”آپ کو بھول جائیں ہم“

گلوکارمہدی حسن خان کی ساتویں برسی پر”پلاک“میں شام کا اہتمام

منگل جولائی

Ap KO Bhool Jayeen Hum
سیدخالدیزدانی
جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئیگا یہ گیت جب بھی فضاؤں میں گونجتا ہے تو بے ساختہ مہدی حسن خان یاد آجاتے ہیں جنہوں نے اپنی فنی زندگی میں 6سوسے زائد گیت گائے جو اپنے وقت کے معروف اداکاروں پر فلمبندہوئے۔ایک دورتھا جب فلمی دنیامیں سلیم رضا،عنایت حسین بھٹی،منیرحسین چھائے ہوئے تھے اور پھر آہستہ آہستہ احمد رشدی،مسعودراناکے ساتھ مہدی حسن آگئے اور اداکار محمد علی ،کمال،وحیدمراد اور شاہد پر مہدی حسن کی آوازبے حد موزوں لگتی تھی مہدی حسن کو شہنشاہ غزل کا بھی خطاب ملا اور لتامنگیشکرنے مہدی حسن کی آواز سن کر کہا تھا کہ ”ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔


مہدی حسن کی پیدائش تقسیم ہند سے قبل18جولائی1927ء کو راجھستان کے علاقہ”لونا“میں ہوئی۔

(جاری ہے)

قیام پاکستان کے بعد یہ ہجرت کرکے منٹگمری(ساہی وال)آگئے۔گلوکاری کاان کو بچپن سے ہی شوق تھا یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں وہ مختلف تقاریب اور محفلوں میں اپنی آوازکا جادوجگایا کرتے تھے۔یہ50ء کی دہائی کی بات ہے جب وہ ریڈیوکراچی سے بھی منسلک ہوئے ان دنوں قومی ترانے کا خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری اور یزدانی جالندھری ایک فلم”شکار“بنانے کا پروگرام بنارہے تھے۔

بقول فلم ریڈیو(تدوین کار)رشیدحبیب جنہوں نے فلم”عندلیب اور پہچان“جیسی فلموں کی ایڈیٹنگ کی ،نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ یزدانی جالندھری نے ان کو منٹگمری (ساہی وال)میں سنا تھا لہٰذا جب فلم”شکار“کو بنانے کی تیاریاں شروع کیں تو گلوکارمہدی حسن خان کو بھی اس فلم میں پہلی بار گائیکی کا موقع دیا گیا۔
رفیق غزنوی کی یہ فلم اگر چہ کامیاب نہ ہو سکی اور نہ ہی کوئی فلم کا گیت مشہور ہوا مگر مہدی حسن کی آواز کو سب نے پسند کیا اور یوں ان کا فلمی سفرآگے بڑھنے لگا۔

1956ء میں فلم”کنواری بیوہ“میں بھی مہدی حسن کو گلوکاری پھر ہدایت کارروپ کے شوری کی فلم ”مس56ء“میں بھی گلوکاری کی جس کی موسیقی جی اے چشتی نے دی تھی۔1957ء میں ہدایتکار فدا یزدانی کی فلم”مسکہ پالش“جس کی موسیقی دیبونے ترتیب دی ،کے گیت یزدانی جالندھری نے لکھے اسے مہدی حسن نے گایا بعدازاں 60ء کی دہائی میں ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ دوگانا جس کی دھن رشیدعطرے نے ترتیب دی۔


”اک دیوانے کا اس دل نے کیا مان لیا“بے حد مقبول ہوا تھا پھر فلم”سسرال“میں موسیقار حسین لطیف نے مہدی حسن کی آواز میں گیت:”جس نے میرے دل کو درددیا“ریکارڈکروایا اس طرح وہ اور اردوفلموں کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں کے لئے بھی گانے لگے۔اس کے بعد مہدی حسن پنجابی فلموں میں بھی گانے لگے۔مہدی حسن خان کو سرکاری سطح پر تمغہ امتیاز اور تمغہ حسن کارکردگی سے نوازاگیا تھا جبکہ نیپال کی حکومت نے سب سے بڑے سرکاری اعزاز سے نوازا تھا۔

گزشتہ دنوں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈکلچر(پلاک)نے شہنشاہ غزل گلوکارمہدی حسن خان کی ساتویں برسی کے حوالے سے ایک شام کا اہتمام کیا تھا۔
پنجابی زبان کی معروف شاعرہ،ادیبہ صغریٰ صدف جو پلاک کی ڈائریکٹر جنرل ہیں علمی ادبی ثقافتی حوالے سے گاہے بگاہے تقریبات کا انعقاد کرواتی رہتی ہیں جو ان کی ماں بولی زبان سے دلچسپی کی بھی عکاسی کرتی ہیں ۔

مہدی حسن خان کی ساتویں برسی میں مہمانان خصوصی گلوکار غلام علی خاں اور سجاد مہدی (فرزندمہدی حسن)تھے جبکہ ہدایتکارومصنف سید نور،مصنف پرویزکلیم،گلوکار شوکت علی سمیت شوبز سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔اس تقریب کی خاص بات سعید سیکی کی کمپیئرنگ تھی ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کے سب گواہ ہیں وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لا تعداد ممالک میں اپنے فن کا جادو جگا چکے ہیں۔


مہدی حسن خان کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ اس شام کو سعید سیکی کی کمپیئرنگ سے بھی سب محظوظ ہوئے۔اس شام میں شریک گلوکاراؤں اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والوں نے مہدی حسن کے فن کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ابتدا میں صغریٰ صدف نے اس عظیم گلوکار کی یاد میں منعقدہ شام میں آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہماری خوشی بختی ہے کہ ہم ایسے لیجنڈ کے آرٹسٹ کی برسی منارہے ہیں۔

سعید سیکی نے یکے بعد دیگرے مہمانوں کو اظہار خیال کرنے کی دعوت دی۔
پرویز کلیم نے اور سید نے مہدی حسن خان کے بارے میں کہا کہ وہ ملک کا سرمایہ تھے جنہوں نے موسیقی کو زندہ رکھا گلوکار شوکت علی کے بعد سجاد مہدی نے غلام علی سے درخواست کی اگر آج آپ یہاں پر فارم کریں گے تو ابا(مہدی حسن)کی روح خوش ہو گی اس پر غلام علی خاں جو مہدی حسن کی برسی میں صرف شریک ہونے آئے تھے،نے سجاد علی کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے مہدی حسن کی مقبول غزل:
”آپ کو بھول جائیں ہم“سنائی جس سے سننے والوں کو شہنشاہ غزل مہدی حسن خان مرحوم کی یاد تازہ ہوگئی۔۔۔

Your Thoughts and Comments