پاکستانی فنکار بھی سراپا احتجاج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر سوشل میڈیا سرخ ہو گیا

پیر اگست

Pakistani fankar bhi sarapa ehtejaj
 وقار اشرف
مقبوضہ جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے،وہاں اضافی فوجی سر گر میوں ،حریت رہنماؤں کی نظر بندی اور کشمیریوں پر ظلم وبربریت کے خلاف پوری پاکستانی قوم احتجاج کررہی ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل370ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہو گی۔

دوسری جانب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی میں اضافی فوج بھی تعینات کررہی ہے جو پہلے سے ہی دُنیا کا وہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ فوج تعینات ہے۔پوری قوم کی طرح پاکستانی فنکار بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے سوشل میڈیا کے محاذ پر سراپا احتجاج ہیں۔وہ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ”ریڈفارکشمیر ،،بلیڈز فارکشمیر ،سٹینڈ ودکشمیر،مودی کلنگ کشمیر اور کشمیر انڈر تھریٹ“کے ساتھ ٹویٹس اور اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔

(جاری ہے)


اس ٹرینڈکے ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے وہ نہ صرف سرخ تصویر شیئر کررہے ہیں بلکہ پر وفائل تصاویر بھی اس سے تبدیل کر رہے ہیں اس طرح کشمیریوں کے لئے سوشل میڈیا سرخ ہو گیا ہے۔شوبز ستاروں میں اداکارہ حمزہ علی عباسی نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر آواز اٹھاتے ہوئے تمام فنکاروں کو بھی اس کی ترغیب دی۔حمزہ علی عباسی نے لکھا:”پوری دیانتداری کے ساتھ خود سے پوچھیے کہ آپ کشمیر کے لیے آواز کیوں نہیں اُٹھاتے؟کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟یا یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس بارے میں ذہن بنانے یا کوئی رائے دینے کے لیے مناسب حقائق سے باخبر نہیں؟یا آپ اس لیے کچھ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس سے ہندوستان میں آپ کے مداحوں پر یا مستقبل میں وہاں آپ کے ممکنہ کام پر اثر پڑے گا؟اگر آپ اپنے دل میں احساس رکھتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں بڑے پیمانے پر ظلم ہو رہا ہے اور آپ کو اس پر آواز اٹھانی چاہئے (کم سے کم اتنا تو ہم کرہی سکتے ہیں)لیکن پھر بھی آپ خاموش رہتے ہیں تو یاد رکھیے کہ یہ ساری فین فالوئنگ ہی آپ کی سب سے بڑی آزمائش بن جائے گی اور آپ اپنی اس خاموشی کے لیے اپنے رب کے سامنے بھی جوابدہ ہوں گے۔


حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں واقعی ظلم ہورہا ہے تو آپ کو کم از کم اس کے خلاف آواز ضرور بلند کرنی چاہئے۔اس کے بعد فنکاروں کی جانب سے ٹویٹس اور پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی فلم”ہیرمان جا“کی ہیر اداکارہ حریم فاروق نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ دُنیا کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش کیوں ہے؟وہاں جو بربریت ہورہی ہے اور بے گناہ انسانوں کا قتل کیا جارہا ہے اس پر خاموش کیسے رہا جا سکتا ہے،کیا ہم انسانیت بھول چکے ہیں،مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کا یہی وقت ہے۔

وہاں آگ اور خون کا جاری خوفناک کھیل اب ختم ہونا چاہئے۔گلوکار او راداکار فرحان سعید نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
گلوکار اور اداکار فخر عالم کے مطابق دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت خود ہی جمہوریت کا مذاق اڑا رہا ہے۔کشمیر مضبوط رہے گا۔اداکار ہمایوں سعید نے ”سٹینڈودکشمیر“کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے کشمیر میں جلد امن کی دعا کی ۔

اداکارعلی رحمان خان نے لکھا کہ آرٹیکل 370کا خاتمہ خطر ناک اور نا انصافی ہے،اس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں گے۔اداکارہ ماوراحسین نے کہا کہ عالمی ادارے کہاں ہیں،یہ سراسر نا انصافی ہے ۔اداکارعثمان خالد بٹ نے کہا کہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام ناانصافی ہے۔
ماہرہ خان نے گول مول انداز میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا:”کیا ہم سہولت سے اس کو روک سکے ہیں جس پر ہم بات کرنا نہیں چاہتے؟یہ ریت پر کھینچی ہوئی لکیروں سے بہت بڑھ کر ہے،یہ معصوم جانوں کے ضیا ع کے بارے میں ہے،آسمان جل رہا ہے اور ہم خاموشی سے رورہے ہیں۔

“بھارت کے بارے میں واضح اور دوٹوک موٴقف رکھنے والے سپر اسٹار شان شاہد نے اپنی ٹویٹ میں گنگا اشنان کرتے ہوئے نریندرمودی کی ایک تصویر لگائی اور تبصرہ کیا:”گنگا نہانے سے کشمیری شہیدوں کا لہو نہیں دُھلے گا۔“اداکارہ مہوش حیات نے بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر کلسٹربم برسانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنیو اکنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا،یہ جنگی جرائم ہیں،دنیا کو جاگنا ہو گا اور ان مظالم کو صرف روکوانا ہو گا۔“
اداکارہ وینا ملک نے اپنے ٹویٹ میں لکھا :”بھارتی فوج بدترین مظالم سے بھی کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے روک نہیں رکھ سکتی۔۔آزادی کشمیر ی عوام کا بنیادی حق ہے اور طاقت کے استعمال سے کوئی انہیں ان کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

“پاکستانی نژاد برطانوی اداکاررضوان احمد عرف رض احمد نے بھی مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری پوسٹ کی جس میں انہوں نے لکھا کہ بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری کی ضمانت دینے والے آرٹیکل 370کی منسوخی بھارت کی جانب سے ایک انتہائی شرمناک قدم ہے۔رضوان احمد کی جانب سے اس سے قبل میا نمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور جبری نقل مکانی کی خبروں پر بھی اظہار تشویش کیا گیا تھا۔


فنکاروں کے علاوہ بھی ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی کوئی بھی دلیل کشمیر میں اس کے مظالم کا جواز نہیں ہو سکتی جبکہ کشمیریوں کی اگلی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ دیگر کررہے ہیں۔ایک اور کا کہنا تھا کہ کشمیر کا تنازع طویل اور حساس ہے جسے سیاسی ،مذہبی اور تاریخی افراتفری کی بھینٹ چڑھا کر اس کے حل کر مشکل بنا دیا گیا لیکن اب اسے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے اور کشمیر امن کا حق دار ہے۔ایک اور صارف نے لکھا کہ کشمیر بھارت کااٹوٹ انگ نہیں ہے ۔ایک اور صارف نے کہا کہ ہم کشمیر کے تنازع میں بہت شدت دیکھ رہے ہیں ،خطے میں 35ہزار اضافی فوجی تعینات کر دیئے گئے ہیں جہاں پہلے ہی 5لاکھ فوجی موجود ہیں اس لیے ہم مسئلے پر عالمی توجہ کے لیے اس مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments