سکارلیٹ جوہانسن

خوبصورتی اور ذہانت کا بہترین امتزاج

پیر اگست

Scarlett Johansson
 لیاقت علی جتوئی
2018ء میں ہالی ووڈ کی مہنگی ترین اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنے والی سکارلیٹ جو ہانسن کا شمار ہالی ووڈ کی پر کشش ترین اداکاراؤں میں ہوتاہے۔سکارلیٹ ہالی ووڈ کی واحد اداکارہ ہیں جنھیں Esquire'sمیگزین نے دوبار پرکشش خاتون کے اعزاز سے نوازاہے جبکہ People'sمیگزین ان کے کیرئیر کے دوران کئی بار”خوبصورت ترین“اداکارہ کا اعزاز دے چکا ہے۔

بلاشبہ،سکارلیٹ جو ہانسن بلا کی خوبصورت ہیں،تاہم اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان کی کامیابی محض ان کی خوبصورتی کی مرہون منت ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔
جو ہانسن نے بار بار اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ ہالی ووڈ میں ان کی کامیابی محض اتفاق نہیں۔انھوں نے The Avengers: Infinity Warمیں مارویل کے مشکل کردار کو انتہائی مہارت اور اعتماد کے ساتھ ادا کیا۔

(جاری ہے)

Herمیں انھوں نے صرف اپنی آواز سے کئی دلوں کو توڑ ڈالا جبکہ Lost in Translationمیں ان کی زبردست اداکاری کو بھلا کون بھول سکتا ہے،جس میں انھوں نے بل مرے جیسے بہترین اداکار کے مقابل اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔ویسے بھی18سال کی عمر میںRolling Stoneمیں ان کی اداکاری کو دیکھ کر ہی فلم بینوں اور ناقدین کو اندازہ ہو گیا تھا کہ مستقبل اسی لڑکی کا ہو گا اور آج یہ بات بلا جھجک کہی جا سکتی ہے کہ اُس وقت یہ پیش گوئی کرنے والے بالکل درست تھے۔


سکارلیٹ جوہانسن ایک باصلاحیت گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ان کی والدہ ایک آرکیٹیکٹ تھیں اور وہ بھی اداکارہ بننے کی خواہش رکھتی تھیں۔جو ہانسن اور ان کے بہن بھائی ایک ایسے گھرانے میں پلے بڑھے جہاں سینما کو”غذا“کی حیثیت حاصل تھی۔جب جو ہانسن8برس کی ہوئیں تو ان کی والدہ نے انھیں Lee Strasberg Theatre Institute for Young Peopleنامی ادارے میں داخل کر وادیا۔


ان کی والدہ کو اس وقت ہی اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کی سب سے کم عمر اولاد (سکارلیٹ جو ہانسن)بڑی ہو کر اداکارہ بنانے کی اپنی والدہ کی خواہش کو نہ صرف پورا کرے گی بلکہ ایک دن بڑی اداکارہ بھی بنے گی۔سکارلیٹ جو ہانسن کی بڑی بہن ایک کامیاب ’وائس اوور آرٹسٹ ‘ہیں ،جب کہ سکارلیٹ کا جڑواں بھائی ہنٹرجو ہانسن ایک کامیاب کمیونٹی آرگنائزر ہے اور وہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کی انتخابی مہم کا سر گرم رکن بھی رہ چکا ہے۔


اگر سکارلیٹ جوہانسن اداکارہ نہ بنتی تو وہ یقینا ایک کامیاب گلوکارہ ہوتیں۔انھوں نے اپنے 2اسٹوڈیو البمAnywhereاور(2008 I Lay My Head 2009 Break Up)ریلیز کیے۔تاہم جو ہانسن نے گلوکاری کے شوق کو بالکل ترک نہیں کیا۔اپریل2018ء میں انھوں نے Bad Dreamsنامی سنگل جاری کیا ہے۔
سکارلیٹ جو ہانسن کہتی ہیں کہ وہ ڈزنی پرنسز بننا چاہتی ہیں۔”کہتے ہیں کہ جب آپ ایک خواب کو بار بار دیکھتے ہیں تو ایک نہ ایک دن وہ خواب آپ پالتے ہیں۔

شاید میں نہیں تو ایک دن میری بیٹی ڈزنی پرنسز ضرور بنے گی“۔کئی طرح کے مشکل اور پیچیدہ کردار ادا کرنے والی سکارٹ جو ہانسن کہتی ہیں کہ انھوں نے فلموں میں تو کئی طرح کے کردار ادا کیے ہیں ،جن کے لیے انھیں کافی مشکل سے تیاری کرنا پڑتی ہے،تاہم ان کی زندگی کا مشکل ترین کردار 2014ء میں اس وقت شروع ہوا جب ان کے ہاں ایک پیاری سی بیٹی’روز ڈوروتھی‘پیداہوئی۔

’بلاشبہ یہ لائف ٹائم کردار ہے اور ممکنہ طور پرمیری زندگی کا سب سے مشکل کردار بھی‘۔وہ مزید کہتی ہیں ،’میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ میں ایک بچی کی ماں بننے کی ساری باتیں جانتی ہوں کیونکہ ورکنگ مدر بننا کافی چیلنجنگ ہوتا ہے ۔یہ ایک ناقابل یقین تحفہ ہے ۔وہ مجھے اپنا سپر ہیرومانتی ہے‘۔جو ہانسن کی بیٹی اتنی غلط بھی نہیں ہے،کیونکہ ہر ماں سپر ہیروہی ہوتی ہے۔


اسکارلیٹ جو ہانسن ہالی ووڈکی’سیاسی طور پر باخبر ‘اداکارہ بھی ہیں اور وہ اس کا کھل کر اظہار کرتی ہیں۔وہ معاشرے میں اپنے اسٹیٹس کو انتہائی ذمہ داری سے استعمال کرنے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔سکارلیٹ نے جنوری2017ء میں واشنگٹن میں خواتین کی جانب سے کیے گئے مارچ میں شرکت کی۔اس مارچ میں سکارلیٹ جو ہانسن نے ایک انتہائی طاقتور خطاب بھی کیا۔

انھوں نے کہا،’صدرٹرمپ،میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کو ووٹ نہیں دیا تھا۔میں چاہتی ہوں کہ آپ کو سپورٹ کروں لیکن اس سے پہلے یہ کہیں کہ آپ مجھے سپورٹ کرتے ہیں،آپ میری بہن کو سپورٹ کرتے ہیں،آپ میری ماں کو سپورٹ کرتے ہیں،آپ میری بیٹی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
2017ء کے مقابلے میں رواں سال کے دوران سکارلیٹ جو ہانسن کی آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوا اور اس اضافے کا کریڈٹ ان کی سپر ہیروموویAvengersکو جاتا ہے ۔اس فلم کی زبردست کامیابی کے باعث وہ 40.5ملین ڈالر کمانے میں کامیاب رہیں اور سال کی سب سے مہنگی اداکارہ ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔توقع ہے کہ2019ء میں اس سپر ہیروسیریز کی چوتھی فلم کی ریلیز کے ذریعے،سکارلیٹ جو ہانسن آئندہ سال بھی اپنی ٹاپ پوزیشن بر قرار رکھیں گی۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments