راحت کے سُرنے دنیا فتح کرلی ہے

آکسفورڈیونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنا پاکستانی قوم کے لیے انعام ہے

بدھ جولائی

Rahat K Sur Ne Dunya Fatah Kar li hai
 عاشق چوہدری
راحت فتح علی خان کو آکسفورڈ یونیورسٹی نے اعزازی پی ایچ ڈی ڈگری عطا کی ہے۔ان کوڈاکٹریٹ کی یہ ڈگری موسیقی کے شعبہ میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور اس شعبہ میں اپنی خدمات کو پیش کرنے کے صلہ میں دی گئی ہے۔پاکستانی آرٹسٹ کی قابلیت اور خدمات کو اس طرح سراہا جانا بلاشبہ پوری قوم کے لیے ایک اعزاز ہے۔اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ راحت فتح علی خان نے اپنی خدمات ،صلاحیتوں ،خاندانی ورثہ اور بے پناہ محبت کے ذریعہ سے موسیقی کے شعبہ میں ایسی تخلیقات پیش کی ہیں جو کہ کئی دہائیوں تک یاد گار رہیں گی۔


آکسفورڈیونیورسٹی اس سے پہلے ایک میوزک ہال کانام بھی راحت سے منسوب کرچکی ہے۔راحت کا خاندان کئی دہائیوں سے موسیقی کی خدمات انجام دے رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس خاندان کافنی وارث ہونا راحت کے لیے ممدومعاون ثابت ہوا۔راحت کے لیے فن موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا اور اس ہنر کے پیچ وخم وباریکیاں جاننا آسان تھا۔ان کو اپنے والد استاد فرخ فتح علی خان اور چچا استاد نصرف فتح علی خان کی صحبت میسر آئی ۔

اس سب کے باوجود راحت نے اپنا مقام سخت محنت اور ریاضت سے حاصل کیا۔
استاد نصرت نے بچپن میں ہی راحت کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ خاندان میں شاگردی کے خواہشمند بچوں میں سے راحت کو چنا گیا۔راحت نے بھی اپنے انتخاب کو درست قراردیا۔ راحت نے سر کے معیار ،دھنوں کی ترتیب اور الاپوں کے اتار چڑھاؤکاجانا،محسوس کیا اور اپنے دل ودماغ میں جذب کرلیا۔

انہوں نے یہ دیکھا کہ کس طرح قوالی اور غزل کے دوران سر گم سننے والے پر سحر طاری کردیتی ہے۔راحت نے نصرت کی قوالی کو محض ان کے افکار کے پیرائے میں نہیں سیکھا بلکہ اس کی اصل طاقت کو سمجھا اور پھر دنیا کے سامنے پیش کیا ۔
استاد نصرت نے کم سنی میں ہی راحت کو اپنی قوال پارٹی میں شامل کر لیا تھا۔وہ نصرت کی پرفارمنس کے دوران الاپ اور سرگم پیش کرتے ۔

ان کا یہ انداز شائقین کو بھی بھا گیا۔اس وقت راحت کی عمر محض سات برس کی تھی جب وہ موسیقی کے فن کے اسرار ورموز سے آگاہی حاصل کر چکے تھے۔1985میں استاد نصرت راحت کو اپنے برطانیہ کے دورے میں ساتھ لے کر گئے ۔راحت نے شائقین کے سامنے اس دورے میں قوالی کے علاوہ بھی پر فارم کیا۔اس دورے نے راحت کو شائقین کے سمجھنے اور ان کے سامنے پر فارم کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔

راحت کا کہنا ہے کہ وہ دنیابھرمیں پر فارم کر چکے ہیں لیکن پاکستان اور لندن میں پرفارم کرنا ان کو سب سے زیادہ مزہ دیتاہے۔
پاکستان تو ان کا اپنا ملک ہے ان کی پہچان ہے اور وہ آج راحت فتح علی خان بھی اس مٹی کی وجہ سے ہیں ۔یہاں کے لوگ جو محبت ان کو دیتے ہیں وہ ان کے خاندان اور ان کی زندگی وفن کا اثاثہ ہے۔راحت لندن کو اس لیے زیادہ اہمیت دیتے ہیں چونکہ انہوں نے پہلی مرتبہ لندن میں ہی لائیوپرفارم کیاتھا۔

اس لیے لندن ان کی پسندیدہ جگہ ہے۔راحت کایہ بھی کہنا ہے کہ لندن میں لوگ موسیقی کو سمجھتے ہیں وہ الفاظ کے ساتھ دھنوں،لے اور الاپ کے تاثر کو اپنے اوپر طاری کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔لندن کے ویمبلے ایرینا میں راحت نے کئی لائیوکنسرٹس پر فارم کیے ہیں۔
راحت کی شخصیت اور فن پر استاد نصرت کی چھاپ نمایاں ہے اور راحت بھی ان کو اپنا حقیقی اثاثہ قرار دیتے ہیں ۔

راحت نے خود بھی بہت محنت اور قابلیت کے ساتھ اس اثاثہ اور روایت کو ترقی دی جس کو نصرت نے عروج پر پہنچایا تھا۔راحت کی شخصیت میں انکساری اور مزاح کے پہلو نمایاں ہیں ۔راحت کا کہنا ہے کہ انکساری کا پہلوان کو استاد نصرت سے ملا۔اس عجزوانکساری کی بدولت قدرت نے ان کو نوازاہے۔وہ اکثر کہتے ہیں کہ استاد نصرت ایک میوزیشن اور گائیک کے ساتھ ایک آئیڈیل استاد بھی تھے ۔

وہ اپنے شاگردوں سے لاڈ بھی کرتے لیکن سیکھانے اور موسیقی کو پر فارم کرنے کے معاملے میں وہ بہت ڈسپلن کے مظاہرہ کی توقع بھی رکھتے تھے ۔راحت کا کہنا ہے کہ سروں کا معاملہ نازک ہوتا ہے اور اس میں غلطی واقعی غلطی ہوتی ہے۔استاد نصرت جب مجھے پر فارم کرنے کا کہتے تو میں ان کی نگاہوں اور چہرے کے تاثرات کو اپنے سامنے رکھتا ۔اس سے مجھے اپنے درست یا غلط پر فارم کرنے کا اندازہ ہوتا ۔

وہ اچھا پر فارم کرنے پر جو تحسین کی نگاہ ڈالتے وہ میرے لیے باعث طاقت اور میری پر فارمنس کو جلا بخشنے کے لیے اہم ترین ہوتی ۔
راحت کا کہنا ہے کہ استاد نصرت نے ابھی موسیقی کے میدان میں اہم کارنامے انجام دینے تھے۔ان کافن ابھی مزید عروج پانا تھا لیکن وہ دنیا سے چلے گئے۔یہ واقعی فن موسیقی کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
راحت کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا بالی ووڈ کی فلموں میں پر فارم کرنا بھی ہے۔

راحت کے گائے اور کمپوز کردہ بالی ووڈ کے گانے مقبولیت کے ریکارڈ ز قائم کر چکے ہیں۔راحت کی آواز بالی ووڈکے کرداروں کی پہچان بن چکی ہے۔راحت کے گانوں نے کئی بالی ووڈ کی فلموں کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔راحت نے سب سے پہلے2003ء میں مہیش بھٹ اور پوجا بھٹ کی فلم پاپ کے لیے گانے گائے۔ان کا گایا ہوا گانا لگن لاگی تم سے دل کی لگن تمام ہندوستانی میوزک چارٹس میں اول نمبر پر رہا۔


اس کے بعد راحت کے گائے ہوئے گانے بالی ووڈ کی فلموں کی پہچان بن گئے۔سنگھ ازکنگ،ویر،عشقیہ،مائی نیم ازخان،ونس اپان آٹائم ان ممبئی،دبنگ،زیرو،ریڈ،مسٹربان والا اور درجنوں دوسری فلموں میں راحت نے گانوں کے ذریعے کرداروں اور کہانی کو مقبول بنادیا۔بالی ووڈ میں نہ صرف راحت کے کام کو سراہا گیا بلکہ ان کو ان کے فن کے مطابق عزت واحترام بھی دیا گیا۔

راحت بھی اپنے فنی سفر کے دوران بالی ووڈ میں پر فارم کرنے پر خوش ہیں۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے فنکاروں کوپہلے اپنے وطن میں اپنا نام اور مقام بنانا چاہئے تاکہ وہ بیرون ملک اپنی عزت اور مقام پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں ۔راحت ،لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کی گائیکی کے فین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں گلو کاراؤں نے بالی ووڈ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


راحت نے پوری دنیا میں پر فارم کیا ہے ۔دنیا کے ہر ملک میں ان کے چاہنے والے موجود ہیں۔راحت 2014ء میں نوبل امن انعام کی تقریب میں پر فارم کرنے کو اپنے لیے بہت بڑا اعزاز قرار دیتے ہیں ۔ان کو قوالی کے فن سے عشق ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ اس فن میں شاعری ،گائیکی اور موسیقی کے حوالوں سے جدت پیدا کریں ۔ان کی موسیقی کی بنیاد قوالی کافن ہے ۔راحت پاکستان کے موسیقی کے اثاثے کی حفاظت اور ترقی وترویج کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ۔

وہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں فن موسیقی کی شعبہ جات قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ اس سے کلاسیکی اور روایتی پاکستانی موسیقی کافن آگے بڑھے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں موسیقی سمیت تمام شعبوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔
میرے سمیت وہ تمام لوگ جو اپنے شعبوں میں اپنا مقام اور نام بنا چکے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ان نوجوانوں کی تربیت کریں۔

موسیقی کے شعبہ کی ترقی سے پاکستان کا سوفٹ امیج بھی دنیا کے سامنے مزیداجاگرہو گا۔راحت نے آکسفوردڈیونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کو اپنے خاندان ،استاد نصرت اور چاہنے والوں کے نام کر دیا ہے ۔ان کو دنیا بھر سے درجنوں ایوارڈ ملے ہیں۔پاکستانی حکومت نے بھی ان کے فن کو سراہا اور ان کو صدارتی اعزازات سے نوازا ہے۔استاد راحت دنیا میں پاکستان کی پہچان ہیں۔ ان کی شخصیت اور فن پوری قوم کا اثاثہ ہے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments