ہاررفلمیں کئی افراد کی قاتل

ایسی زیادہ تر فلمیں ہالی وڈ میں بنی ہیں

جمعرات اگست

Horror Filmain Kayi Afrad Ki Qatil
 تحریم غفار
ہمارے ذہنوں میں قاتل کی شکل ایک انسان کی صورت میں ہی بستی ہے چاہے وہ کوئی غیر ہو یا قریبی ،ہمارا ماننا یہی ہے کہ قاتل صرف ایک چلتا پھرتا شخص ہی ہو سکتا ہے جو یا تو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے کر کسی کو مار دیتا ہے یا پھر لفظوں کے تیر چلا کر اگلے کے جذبات سے کھیلتا ہے اور قتل سے بڑھ کر جذبات کے قتل کی تکلیف محسوس کی جاتی ہے ۔

جان تو ایک ہی بار میں نکل جاتی ہے مگر جب دل پر لگتی ہے تو وہ زخم سب سے گہرا معلوم ہوتا ہے ۔اس کے برعکس آج میں ایک ایسی چونکا دینے والی خبر سے آشکار کرواتی ہوں کہ اب قاتل صرف انسان ہی نہیں بلکہ خوفناک فلمیں بھی قاتل بن چکی ہیں۔یہ خوفناک فلمیں پہلے محض تفریح کا ذریعہ تھیں لیکن اب وہ موت کی وجوہات میں سے ایک وجہ ثابت ہورہی ہیں۔

(جاری ہے)

اب تک نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو یہ فلمیں لے ڈوبی ہیں،کتنے لوگ خوفزدہ ہوکر دل کے ہاتھوں اپنی جان سے جا چکے ہیں،ایسے بہت سے کیسز ہمارے سامنے موجود ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خوفناک فلمیں موت کا سبب بن رہی ہیں۔


تھائی لینڈ کے ایک سینما گھر میں 77سالہ برٹش پینشنر بر نارڈ چنکنگ خوفناک فلم دیکھتے ہوئے دم توڑ گیا۔وہ سیاحتی دورے پر تھا کہ رات کو Paranormal chiller Annabelle comes homeدیکھنے سینما گھر گیا،فلم ختم ہوئی اور بتیوں کوروشن کیا گیا تو سینما گھر میں ایک ہنگامہ سابرپا ہو گیا کیونکہ برنارڈ چنکنگ مردہ پڑا تھا۔برنارڈ کی موت کیسے واقع ہوئی؟وہاں پر موجود ہر شخص الگ الگ انکشاف کر رہا تھا مگر اس سوال سے کوئی آشنا نہ تھا کہ خوفناک فلم دیکھنے سے آخری ایک شخص کی موت کیسے واقع ہو سکتی ہے؟پولیس کا کہنا تھا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کرکے پتہ لگایا جائے گا کہ موت ہونے کی وجہ آخر تھی کیا؟یہ ایسا دوسرا واقعہ ہے جس میں سینما گھرمیں Conjuringکی ہی سیریز دیکھتے ہوئے کوئی اپنی جان سے چلا گیا۔

2016ء میں انڈیا میں65سالہ شخص سینما میںConjuring 2دیکھتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے پر چل بسا تھا۔اس طرح کے بے شمار کیسز اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خوفناک فلمیں بہت سے لوگوں کی قاتل ہیں، زیادہ تر خوفناک فلمیں ہالی وڈ کی ہیں جو بعض اوقات حقیقت پر مبنی بھی ہوتی ہیں ۔جہاں ہالی وُڈ کی چند ایسی فلموں کا ذکر کیا جارہا ہے
(1973) The Exorcist
(2010) A night mare on elm street
(1988) Child's play
(2013) The conjuring
(2013)The rite
(2008)The strangers
(2007)Curse of the zodiac
(2011)The conjuring
Silent HouseاورAnnabelle (2014)جیسی فلمیں حقیقت پر مبنی ہیں۔

ان کے علاوہ اور بھی بے شمار فلمیں ایسی ہیں جن کا مقصد حقیقی زندگی میں درپیش معاملات کو اُجاگر کرنا ہے ۔اس کے برعکس اگر دیکھا جائے تو گزشتہ فلمیں حقیقی کہانیوں کے رنگ میں رنگی نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے ہالی وڈ فلمیں مزید خوفناک تسلیم کی جاتی ہیں۔جیسا کہ ہم پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ بے شمار ہالی وڈ فلمیں دیکھنے والوں کی موت کی وجہ بنی ہیں۔

دراصل اُن فلموں یا ان کے کرداروں کا کوئی قصور نہیں یہ تو خوف ہے جو ان فلموں کو دیکھنے سے بڑھتا ہے اور سا معین ہر آنیوالی نئی خوفناک فلم پر مزید جو شیلے ہو جاتے ہیں اور سینما گھر کی بڑی سکرین پر جا کر فلم دیکھنا پسند کرتے ہیں جبکہ وہ بخوبی ہر بات سے روشناس ہوتے ہیں کہ یہ شوق اُن کی جان کے لیے خطر ناک بھی ثابت ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجود وہ ہر نئی فلم کیلئے پہلے سے بھی زیادہ پر جوش ہو کر ٹولیوں کی صورت میں سینما گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔


تحقیق نے اس بات کی تہہ تک جانے کی کوشش کی ہے کہ آخر خوفناک فلمیں کس طرح سامعین کی موت کی وجہ ہیں اور تحقیقی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خوفناک فلموں میں یکدم ساؤنڈ کی لاؤڈ آواز دل کی دھڑکن تیز کر دیتی ہے اور کمزور دل کے سامعین اپنی تیز دھڑکن کے نارمل نہ ہونے پر دل کے دورے کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار ہو جاتے ہیں جو موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے۔


ریسرچ سے معلوم ہوتا ہے کہ 42سالہ آدمی نے avatarدیکھتے ہوئے طبیعت میں خرابی محسوس کی اور ہنگامی کمرے میں پہنچنے تک طبیعت شدید ہوتی گئی اور 11دن بعد وہ ہائی بلڈ پریشر کے سبب مر گیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اُس شخص کی موت خوفناک فلم دیکھنے سے ہوئی جس کی وجہ اُس کا معمول سے زیادہ جو شیلا ہوجانا تھا جس نے اُس کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا اور وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔


اکثر فلموں میں کرداروں کو بُری طرح سے قتل کرنا پڑتا ہے تاکہ فلم مزید حقیقی لگے اور بعض سا معین اس بات کا خود پر گہرا اثر لے لیتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ محض ایک فلم ہے اصل زندگی نہیں۔کہنے کو ان فلموں کے اصول یہ ہوتے ہیں کہ وہ فلموں میں موجود کرداروں کو قتل کرکے فلم کو مزید بہتر اور حقیق بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی فلموں نے اپنے کرداروں کو ہی نہیں بلکہ سامعین کو بھی قتل کر دیا جو اُن کی آمدنی کا ذریعہ تھے۔

جیسا کہ مارٹن شین نے طنز یہ طور پرکہا ہے کہ ہاررفلمیں اپنے ساتھ کئی روحیں لے گئیں بالخصوص کمزور دل کے سامعین میڈیکل بیماری کی وجہ سے دل کے دورے کی صورت میں جان کی بازی لگا چکے اور اسی کے عوض کئی لوگ سینما گھر میں مردہ پائے گئے۔
آج میں ایسی چند خوفناک فلموں کے بارے میں آگاہی دینا چاہوں گی جو حقیقت میں موت کا سامان پیدا کر گئیں اور یہ فلمیں صرف سامعین کی موت کا سامان ہی نہیں تھیں بلکہ ان فلموں کے کرداروں کو بھی یہ مزہ چکھنا پڑا جیسا کہ The warrens of virgina فلم کی بات ہے،1923ء میں جب ہالی وڈ زیادہ تر خاموش فلموں کا گھر سمجھا جاتا تھا وہاں ایک 24سالہ مرتا مین فیلڈ نے خود کو ایک اعلیٰ اداکارہ کے طور پر ثابت کیا مگر ایک حادثے نے اس اداکارہ کے خواب چھین لئے۔

وہ virgina فلم کے لیے ٹیکساس کے سیٹ پر کام کررہی تھی کہ درمیان میں اس نے وقفہ لیا اور اپنی گاڑی میں کچھ دیر آرام کرنے جا بیٹھی کہ خدا جانے کب ،کیسے اور نہ جانے کہاں سے ماچس کی تیلی آکر اُس کے کپڑوں پر گری اور آگ شعلوں کی مانند پھیل گئی جس میں وہ معصوم پھنس کررہ گئی ،اسے فوری ہسپتال منتقل کیا گیا مگر ایک ہی روز بعدا س کی موت واقع ہو گئی۔


تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفناک فلموں کا نوجوانوں اور بچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے جس کی ایک زندہ مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔Aliens can be deadlyایک اور ایسی فلم ہے جو تکنیکی طور پر اتنی خوفناک تو نہیں مگر 2010ء میں جنوبی بھارت کے رہائشی طالب علموں نےAlienاور تین دیگر فلمیں(Blood,Ghost and atmakatha)دیکھیں ۔اُن طالب علموں میں سے ایک جو آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا باتھ روم میں گیا اور چیختا ہوا خوف میں مبتلا غسل خانے سے بہار نکلا اور جس کمرے میں باقی بچے ابھی فلم دیکھنے میں مصروف تھے وہاں آکر گر پڑا۔

سب بچے فلم میں گم تھے کہ کسی نے اُس بے حوش بچے پر توجہ ہی نہ دی اور جب فلم ختم ہوئی تو ایک بچے نے غور کیا کہ کوئی بے حوشی کی حالت میں گرا ہوا ہے ۔ہسپتال جا کر پتہ چلا کہ بچے کی موت دل بند ہونے سے ہوئی۔وجوہات معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ فلم کے خوفزدہ اثرات نے بچے کو صدمے کا شکار کر دیا تھا۔ایک مطالعہ میں ریسرچر کر سٹن ہیرسن اور اُن کی یونیورسٹی آف وسکونسن کی ساتھی نے90فیصد شاگردوں پر پتہ لگا یا کہ بچپن یا جوانی دونوں ہی میں میڈیا خوف کے متعلق ردعمل پیدا کرتا ہے ۔


اس کے علاوہ تقریباً26فیصد اب بھی اس بات پر مزید ریسرچ ہورہی ہے۔ہیرسن کا کہنا ہے کہ اس بات پر کوئی تعجب نہیں کہ چار میں سے ایک فیصد اب بھی خوفناک اثرات کی اطلاع دے رہی ہے اور اس پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے۔ہر سال33سے36فیصد کیسز اب بھی موجود ہیں جو اس بات کے شکار ہیں کہ خوفناک فلموں کا اثر ایک ہفتے ذہنوں پر رہتا ہے ۔اس مطالعہ کے مطابق بہت سی علامات کی اطلاع دی گئی ہے جس میں چیخناچلانا(27فیصد)کانپنا(24فیصد)دل کی گھبراہٹ اور پیٹ درد (20فیصد)
دل کی بیماریوں میں اضافہ(18فیصد)اپنے آپ پر قابو نہ پانا(11فیصد )پسینہ،بخار،چکر یا سردرد سب کو ملا کر (10فیصد)۔


ہاررفلموں کے نفسیاتی طور پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟اس سوال کے جواب میں بہت سی فلموں کی وجہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ ہالووین اور دیگر ایسی خوفناک فلمیں جن میںThe Exorcist The Ring The Saw The Shiningشامل ہیں ۔سب سے پہلے تو اس چیز کی وضاحت پوچھی جاتی ہے کہ ہمارا دماغ ایک خوفناک فلم دیکھتے ہوئے آخر کیا کرتا ہے؟نفسیات کے ٹیچر ہیڈی ممبر کے مطابق زیادہ ترلوگوں کو آخر ایسی کیا ضرورت پیش آتی ہے کہ اُنہیں اپنے اعصابی نظام کو جاری کرنے کیلئے Adrenaline glandپیداکرنا پڑتا ہے۔

اس بات کو Emotion theoryسے منسوب کیا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ہاررفلموں کو دلچسپی سے دیکھا پسند کرتے ہیں اور کچھ ان فلموں کو بالکل خوفناک محسوس کرتے ہیں۔میتھرز کے بقولEmotion Theoryمیں انفرادی طور پر سب کے نفسیاتی اشارے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے بہت سے لوگ دل کی دھڑکن اور سانس کا اچانک سے تیز ہونا محسوس کرتے ہیں۔
ہاررفلموں کے بیشتر نقصانات ہیں جو ہر انسان کی نفسیات کے مطابق اس کے ذہن پر اثر چھوڑ جاتے ہیں۔

مگر سب سے زیادہ محسوس کیا جانے والا اثر نیند کا نہ آنا ہے ،خوفناک فلمیں دیکھنے کے بعد سامعین کو ساری رات نیند آنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ خوف اور بے چینی ہے۔اس کے علاوہ خوفناک فلمیں مزید نئے خوف پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں جس میں انسان چیزوں کو خوف سے منسلک کر لیتے ہیں۔میتھرز کے مطابق ہمارے گھر والے ہاررفلمیں نہیں دیکھتے کیونکہ ہم ہاررفلموں کو خطرے سے مشابہت دینے لگتے ہیں اس لیے ہار رفلمیں دیکھنے کے بعد عام زندگی میں بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈر جاتے ہیں اور اس اثر کو classical conditioningکے نام سے جانا جاتاہے۔


ان وجوہات کے باعث میتھرز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ہاررفلم دیکھنے کے بعد منفی حالات کا تجربہ کرے تو پھر اسے ایسی فلمیں دیکھنے سے پر ہیز کرنی چاہیے کیونکہ منفی اثرات بعض اوقات کچھ زیادہ خطر ناک بھی ہو سکتے ہیں ۔ان وجوہات کے باوجود انسان خوفناک فلمیں دیکھنے کی دلچسپی آخر کیوں رکھتا ہیں؟ایسی کیا چیز ہے جو سامعین کو جان کی بھی بازی لگانے پر مجبور کر دیتی ہے اور وہ مسلسل ہر نئی ہاررفلم کے جاری ہونے پر سینما گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔

ہمارے اندر چھپا تجسس ہمیں خوف زدہ فلمیں دیکھنے کی حوصلہ افزائی دیتا ہے ۔ہر انسان ایک ایسی نیچر کا مالک پایا جاتا ہے جو ہر چھپی چیز کے عیاں ہونے کی دلچسپی رکھتا ہے ،لوگ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں چیز کیسے ہوئی ،کب ہوئی وہ کیوں ہوتی ہیں ۔اور ہم اُن سب کو کیسے محسوس کرینگے۔
اس کے علاوہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے خصوصاً منع کیا گیا ہو اور ہر وہ عمل کرتے ہیں جس میں خطرہ ہو کیونکہ انسانی فطرت کو ہر انوکھا عمل کرکے لطف آتا ہے اور دراصل ان سب حرکات کی وجہ انسانی فطرت کے اندر کا تجسس ہوتا ہے۔

دلوں میں بسی بے چینی ہی انسان کو خوفناک عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔لیکن اس بات کا شکر ہے کہ ہم میں سے اکثر غلط خیالات کومسترد کرنے اور خطر ناک اور غیر اخلاقی سطحوں پراس طرح کے تجسس کو رد کرنے کے لیے اخلاقی فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments