عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو خراج تحسین

موسیقی میں50سالہ خدمات کا اعتراف

ہفتہ جون

Atta Ullah Essa Khelvi Ko Khiraj Tehseen
 وقاراشرف
عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ایک ایسے فنکارکانام ہے جس کے دل میں اپنے لوگوں کیلئے پیار ،دوستی اور محبت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ان کے گیتوں میں اس کا اظہار بے ساختگی اور تکمیل کے ساتھ دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے ۔ان کی آواز میں درد، ہجر اور فراق کے سبھی انداز کچھ اس طور سے اُبھر کر سامنے آ تے ہیں کہ سامعین کے دل کی سر زمین پر یادیں آنسوؤں کی بارش بن کر برسنے لگتی ہیں۔

انہیں جدائی اور تنہائی کا گلوکار کہا جاتا ہے لیکن ان کی آواز جدائیوں اور تنہا ئیوں کو چیرتی ہوئی چلی جاتی ہے ۔ان کی آواز کے سورنے اک جہاں کو متاثر کیا ہے اور یوں یہ عوام کے محبوب گلوکار بن چکے ہیں ۔
انہوں نے اب تک ہزاروں گیت گائے ہیں لیکن ان کے دل میں چھپا درد کا خزانہ ختم ہونے میں نہیں آرہا ۔

(جاری ہے)

ان کے دل میں اپنے لوگوں کے لئے پیار،دوستی اور محبت کے سوا اور کچھ نہیں ہے جس کا اظہار ان کے گیتوں میں بے ساختگی اور تکمیل کے ساتھ دیکھنے اور سُننے کو ملتاہے ۔

وہ 50برسوں سے اپنی آواز کے ذریعے خوشبو بکھیررہے ہیں اوریہ سفر ہنوز جاری ہے۔گائیکی میں 50سال مکمل ہونے اور حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز دےئے جانے کی خوشی میں لاہور آرٹس کونسل کی جانب سے الحمراء میں اس لیجنڈ گلوکار کے ساتھ خوب صورت شام منائی گئی ۔الحمراء کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ہال میں داخلے کے لئے لوگوں کی طویل لائنیں لگی ہوں اور ہال کھچاکھچ بھرنے کے باوجود لوگ باہر کھڑے ہوں۔

سعدیہ انور نے اس خوب صورت تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دےئے۔اس موقع پر ایگز یکٹوڈائریکٹر الحمراء اطہر علی خان نے اصغر ندیم سید،توفیق بٹ اور ذوالفقار علی زُلفی کے ہمراہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو ان کی 50سالہ خدمات اور ستارہ امتیاز ملنے کی خوشی میں سووینئر اور روایتی پگڑی پیش کی۔
نامور ادیب اور دانشور اصغر ندیم سید نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا میں جس طرح مہدی حسن ایک ہیں ،نور جہاں ایک ہیں اور بھارت میں لتا منگیشکر ایک ہیں اسی طرح عطا اللہ عیسیٰ خیلوی بھی ایک ہی ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنے فن کو عزت کے ساتھ آگے بڑھایا،ان کے گائے ہوئے گیت ہمارے جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتے ہیں اور اسی لئے لوگ ان کے گانوں میں چھپے درد کے ساتھ خود کو ریلیٹ کرتے ہیں ،انہوں نے گلوکاری میں جو مقام بنایا اس میں ان کی محبت اور صبر کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔حکومت کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز تو اب ملا ہے لیکن انہیں عوامی محبتوں کا اعلیٰ ایوارڈ تو 50برس قبل ہی مل چکا تھا۔

معروف کالم نگارتو فیق بٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ایک گلوکار ہی نہیں عظیم انسان بھی ہیں ۔
ایگز یکٹوڈائریکٹر اطہر علی خان نے اپنے تاثرات میں کہا کہ الحمراء اپنے لیجنڈ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھتاہے،عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے دنیا میں ملک وقوم کا نام روشن کیا ہے جو ایک بہت بڑی خدمت ہے ۔ڈائریکٹر آرٹ ذوالفقار علی زلفی نے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا الحمراء کی دعوت قبول کرنے پر شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ کے بے حد شکر گزار ہیں کہ آج لالہ صحیح سلامت ہمارے درمیان موجود ہیں ،انہوں نے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ الحمراء آئے اور اپنے عظیم گلوکار کو خراج تحسین پیش کیا۔


انہوں نے کہا کہ لالہ کا پروگرام پہلے طے کیا تھا لیکن ان کی بیماری کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔اب دوبارہ پروگرام بنایا تو ایک لابی پھر ان کے خلاف متحرک ہو گئی اور ان کی بیماری کاشوشل میڈیا پر پروپیگنڈا شروع کردیا۔جب عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو سٹیج پر بلایا گیا تو ہال میں موجود لوگوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
انہوں نے آغاز سورة فاتحہ کے منظوم ترجمہ سے کیا جس کے بعد پیار نال نہ سہی ،اللہ توں ڈروجی ،آؤتو کبھی دیکھو تو ذرا ،سب مایا ہے ،تھیومندری داتھیوا،وے مینو چاندی دی جھانجر گڑوادے اور دیگر مقبول گیت پیش کئے جس پر پورا ہال ان کے ساتھ جھوم رہا تھا۔

ڈیڑھ گھنٹے تک لائیو گائیکی کا اختتام انہوں نے اپنے شہرہ آفاق گیت ”قمیض تیری کالی“‘سے کیا ۔کامیاب پروگرام کے انعقاد پر پروگرام کے شرکاء نے الحمراء انتظامیہ کو مبارکباد دی۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments