بالی وڈ بھی انتہا پسند مودی کی ہمنوا

مقبولیت ،جان اور کیرےئر کے تحفظ کیلئے گجرات کے قصاب کے ہمرکاب

بدھ جون

Bollywood Bhi Inteha Pasand Modi KE Humnawa
 خالد بہزاد ہاشمی
حالیہ بھارتی انتخابات میں گجرات کے قصاب اور مسلمانوں کے خون کے پیاسے مودی کی دوبارہ جیت نے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ملک کے چہرے سے نقلی نقاب اُلٹادیا ہے جس کے نیچے مودی کے خون آشام چہرے اور بھیانک نوکیلے دانتوں سے مسلم اقلیت کاخون چمکتا صاف دکھائی دے رہا ہے ۔بابری مسجد کی شہادت ہو ،گجرات فسادات ہو،پاکستان کیخلاف سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ ہو،پلوامہ حملہ ہو ہر جگہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلمان اور پاکستان دشمنی پہلے سے زیادہ نمایاں نظر آئے گی حد تویہ ہے کہ اس سیکولر ملک کے دعویدار وزیر اعظم نے حالیہ انتخابات میں کسی ایک مسلمان امید وار کو بھی ٹکٹ دینا گوارا نہیں کیا۔


مودی کو بلاشبہ بھارت کے 20کروڑ سے زائد مسلمانوں سے اندھی نفرت کا قابل نفرین نمائندہ قرار دیا جا سکتا ہے اور حالیہ انتخابات کے دوران مودی کی انتہا پسند ہندوجماعت بی جے پی کے پاس سات سوملین ڈالر کی رقم موجود تھی جو اس نے انتخابی مہم کے دوران مسلمان ووٹرز کیخلاف بطور ہتھیار اور پروپیگنڈوکے بے دریغ استعمال کی اور بھارتی میڈیا کو بھی اس کی مدد سے اپنا ترجمان بنائے رکھا ۔

(جاری ہے)

مودی کی نئی کابینہ میں صرف ایک مسلمان وزیر مختار عباس نقوی اقلیتی امور کے محکمے پر بد ستور قائم رہیں گے جبکہ نئی بھارتی پارلیمنٹ کے 40فیصد سے زائد ارکان کو قتل ،ریپ سمیت مختلف جرائم پر 204مقدمات کا سامنا ہے ۔543نو منتخب ارکان اسمبلی میں سے 233پر مقدمات چل رہے ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم میں آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند جماعتیں مسلمان اقلیت کے گھروں میں جا کر انہیں ووٹ کاسٹ کرنے سے ڈراتی اور خطر ناک نتائج کی دھمکیاں دیتی رہیں اور مسلمانوں کو ان کی مرضی اور منشا کے مطابق ووٹ کا سٹ نہیں کرنے دےئے گئے۔

ہیومن رائٹس واچ کی فروری 2019ء کی رپورٹ کے مطابق تین سال کے دوران 32صوبوں میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں سینکڑوں مسلمان زخمی اور شہید ہوئے۔حالیہ انتخابات میں بالی وڈ کے فنکار بھی بی جے پی اور کانگرس کی انتخابی مہم کا حصہ رہے اور اس میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا اور بہت سے کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئے۔ماضی پر نظر دوڑائیں تو پاکستانی ڈکٹیٹرضیاء الحق جو اپنی اسلام پسندی اور ٹی وی پر”دوپٹہ پالیسی“کے حوالے سے بڑے مشہور تھے جبکہ ان کی بھارت دشمنی کے بھی چرچے بھی زبان زدعام تھے لیکن یہ ان کی دہری شخصیت کا کمال تھا کہ وہ معروف بھارتی اداکارشتروگھن سنہاکے بہت بڑے فین تھے یعنی انہیں اس دور کے تمام انڈین سپر سٹارز میں سے صرف شتروہی بھائے اور انہیں منہ بولا بیٹا بھی بنایا اور خصوصی دعوت پر پاکستان بھی بلایا ان کے پیش رو اور کر شماتی شخصیت کے مالک قائد عوام جوانی میں معروف بھارتی اداکارہ پارہ بیگم کے بہت مداح تھے اور ممبئی میں شوٹنگ کے دوران ان کے سیٹ پر موجود رہتے۔

ہمارے کئے نامور سیاستدان بھی بھارتی اداکاراؤں کے جلوؤں اور گیسوؤں کے اسیررہے جن میں ریکھا اور زینت امان سر فہرست تھیں۔وہ معروف بھارتی اداکاراؤں سلمیٰ آغا اور رینارائے نے رحمت خان اور کرکٹرمحسن حسن خان سے شادی بھی کی اور بعدازاں طلاق لے کر پھر سے بالی وڈ کی رنگینیوں میں کھوگئیں۔ہمارے دو معروف کرکٹرز کے سشمیتا سین اور ممتاکلکرنی سے معاشقوں کی بازگشت بھی عرصہ تک سنائی دیتی رہی۔


کہا جاتا ہے کہ فن اور آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یہ عوامی جذبات واحساسات کے خوشی وغمی کے لمحات کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ فنکار لوگ بہت حساس دل کے مالک اور ان کے فن کے قدردان تمام مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں انہیں تنگ نظری،تعصب اور انتہا پسندی کے پیمانوں میں نہیں بانٹا جاسکتا۔
پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے فنکاروں کو دونوں ممالک میں پسند کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں پاکستانی گلوکاروں اور اداکاروں نے بالی وڈ میں اپنی قابلیت کالوہا منوایا ان میں سے بیشتر کے خلاف انتہا پسند ہندوجماعتیں اور تنظیمیں سرگرم عمل بھی ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی بھارتی فلمیں ،ڈرامے اور پروگرامز سب سے زیادہ دیکھے اور پسند کئے جاتے ہیں اور پاکستانی نوجوان اپنے اداکاروں سے زیادہ بھارتی فنکاروں کے بارے میں زیادہ باخبر رہتے ہیں اور ان کی ہر آنے والی فلم کا بے چینی سے انتظار کرتے اور پھر سابقہ فلموں سے موزانہ ہوتاہے۔


ان خوبرو،باصلاحیت ،ورسٹائل اور سٹائلش بھارتی فنکاروں کے جہازی سائز فلیکس ،سائن بورڈز تصاویر آپ کو وطن عزیز کے ہر برانڈ،بیوٹی پارلر، مودی شاپس ،بازاروں ،دکانوں میں آویزاں نظر آئیں گی۔بھارتی انتہا پسندوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ بالی وڈ میں سرمایہ کاری ،آرٹسٹوں کے انتخاب اور فلموں کی نمائش اور تقسیم کاری کے تمام مراحل پر انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ بال ٹھاکر ے سے اب ان کے بیٹے راج ٹھا کرے تک دراز چلا آرہا ہے اس سلسلہ میں وہ سینما گھر اور سیٹ بھی نظر آتش کردیتے ہیں ۔

فلمسازوں اور آرٹسٹوں پر حملے بھی معمول ہیں فلموں کے نام اور سکرپٹ تک بدلوادیتے ہیں۔ بھارتی آرٹسٹوں کے لئے سخت آزمائش کا دوریہ ہے ایک طرف سچائی ،امن اور پیار کا کانٹوں بھراراستہ اور دوسری طرف انتہا پسند جنوبی ہندوؤں کی چھتری کا محفوظ سایہ چنانچہ آرٹسٹوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی مقبولیت،جان اور کیرےئر کے تحفظ کے لئے گجرات کے قصاب مودی اور اس کی انتہا پسند جماعت بی جے پی کو فوقیت دی ۔

مودی کو بخوبی معلوم ہے ان میں ایک ایک آرٹسٹ کے کروڑوں فین ہیں اور جب رنبیر کپور،رنویرسنگھ ،سنی دیول ،ہیما مالنی،کرن کھیر،انیل کپور،سمرتی ایرانی،منوج تیواڑی،جیا پرادہ،کرن جوہر اور دیگر آرٹسٹ اس کی کمپین میں شامل ہونگے تو رزلٹ کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ان میں سے سنی دیول ،ہیما مالنی،کرن کھیر منوج تیواڑی ،سمرتی ایرانی وغیرہ کا میاب ہو چکے ہیں۔


امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کا تبصرہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس نے لکھاری ہے :”نریندرمودی کی فتح جمہوریت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔پانچ سال قبل معاشی اصلاحات کا نعرہ لگاکر مہم چلانے والے کر شماتی وزیر اعظم نے اس سال فرقہ پرستی اور قومیت کا نعرہ بلند کیا۔دوسرے لفظوں میں ہندو قومیت پسندی کو فروغ اور ہندوجنونیت کو مزید ہوامل سکتی ہے۔


پاکستان مخالف اور دشمن فلمیں بھی بالی وڈ فلموں کا حصہ رہی ہیں جن میں پاکستانی فوج آئی ایس آئی پاکستانیوں اور مسلمانوں کو خاص طور پر منفی روپ میں پیش کرکے انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دیکر مخصوص نتائج حاصل کیے جاتے رہے ہیں۔
بھارت میں لوک سبھا کی 542نشستوں کے عام انتخابات نے سیکولر ذہنیت کے حامل فنکاروں اور تشدد پسند ذہنیت رکھنے والی جماعت بی جے پی کے حمایت یافتہ آرٹسٹوں کے مابین واضح لکیر کھینچ دی ہے اور ان آرٹسٹوں کے انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دینے پر پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کو شدید ذہنی کو فت پہنچی ہے جبکہ اکثریت کو ان کے چہرے سے ملمع اور نقاب اُترنے پر مودی قصاب کا چہرہ دکھائی دینے لگا ہے جس کے خوفناک نوکیلے دانتوں سے مسلم اقلیت کا خون ٹپک رہا ہے ۔

سوال صرف اتنا ہے کہ کعبہ کی بیٹی بابری مسجد میں کون سا مسلم ایٹم بم نصب تھا کہ اس بنا پر اسے شہید کیا گیا اور دوقومی نظریہ اور پاکستان کا وجود کیوں وجود میں آیا؟اس پر پاکستانی مسلمان جتنا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کم ہے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments