی ہوئی غزلیں عوام میں بے حد مقبول ہوئیں جن میں ”عالم خواب ہو یا ،آگے بڑھے نہ قصہ عشق بتان سے ہم،آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر ،آنکھوں سے ملی آنکھیں ،آپ کی آنکھوں نے ،اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ،اپنوں نے غم دیا تو یاد آگیا،بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی،بھیگی ہوئی آنکھوں کا،چلتے ہوتو چمن کو چلئے ،چراغ طور جلاؤبڑا اندھیرا ہے ،دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے ،دل میں طوفان چھپائے بیٹھا ہوں ،دُنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں ،اِک بار چلے آؤ،غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا،غیر بن کے نہ ملیں ہم ،ہمیں کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے ،ہماری سانسوں میں آج،اِک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا،جب کوئی پیار سے بلائے گا،تم کو اِک شخص یاد ٓآئے گا اور دیگر آج بھی زبان زدعام وخاص ہیں۔


کئی دہائیوں پر مُحیط گائیکی کیرےئر کے دوران انہیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔1985ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں تمغہ حُسنِ کار کردگی سے نوازا تھا،اس سے قبل جنرل ایوب خان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازاجس کے بعد ہلال امتیازاور نشان امتیاز بھی ان کے حصے میں آئے۔1983ء میں نیپال میں گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ انہیں دیا گیا۔1979ء میں جالندھر انڈیا میں کے ایل سہگل ایوارڈ بھی ان کے نام کیا گیا۔

ان کے علاوہ بھی بے شمار ایوارڈز ان کے حصے میں آئے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز نے جولائی2001میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازاتھا۔ بطور پلے بیک گلوکار انہوں نے بے شمار نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کئے جن میں 1964ء میں فلم فرنگی،1968ء میں فلم صائقہ،1969ء میں فلم زرقا،1972ء میں فلم میری زندگی ہے نغمہ،1973ء میں فلم نیا راستہ،1974ء میں فلم شرافت،1975ء میں فلم زینت،1976ء میں فلم شبانہ،1977ء میں فلم آئینہ پر ملنے والا نگار ایوارڈ شامل ہے۔

فلمی موسیقی میں انہیں احمد رُشدی کے بعد دوسرے پسندیدہ ترین گلوکار کا درجہ حاصل رہا۔
مہدی حسن کی گائیکی پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور دیگر ممالک میں بھی یکساں مقبول تھی۔بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیکی کو”بھگوان کی آواز“سے منسوب کیا تھا۔
بیرونی دُنیا میں ان کے احترام کا یہ عالم تھا کہ نیپال کے شاہ بریندر اان کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

مہدی حسن ایک سادہ طبیعت انسان تھے اور بعض اوقات بات سیدھی منہ پر کردیا کرتے تھے ۔ان کے انتقال کے بعد انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کے ایک عہد یدار نے اعلان کیا تھا کہ راجستھان میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں ان کا کانسی کا مجسمہ نصب کیا جائے گا اور ایک سڑک بھی ان کے نام سے منسوب کی جائے گی۔
وہ پھیپھڑوں کے عارضے کے باعث 13جون2012ء کو آغاخان ہسپتال کراچی میں انتقال کر گئے تھے ،ان کے 14بچوں میں سے 6میوزک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ ان کے شاگردوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔بعد میں غلام عباس ،سلامت علی ،آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے شاگردوں نے ان کے طرزگائیکی کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments