موسیقی میرا ذریعہ معاش بھی ہے اور وجہ شہرت بھی سیاست مڈل کلاس کو اسمبلیوں میں پہنچانے کے لیے شروع کی

میرے نئے گیتوں پر مشتمل میوزک البم”محبت اور انقلاب“نوجوانوں میں ایک نیا جوش پیدا کرے گا معروف گلوکار اور برابری پارٹی پاکستان کے چےئرمین جواد احمد کا خصوصی انٹرویو

منگل جولائی

moosiqi mera zarya muash bhi hai or wajah e shohrat bhi ... siasat middle class ko assembliyon tak pohanchane k liye shoro ..
 سیف اللہ سپرا
جواد احمد ہمارے ملک کے معروف گلوکار ہیں جنہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ،موسیقی سے شغف کی بناء پر یونیورسٹی کی میوزیکل اور لٹریری سوسائٹی کی ہونے والی تقریبات میں حصہ لیتے رہے۔علی عظمت اور وہ میوزیکل بینڈ جیوبیٹرکاحصہ رہے مگر بعد میں انہوں نے بطور سولوگلوکار اپنے آپ کو متعارف کرایا انہیں صوفی ازم کے حوالے سے گائے ہوئے گیت ’اللہ میرے دل کے اندر‘سے شہرت حاصل ہوئی اب تک ان کے گائے ہوئے گیتوں پر مشتمل4البم لانچ ہو چکے ہیں جن میں بول تجھے کیا چاہیے،اچیاں مجاجاں والی،مہندی اور جندجان سونیے شامل ہیں۔


جواد احمد نے صحت اور تعلیم کے حوالے سے بھی نمایاں خدمات دی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وزارت صحت حکومت پاکستان اور یونائیٹڈنیشن نے ملک میں پولیو کمپین کے حوالے سے انہیں اپنا اعزازی سفیر مقرر کیا اس کے علاوہ جواد احمد نے برٹش کونسل کے ترک نشہ پراجیکٹ کے لئے ایک گیت’تم ابھی تو آکر بیٹھے تھے‘اور تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے ایک گیت’تعلیم سب کے لئے‘گایاجا جن کو عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔

(جاری ہے)

پھر انہوں نے تعلیم کے لئے ایک اور شہرہ آفاق گانا“سنوبچو اٹھاؤ بستہ”گایا۔
جواد احمد ملک کے واحد گلوکار ہیں جنہوں نے 2002ء میں افواج پاکستان کی مورال بوسٹنگ کے لئے’ہردم تیار‘جیسی ڈاکیو منٹری سیریز میں بری فوج کیلئے ’مٹی کے بیٹے‘۔بحری افواج کے لئے’سمندر کی طاقت‘اور فضائی افواج کے لئے ’ہوا کے شیر‘جیسے پروگرام کیے جواد احمد کے فن کی خوبی ایک یہ بھی ہے کہ ان کے گائے ہوئے گیتوں کے بول اور موسیقی وہ خود ہی ترتیب دیتے ہیں بطور موسیقار ان کی تین فلمیں موسی خان،میں اک دن لوٹ کے آؤں گا اور ورثہ منظر عام پر آئیں۔


جواد احمد کو گلوکاری کے فن میں خدمات پر لا تعداد سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈز سے نواز ہ گیا جن میں حکومت پاکستان کی جانب سے 2004ء میں تمغہ امتیاز،2006ء میں ستارہ ایثار،2016ء میں ہیومن رائٹس ایوارڈ،پولیو ایوارڈ اور میوزک میں پی ٹی وی ایوارڈ اور انڈس میوزک ایوارڈ شامل ہیں۔2018ء میں جواد احمد نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور برابری پارٹی پاکستان کے نام سے سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی،گزشتہ دنوں جواد احمد کے ساتھ ایک نشست ہوئی جس میں ان کی فنی اور سیاسی زندگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جارہے ہیں:
جواد احمد نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ فن موسیقی کی طرف ان کی رغبت بچپن ہی سے تھی اور وہ سلامت علی خان ،امانت علی خان،مہدی حسن،طفیل نیازی،نور جہاں،کشور کمار،محمد رفیع،لتامنگیشکر،آشا بھونسلے،ایلوس پریسلے اور پنک فلائڈ کے قدردان تھے اور ان کے گائے ہوئے گیتوں کو سنتے تھے جس کے باعث فن موسیقی میں ان کا شوق بڑھا۔

انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں ان کے گائے ہوئے گیتوں پر مشتمل موسیقی کا البم محبت اور انقلاب لانچ ہونے جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایسے گیت بنائے جائیں جن کو آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر بھی سن سکیں ان کا کہنا تھا کہ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ میں موسیقی چھوڑ دوں کیونکہ موسیقی میرا ذریعہ معاش بھی ہے اور میری وجہ شہرت بھی اور اس کی وجہ سے لوگ میری عزت بھی کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں سیاست میں مڈل کلاس کو آنا چاہیے محنت کشوں کو آنا چاہیے نوجوانوں کو آنا چاہیے تو اس کے ساتھ لازمی عنصر یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنے کام نہیں چھوڑ سکیں گے ان کو اپنے کام کرنے پڑیں گے کیونکہ نہ تو یہ جاگیر دار ہیں اور نہ ہی سرمایہ دار اور نہ ہی ان کا تعلق کسی مافیاز سے ہے ان کے کوئی بڑے کاروبار نہیں ہیں جہاں سے یہ پیسے کمائیں ،سیاست شوق کی خاطر نہ کہ پیسہ کمانے کی خاطر کریں ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں میں جو نغمات بنانے جارہا ہوں وہ اس عوام کے اندر خوشی کی لہر دوڑائیں گے،عنقریب میرا ایک گیت آرہا ہے جو میں نے نوجوانوں کے لئے گایا ہے اس کے ساتھ میں نے کچھ انقلابی گیت بھی بنائے ہیں اور ہاں میرا ایک پارٹی کے حوالے سے بھی گیت تیار ہے ۔


کمر شل کام بھی میں کررہاہوں اور سیاسی کام بھی اور قومی گیت بھی بہت جلد آپ کو سننے کو ملیں گے ۔جواد احمد کا سیاسی ویژن کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت تک نہیں بدلے گا جب تک 99فیصد لوگ ایک فی صد کے سامنے کھڑے ہو کر الیکشن نہیں لڑیں گے اور اسمبلی میں جا کر اپنے لئے قانون سازی نہیں کریں گے۔،جواد احمد نے کہا ہے میں میوزک کی فیلڈ میں آیا ہی اس لئے تھا کہ سیاست میں حصہ لے سکوں اور لوگوں تک پہنچ سکوں اور اپنی بات لوگوں سے کر سکوں۔

میرے پہلے البم کا نام تھا بول تجھے کیاچاہیے؟میرے کیرےئر کا پہلاگانا تھا اللہ میرے دل کے اندر۔
جس میں امیر اور غریب میں فرق بتایا گیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ملک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو آدمی صبح سات بجے اٹھ کر فیکٹری میں جاتا ہے ٹھیلہ لگاتا ہے،اینٹیں اٹھاتا ہے ،دفتر کاکام کرتا ہے ،ڈاکٹر ہے ،انجینئر ہے،مڈل کلاس سفید پوش ہے اور دیہات کا کسان مزدور جو صبح6بجے کام شروع کر دیتا ہے ۔

ان سب کا پاکستان میں کوئی پر سان حال نہیں ۔ان کے بچے سکول نہیں جاتے ان کے بچے اور گھر والے علاج نہیں کر وا سکتے ۔عمران خان کے بچے کھرب پتی ہیں اور لندن میں رہتے اور خود وہ 300کنال میں رہتے ہیں ۔
عمران خان،نوا ز شریف اور آصف زرداری کی حکومتیں کم ازکم پندرہ ہزار تنخواہ کا اعلان کرتی ہیں اور ان پر بھی عمل نہیں ہوتا۔غریب آٹھ سے دس ہزار روپے پر بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے ۔

ان سے کہیں نا کہ یہ 15000روپے میں گزارہ کرکے دکھائیں۔ان پیسوں سے گھر کیسے چلتے ہیں انہیں کیا پتہ یہ تو مافیاسیاست کررہے ہیں۔اب تو لوگ عمران خان کے کسی وعدے پر یقین نہیں کرتے کیونکہ وہ یوٹرن لے لیتے ہیں۔اس ملک میں غریب تو کیا مڈل کلاس بھی گھر نہیں بنا سکتا۔لاہور میں 5مرلہ ایک کروڑ یا غریب علاقوں میں پچاس لاکھ سے کم نہیں۔
حالت یہ ہے کہ آج جو نوجوان انجینئربن کر نکلتا ہے اسے تیس سے پینتیس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔

یہ کس قسم کی ریاست مدینہ بنارہے ہیں خود تو 300کنال میں رہ رہے ہیں اور مزدور کوماہانہ
15000روپے پر بھی عمل درآمد نہ کروائیں۔2013ء کے انتخابات میں عمران خان نے تحریک انصاف کیلئے،احسن اقبال نے مسلم لیگ ن کیلئے اور نذر گوندل کے بھائی ذوالفقار گوندل صاحب نے پیپلز پارٹی کو جوائن کرنے کیلئے کہا۔لیکن میں نے ان میں سے کوئی پارٹی جوائن نہیں کی کیونکہ مجھے معلوم تھاکہ یہ سب ایک جیسے ہیں اوریہ سب جاگیردار ،سرمایہ دار اور مافیاز کی پارٹیاں ہیں یعنی ایک فیصد کی پارٹیاں ہیں جبکہ میری پارٹی برابر ی پارٹی پاکستان نوجوانوں ،مڈل کلاس اور محنت کشوں کی پارٹی ہے۔

یعنی 99فیصد کی پارٹی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرکے انجینئرنگ کے شعبہ میں نہیں کیا۔یہ میرا شعور ی فیصلہ تھا۔سٹوڈنٹ لائف میں میں جیو پٹیرگروپ کے ساتھ گاتا تھا جس کے کافی ممبرز کو اس بات کا پہلے سے پتہ تھا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔ہم بہت زیادہ مصروف رہتے تھے بہت کام تھا اور جتنا کماتے تھے برابر ساتوں میں تقسیم کرلیتے تھے۔

میں سٹوڈنٹ لائف میں غلط بات برداشت نہیں کرتا تھا۔مگر سیکھا ہے کہ برداشت کرنا اچھی بات ہے ۔اب غصہ کو کنٹرول کرتا ہوں اور نوجوانوں کو بھی کہتا ہوں کہ غصہ پر کنٹرول کریں۔
میں وزیر اعظم نہیں بننا چاہتا میری خواہش ہے کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو کوئی اور نوجوان وزیر اعظم ہو گا۔ہم اس ملک میں اقتدار میں آئیں گے تو ایمر جنسی لاگو کریں گے۔

لوگوں کو تعلیم اور صحت ایک جیسی دینے کے لئے اور یہ کام ریاست کے ذریعے کریں گے۔مافیاز،سیاستدانوں کی طرح نہیں کہ انویسٹمنٹ لاؤ انویسٹمنٹ ہو گی تو روزگار ملیں گے۔ہم اس ملک کے امیروں سے کہیں گے کہ آپ نے 70سالوں سے کروڑوں اربوں کمائے ہیں وہ واپس کریں۔ہم ریاست کے ذریعے انڈسٹری لگائیں گے جب تک انڈسٹری نہیں لگے گی روزگار پیدا نہیں ہوں گے۔

یہ کام ہم ریڈیکل بنیادوں پر کر یں گے۔جبکہ عمران خان پانچ سال بعد بھی کہیں گے انویسٹمنٹ آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ دار اپنے مزدور کے لئے قانون کیسے بنائیں گے؟جاگیر دار اپنے مزارعے ہاری کے لئے قانون کیسے بنائیں گے ؟پہلے مرحلے میں ہم اپنی شناخت کے لئے الیکشن کے ذریعے لوگوں میں گئے لوگوں نے بہت پذیرائی دی ہے۔
ووٹ نہیں ملے ہم ووٹ لینے بھی نہیں گئے تھے ہم لوگوں کو بتانے گئے تھے کہ ہم 99فیصد کی پارٹی ہیں۔اب ہم نے اپنے اگلے فیز پر کام شروع کر دیا ہے ۔ہم ملک بھر میں تنظیم سازی کررہے ہیں ہمارا کام تحریک انصاف آسان کررہی ہے۔ہم تھوڑے ہی دنوں میں نظر آنے لگیں گے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments