اداکاری سے عشق ہو گیا پہلے ڈرامے سے شہرت ملنا خوش قسمتی ہے

ڈرامہ سیریل”حانیہ“کی ہیروئن زویاناصر سے خصوصی گفتگو

جمعہ جولائی

Acting Se Ishq Ho Giya Pehle Drame Se Shohrat Milna Khush Qismati hai
 وقاراشرف
”وہ آئی ،اس نے دیکھا اور فتح کر لیا“یہ محاورہ ٹی وی کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ زویا ناصر پر صادق آتا ہے جنہوں نے اپنے پہلے ہی ڈرامے”حانیا“سے اپنی منفرد پہچان بنالی جس کی اکثر فنکار کئی سالوں کی محنت کے بعد خواہش کرتے ہیں ۔وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ مصنف ناصر ادیب اور معروف سیاستدان آمنہ الفت کی صاحبزادی ہیں ۔

بنیادی طور پر میک اپ آرٹسٹ ہیں اور امریکہ میں کاسموٹالوجی میں باقاعدہ ڈگری حاصل کرکے وہاں سیلون چلاتی رہی ہیں ۔اب پاکستان میں بھی اداکاری کے ساتھ ساتھ سیلون چلا رہی ہیں، ایک مشہور سیلون کے ساتھ بطور کری ایٹو ہیڈ بھی وابستہ رہی ہیں ۔زویا ناصر کیساتھ ایک نشست میں ان کے ایکٹنگ کیرےئر،مستقبل کے عزائم اور ڈرامہ انڈسٹری کی صورتحال کے حوالے سے ہونے والی گفتگو پیش کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)


زویا ناصر نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں جب بڑی ہورہی تھی تو اس وقت تک شوبز کی طرف آنے کا سوال بھی نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ابو نے کبھی اس حوالے سے حوصلہ افزائی نہیں کی ہاں میرا شروع سے آرٹسٹک رجحان ضرور تھا۔امی کا عملی سیاست کیساتھ چونکہ بیوٹی بزنس بھی تھا اس لیے میں بیوٹی بزنس کی طرف چلی گئی۔ایکٹنگ کا شوق بڑے بھائیوں کو بھی تھا لیکن امی نے انہیں یہی کہا تھا کہ پہلے پڑھائی کر لو پھر جو مرضی ہو کر لینا ۔

ابو نے جب”دی لیجنڈ آف مولا جٹ“کی کہانی لکھنا شروع کی تو وہ اس کی پروڈیوسر عمارہ حکمت،ڈائریکٹر بلال لاشاری ،حمزہ علی عباسی اور دیگر ایکٹرز سے متاثر ہوئے کہ آج کل تو بڑی اچھی فیملیز سے لوگ شوبز کی طرف آرہے ہیں تو انہوں نے مجھے بھی اپنی دعاؤں کے ساتھ شوبز میں کام کی اجازت دیدی۔
ڈراموں کی آفرز تو پہلے سے آرہی تھیں ابو سے اجازت ملی تو باقی فیملی کو بھی اعتراض نہیں تھا۔

”حانیہ“میرا پہلا ڈرامہ تھا جسے کرنے کی ایک وجہ اس میں دیا گیا سوشل مسیج بھی ہے کہ جب ہمارے ہاں لڑکیوں کی شادی ہوتی ہے تو جلد بازی میں رشتہ طے کر دیا جاتاہے اور لڑکے کا خاندانی پس منظر بھی نہیں دیکھا جاتا۔حانیہ کی شادی بھی ایک ایسی جگہ ہوجاتی ہے جہاں لڑکا اگر چہ دولت مندتھا لیکن لوگ اچھے نہیں تھے۔ڈرامہ میں مڈل کلاس کی اس سوچ کی عکاسی بھی کی گئی کہ لڑکی کو شادی کے وقت سمجھا دیا جاتا ہے کہ جس گھر میں تم بیاہ کر جارہی ہو وہاں سے اب تمہاری لاش ہی نکلے گی ،طلاق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن ڈرامہ میں یہ پیغام بھی دیا گیا کہ لڑکی اگر حالات کی وجہ سے طلاق لے لیتی ہے تو زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔


جہاں تک”حانیہ“سے ہی آغاز کرنے کا تعلق ہے تو مجھے اور بھی ڈراموں کی آفرز تھیں لیکن حانیہ کی کہانی کے ساتھ میں خود کو ریلیٹ کر سکتی تھی کیونکہ میری اپنی بھی شادی جلد بازی کا رشتہ تھا اور وہ نہیں چل سکی۔میرا پہلے ڈرامے کا تجربہ بہت ہی اچھا رہا ۔مجھے اس لیے بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ ایکٹنگ میرے خون میں شامل تھی حالانکہ یہ مزدوری والاکام ہے،12سے 18گھنٹے کی شفٹ ہوتی ہے۔

ساتھی فنکاروں کے ساتھ بھی کیمسٹری اچھی رہی ۔جنید جو میرے شوہر بنے تھے ان کی میں بچپن سے فین تھی ،انہوں نے میری بھر پور مددکی اور ہماری دوستی ہو گئی۔
اُسامہ طاہر کے ساتھ بھی اچھا تجربہ رہا ،وہ اگر چہ خود بھی نئے ہیں لیکن انہوں نے مجھے کئی ٹیکنیکل چیزیں سمجھائیں جس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔سینئرز میں عتیقہ اوڈھو،نےئر اعجاز ،وسیم عباس اور فردوس جمال کیساتھ بھی بہت اچھا تجربہ رہا۔

غنا علی اگر چہ میری بہن بنی تھیں لیکن میرے ان کے ساتھ زیادہ سین نہیں تھے۔”حانیہ“آن اےئر ہوا تو ہر طرف سے بہت اچھا فیڈبیک ملا۔”حانیہ“میں بہت زیادہ رونا دھونا اور مارکٹائی کے سوال پر زویا ناصر نے بتایا کہ میرے خیال میں معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہی اس میں دکھایا گیا۔ہماری خواتین بہت زیادہ گلیمر کیساتھ خود کوریلیٹ نہیں کر سکتیں بلکہ”حانیہ “کیساتھ ریلیٹ کر سکتی تھیں۔

نےئر اعجاز ڈرامہ میں ولن تھے لیکن انہوں نے مجھے قدم قدم پر سکھایا۔”حانیہ کے ڈائریکٹر قاسم علی مرید کے ساتھ بھی تجربہ بہت اچھا رہا جنہوں نے مجھے بہت پیار سے سکھایا،سیٹ پر ان کا انرجی لیول بھی بہت اچھا ہوتا تھا۔اب وہ پہلی فلم”ٹچ بٹن“بنارہے ہیں تو وہ بھی ضرور کامیاب ہو گی۔ان کا ڈرامہ”آنگن“پہلا ڈرامہ ہے جو میری امی نے دیکھا ہے۔

آئندہ پراجیکٹس کے حوالے سے زویا ناصر نے بتایاکہ کچھ ڈرامے پائپ لائن میں ہیں۔
ایکٹنگ کی انسپائریشن کے حوالے سے زویا ناصر نے بتایا کہ میں نے انگریزی فلمیں اور ڈرامے تو بہت دیکھے مگر پاکستانی ڈرامے زیادہ نہیں دیکھے ۔پہلا ڈرامہ2017ء میں ”الف اللہ اور انسان“دیکھا تھا وہ بھی اس لیے کہ اس میں میری فرینڈ اُشنا شاہ کام کررہی تھیں۔پھر”زندگی گلزار ہے “دیکھا تو اس میں صنم سعیدکی اداکاری بہت اچھی لگی ۔

سجل علی کی اداکاری بھی پسند ہے ۔باقی فلم ابو اور نانا کی جانب سے میرے خون میں ہے لیکن میرا فلم کی طرف آنے کافوری کوئی ارادہ نہیں اور ٹی وی پر زیادہ کام کروں گی کیونکہ ٹی وی کہانیوں کے ساتھ لوگ خود کو زیادہ ریلیٹ کرتے ہیں ۔
ویسے بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا میں نے بند کردی ہے کیونکہ دس سال پہلے میں نے اپنی جو زندگی سوچی تھی وہ ویسی نہیں گئی اس لیے میرا خیال ہے کہ ہم جتنی پلاننگ کرتے ہیں اتنی ہی ہمیں مایوسی ہوتی ہے ۔

آپ لمبی پلاننگ کے بجائے ڈے ٹوڈے معاملات کو دیکھیں ،والدین کی عزت کریں، نماز روزہ رکھیں اور خلوص دل سے محنت کریں ، وہ ضائع نہیں جائے گی۔
آج کے ڈراموں میں بے باکی کے عنصر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے زویاناصر نے بتایا کہ مجھے تو ایسا کچھ نہیں لگتا،اب زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے اس لیے ہمیں بھی بحیثیت قوم ترقی کر لینی چاہیے۔دنیا میں ہر قسم کے موضوع پر ڈرامے اور فلمیں بن رہی ہیں ہمیں بھی اس حوالے سے اپنی سوچ میں تبدیلی لے آنی چاہئے۔

”کیا ہمارے معاشرے میں عورت واقعی اتنی مظلوم ہے جتنی ڈراموں میں دکھائی جاتی ہے؟“اس حوالے سے زویا ناصر نے بتایا کہ اگرہمارے ایسے ڈرامے ہٹ ہورہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان کے ساتھ خود کو زیادہ ریلیٹ کررہے ہیں کہ یہ تو ہماری ہی کہانی ہے ۔ہماری عورتوں کی اکثریت اسی طرح کے حالات سے گزررہی ہے ۔
ایسے ڈراموں کی ریٹنگ بھی زیادہ آتی ہے باقی ڈراموں میں صرف مظلومیت ہی تو نہیں دکھائی جاتی بلکہ ویمن ایمپاورمنٹ بھی تو دکھائی جاتی ہے مثلاً ہمارے اکثر ڈرامے عورت کی مظلومیت سے شروع ہوتے ہیں لیکن اختتام عورت کی ایمپاورمنٹ پر ہوتا ہے اس لئے میں ڈراموں کے موضوعات سے بالکل مطمئن ہوں۔

ابو آج کی فلمیں اور ڈرامے نہیں دیکھتے جبکہ میں نے ان کی صرف دو فلمیں ہی دیکھی ہیں۔
”مولاجٹ “دیکھنے کی بہت کوشش کی مگر دیکھ نہیں سکی۔اب نئی فلم”دی لیجنڈ آف مولا جٹ“ضروردیکھوں گی۔لالی وُڈ تو ختم ہو گیا اب فلم انڈسٹری کو ریوائیوٹی وی کے لوگوں نے کیا ہے ۔باہر کے ملکوں میں بھی یہی ہورہا ہے کہ لوگ ٹی وی پر بھی کام کررہے ہیں اور فلموں میں بھی ساتھ ہی انہیں گانے گاتے ہوئے بھی لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

”گیم آف تھرونز“جیسے موضوعات پر اب ڈرامے بننا شروع ہو گئے ہیں ۔
اداکاری کے ساتھ ڈرامہ نگاری کی طرف آنے کے سوال پر زویا ناصر نے بتایاکہ مجھے لکھنے کا شوق ضرور تھا لیکن شاعری کی حد تک پھر زندگی میں اتنی مصروفیت ہو گئی کہ یہ چیزیں بہت پیچھے ر ہ گئیں۔پاکستان میں تو جسے دیکھو سیلون کھول لیتا ہے مگر امریکہ میں پہلے باقاعدہ پڑھائی کرنا پڑتی ہے میں نے وہاں سیلون کھولنے سے پہلے فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نیویارک سے کاسموٹالوجی کی باقاعدہ ڈگری حاصل کی ۔

نیوٹریشن اینڈ سکن کےئر کورسز اس کے علاوہ ہیں ۔وہاں اگر آپ نے کسی کے ساتھ بھی کچھ غلط کردیا تو وہ آپ کو عدالت لے جائے گا جبکہ پاکستان میں عورتوں کے بال تباہ کر دےئے جاتے ہیں ان کی سکن فیشل کے نام پر برباد کردی جاتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
آج کل ڈرامہ انڈسٹری چونکہ کراچی شفٹ ہو گئی ہے اس لئے فنکار بھی زیادہ تر کراچی ہی میں عارضی طور پر شفت ہو گئے ہیں۔

زویا ناصر نے بتایا کہ میں امریکہ چھوڑ کر لاہور آئی ہوں اب لاہور چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی حالانکہ میرے پاس امریکا کا گرین کارڈ ہے لیکن مجھ سے وہاں نہیں رہا جاتا۔کراچی میں میں نے تین ماہ تک شوٹنگ کی ،درمیان میں ایک ہفتے کی بریک آتی تو میں لاہور بھاگ آتی۔میں کام کیلئے کراچی ضرور جاؤں گی مگر مستقل سیٹل ہونے کا کوئی پروگرام نہیں ۔اگر آپ کا کام اچھا ہے تو وہ آپ کو لاہورمیں بھی مل جائے گا۔


زویا ناصر نے بتایا کہ مجھے کوکنگ کا شوق ہے ،فرصت کے لمحات کچن میں گزارتی ہوں ۔نئی ڈشز ٹرائی کرتی ہوں۔گھر کی آرائش کا بھی شوق ہے ۔پاکستان اور امریکہ میں فیشن کے فرق کے سوال پر زویا ناصر نے بتایاکہ دونوں کا کوئی موازنہ نہیں ہے ،وہاں کی فیشن انڈسٹری بہت آگے ہے ۔ہماری ڈرامہ انڈسٹری مزید ترقی کرنے کی بجائے ایک جگہ رُکی ہوئی ہے کیونکہ اس میں لابی سسٹم بہت زیادہ ہے ۔

جب تک یہ ختم نہیں ہو گا ٹی وی انڈسٹری آگے نہیں جائے گی۔
راتوں رات شہرت ملنے کے حوالے سے زویا ناصر نے بتایا کہ شہرت یقینا اچھی لگتی ہے ،میں ایکٹنگ میں پیسہ کمانے نہیں آئی یہ میرا جنون ہے باقی میرا جو حق ہو گا وہ میں ضرورلوں گی۔میں ایکٹنگ کے عشق میں مبتلا ہو گئی ہوں اگر چہ یہ بہت مشکل کام ہے۔ایکٹنگ اور بیوٹی پروفیشن دونوں میرے خون میں ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑنے کا نہیں سوچ سکتی لیکن اداکاری میں چونکہ میں خود کو دریافت کررہی ہوں اس لئے آج کل زیادہ ایکسائیٹڈہوں۔

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments