پاکستان کا جشن آزادی اور فنکار

پنجاب آرٹس کونسل ،پلاک ،الحمرا آرٹس کونسل کے زیر اہتمام یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات کا انعقاد

بدھ اگست

Pakistan ka jashn e azadi or fankar
سیف اللہ سپرا
پاکستان کے 72ویں جشن آزادی کی تقریبات ملک بھر خصوصاً ثقافتی حلقوں میں زور شور سے جاری ہیں۔لاہور چونکہ پاکستان کا ثقافتی مرکز ہے لہٰذا اس تاریخی اور ثقافتی شہر میں جشن آزادی کے پروگرام عروج پر ہیں۔تین بڑے ثقافتی اداروں پنجاب آرٹس کونسل،الحمراآرٹس کونسل اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ،آرٹ ایند کلچر کے زیر اہتمام یکم اگست سے جشن آزادی کے پروگرام منعقد ہورہے ہیں اور یہ سلسلہ چودہ اگست تک جاری رے گا۔

لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں یوم آزادی پاکستان کی نسبت سے روزانہ کی بنیاد پر ادبی وثقافتی پروگرامز جاری ہیں ،ان میں بچوں ،نوجوان کو آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع فراہم کئے جارہے ہیں،اس حوالے سے الحمراء آرٹس کونسل مال کمپلیکس میں 6روزہ الحمراء تھیٹر فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔

(جاری ہے)


ایگز یکٹوڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے اس حوالے سے کہا کہ الحمرا تھیٹر فیسٹیول اعلیٰ اور معیاری اقدار کے حامل اسٹیج ڈرامہ کے احیاء میں معاون ثابت ہو گا،الحمرا تھیٹر فیسٹیول میں پیش کئے گئے تمام ڈرامے کہانی ،کرداروں اور اپنے مکالموں میں اپنی مثال آپ تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہزاروں افراد کا تھیٹر فیسٹیول دیکھنا اور پسند کرنا ،الحمراکی اس کاوش کی کامیابی کا مظہر ہے،6روزہ الحمراتھیٹر فیسٹیول اعلیٰ اور مثبت معاشرتی رویوں کے فروغ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔انھوں نے مزید کہا کہ الحمرا آرٹس کونسل ادب وثقافت کا گہوارہ اور تہذیب وتمدن کے فروغ کاذریعہ ہے ،اس پلیٹ فارم پر ہر روز عوام کے لئے معیار ادبی وثقافتی سرگرمیوں پیش کی جارہی ہیں۔


انھوں نے تمام تھیٹر گروپس کی الحمرا تھیٹر فیسٹیول میں شرکت کے احسن اقدام کو سراہا اور کہا کہ تھیٹر فیسٹیول میں نوجوان فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا جو الحمرا کا خاصہ ہے۔الحمرا ڈرامہ فیسٹیول میں چھ ڈرامے جن میں ”پر میشر سنگھ“،”نہلے پے دہلہ“،”جھلی کتھے جاوے“،”دیکھ تو نے کیا کیا؟“،اج آکھاں وارث شاہ نوں “اور پریم گلی کی پریم کہانی شامل ہیں،پیش کئے گئے جنہیں بھر پور عوامی پذیرائی ملی ۔

ڈرامہ فیسٹیول میں ہر زندگی کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی اور الحمرا آرٹس کونسل کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔
لاہور آرٹس کونسل کی طرف سے ایگز یکٹوڈائریکٹر الحمرا نے الحمرا تھیٹر فیسٹیول میں شرکت کرنے والے تھیٹر گروپ کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں یاد گاری شیلڈ پیش کی۔ایگز یکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ یوم آزادی پاکستان کی تقریبات میں مفکر پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے پیغام کو عام کررہے ہیں،ملی جذبے کا فروغ ہمارا قومی فریضہ ہے جس کے لئے مربوط،منظم اور ٹھوس اقدامات کو بھر پور عوامی پذیرائی مل رہی ہے،آرٹ کے شعبے میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے نئے مواقع پیدا کرنے میں الحمرا کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔


ایگز یکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کو نسل الحمرا اطہر علی خان نے مزید کہا کہ میوزک پروگرام ”آزادی کے رنگ ،موسیقی کے سنگ“میں گلوکاروں نے جیوے جیوے پاکستان اللہ ہوا کبر،جگ جگ جیوے میرا پیارا وطن ،یہ وطن ہمارا ہے،سوہنی دھرتی پیش کئے۔فنکاروں نے وائلن ،سٹار ،سانگی ،گٹار،بانسری اور کی بورڈ پر پر فارم کرکے بھر پور عوامی داد سمیٹی ۔لاہور آرٹس کو نسل کے ذیلی ادارے الحمرا کلچر ل کمپلیکس قذافی سٹیڈیم میں ملی نغموں کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

جب الوطنی کے جذبے سے سر شار نوجوان گلوکاروں نے شاندار پر فارمنس کا مظاہرہ کیا ۔
الحمرا کے یوم آزادی کے پروگراموں میں قومی ہیروز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے ہمارے نوجوان احسن اقدار پر عمل پیرا ہو کر کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ وطن ہم نے طویل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے،ہر پاکستان کو ملک کی تعمیر وترقی کے لئے اپناکردار ادا کرنا چاہئے یوم آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کا مقصد نوجوانوں کو اس ملک کی عظمت ،اس کے قیام کی خاطر پیش کی گئی قربانیاں اور آزادی کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے۔

ملی نغموں کے پروگرام میں نوجوانوں نے جیوے جیوے پاکستان ،اللہ ہو اکبر،یہ وطن ہمارا ہے،سوہنی دھرتی ،سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے،اے میرے پیارے وطن ،لگا کر حاضرین کے دل جیت لیے۔ڈپٹی ڈائریکٹر الحمرا کلچر ل کمپلیکس نو ید الحسن بخاری نے کہا کہ ایگز یکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان کی سر براہی میں ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔


پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگو ئج آرٹ اینڈ کلچر ،محکمہ اطلاعات وثقافت ،حکومت پنجاب کے زیر اہتمام پاکستان کے 72ویں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات کا سلسلہ جاری ہے جشن آزادی کے حوالے سے ”میں نے پاکستان بنتے دیکھا“کے موضوع پر ایک مکالماتی نشست ہوئی جس میں ڈاکٹر صغرا صدف نے معروف سکالر ڈاکٹر سید اختر جعفری سے مکالمہ کیا۔ڈاکٹر سید اختر جعفری نے قیام پاکستان کے دوران رونما ہونے والے واقعات کو نہایت ہی درمندانہ انداز میں پیش کیا۔

انھوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے وقت میں 13سال کا تھا اور ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔
ہم بھارت کی ریاست کپور تھلہ میں رکھتے تھے۔میرے والدوہاں کے سکھ مہاراجہ کے ہاں ملازمت کرتے تھے۔جس کا سلوک اپنی رعایا کے ساتھ بہت ہی قابل تحسین تھا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان ہجرت کے دوران میرے بڑے بھائی شہید ہوئے اور میں نے اپنی آنکھوں سے لاشوں کے ڈھیر دیکھے۔

پاکستان آنے کے بعد والٹن روڈ پر واقع مہاجرین کے کیمپ کے دورہ پر قائداعظم محمد علی جناح سے مجھے ہاتھ ملانے کا بھی شرف حاصل ہوا جس کا لمس میں آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ جتنی عزت پاکستان نے دی ہے انڈیا میں رہتے ہوئے میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ڈاکٹر صغرا صدف نے کہا کہ ہمیں پاکستان اپنے بزرگوں کی طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوا ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔

اس کا تقاضا ہے کہ ہر فرد پوری دیانتداری ،تندہی اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرے تا کہ ہمارا ملک ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ایک عظیم ملک بن سکے۔
ڈی جی پلاک ڈاکٹر صغرا صدف نے بتایاکہ پلاک نے امن ویلفیئر سوسائٹی کے اشتراک سے اپنے ہال میں جشن آزادی کا اہتمام کیا جس میں طارق طافو ،ناصر بیراج ،سجاد طافو اور طاہر پرویز مہدی سمیت گلوکاروں نے اپنے گیتوں کے ذریعے وطن سے محبت کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ پلاک نے جشن آزادی کی تقریبات کا آغاز سوہنی دھرتی اللہ رکھے عنوان کے تحت ایک پروگرام سے کیا جس میں نوجوان گلوکاروں نے ملی نغمے پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ پلاک میں جشن آزادی تقریبات کا سلسلہ 14اگست تک جاری ہے گا۔

مزید متفرق کے مضامین :

Your Thoughts and Comments