صنم سعیدبہتر سے بہترین کی طرف گامزن

یہ کہنا ہے صنم سعید کا جو پاکستان کی انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں

بدھ ستمبر

Sanam Saeed - behtar se bahtareen ki taraf gamzan
 فاروق احمد انصاری
”فلم بین سمجھدار ہو چکا ہے،وہ تفریح حاصل کرنے اورمحظوظ ہونے کے لیے کچھ نیا دیکھنا چاہتا ہے ۔اسی لیے فلم میکرز کو ہر بار پہلے سے زیادہ محنت اور پیپر ورک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کامیڈی ،ایکشن اور رومانٹک سمیت ہر قسم کی فلم بننی چاہیے،وقت کے ساتھ باکس آفس کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔پاکستانی فلمیں بنانے والوں کی اکثریت نا تجربہ کار ہونے کے باوجود فلم بینوں کے لیے ہر بار کچھ نیا لے کر آرہی ہے۔


یہ کہنا ہے صنم سعید کا جو پاکستان کی انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔وہ ڈراموں اور فلموں کے علاوہ ٹی وی کمر شلز میں بھی اکثر دکھائی دیتی ہیں۔پاکستانی ماڈل،گلوکارہ اور اداکارہ30نومبر1985ء کو لندن میں پیدا ہوئیں اور چھ سال کی عمر میں اپنے وطن پاکستان لوٹ آئیں،ان کی مستقل رہائش کراچی میں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے شوبز کے سفر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا۔

اس کے علاوہ تھیٹر ڈرامے بھی کیے جن میں مامامیاں،شکا گو اور دھانی قابل ذکر ہیں۔اداکارہ نے دل میرا دھڑکن تیری اور ایک کسک رہ گئی سمیت کئی مشہور ڈراموں میں قابل ذکر کر دار ادا کیے۔
صنم سعید اپنے ہر کردار کو اس کی جزئیات کے مطابق اداکرتی ہیں اور ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ”کردار ہی فنکار کی پہچان ہے،غیر معیاری کام سے شناخت کھونا نہیں چاہتی،اسکرپٹ اور اپنے کردار سے مطمئن ہوئے بغیرکوئی پروجیکٹ سائن نہیں کرتی۔

پاکستان میں اعلیٰ معیار کی فلمیں بننے لگی ہیں اور انڈسٹری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔“
ہم صنم سعید کی اس بات سے متفق ہیں کہ آج کل پاکستانی فلمیں بنانے والوں کی اکثریت بالکل نئی ہے،جو نا تجربہ کار ہونے کے باوجود فلم بینوں کے لیے ہر بار کچھ نیا فلیور لے کر آرہے ہیں ۔ماضی اور آج کی فلم انڈسٹری میں بہت تبدیلی آچکی ہے۔

اس شعبے میں پڑھے لکھے لوگ آرہے ہیں۔
آ پ اگر صنم سعید کے مداح ہیں تو ہم آپ کو ان کے بارے میں دلچسپ باتیں بتاتے چلیں۔وہ بچپن میں بہت شرارتی تھیں۔بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کی بنا پر وہ اپنا حکم چلانے کی کوشش کرتی تھیں ،جس پر بہن بھائیوں میں اکثر لڑائی ہو جاتی تھی اور پھر سب کو ڈانٹ پڑتی تھی ۔ان کے گھر کے باہر امرود کے درخت تھے،تویہ اپنے محلے کے دوسرے بچوں کو ساتھ ملا کرچوری چھپے امرود توڑنے جاتی تھیں مگر جب گھر والوں کو پتہ چلتا ،تو اس پر بھی بہت ڈانٹ پڑی۔


صنم کو اداکاری کا شوق بچپن سے ہی تھا۔وہ اپنی والدہ اور خالہ کے پرانے کپڑے اور چشمے پہن کر ڈرامہ تیار کرتی تھیں اور ساتھ میں اپنی بلڈ نگ کے بچوں کو بھی ملا لیتی تھیں۔جس دن ڈرامہ اسٹیج کرنا ہوتا تھا اس دن پر چیوں پر لکھ کر بلڈنگ کے سب گھروں کے دروازوں کے نیچے سے پرچی پھینک دیتی تھیں،اس طرح سب بچوں کو خبر ہو جاتی تھی اور وہ سب ڈرامہ دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے تھے۔


صنم کی والدہ ٹیچر تھیں،اس لئے گھر کا ماحول بڑا تعلیمی تھا مگر صنم تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں،اسی لیے انہوں نے تعلیم کے لیے بھی ڈرامے اور تھیٹر کے مضامین کا انتخاب کیااور تھیٹر اور ڈرامے میں لاہور سے بی اے کیا۔
صنم نے اپنا پہلا عوامی پلے اس وقت کیا جب صنم اے لیول میں تھیں، پہلے پلے کے ساتھ ہی یہ سلسلہ چل نکلا اور وہ دوسرے مختلف تھیٹرز سے منسلک ہوگئیں۔

بعد میں ٹی وی کے ساتھ ساتھ انھوں نے پردہ سیمیں پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر نا شروع کیا۔
سیاحت صنم کی کمزوری ہے ۔کراچی میں ”سی سائیڈ“ان کی پسندیدہ جگہ ہے۔صنم سب کی سنتی ہیں لیکن کرتی وہی ہیں ،جوان کو اچھا لگتا ہے،وہ کسی کو ناک آؤٹ نہیں کرتی مگر آخری فیصلہ ان کا اپنا ہی ہوتاہے۔
صنم سعید کئی فلموں میں کام کر چکی ہیں،جن کی کامیابی اور ناکامی کا تناسب ملا جلا ہے۔وہ قومی سطح پر بہترین اداکارہ کے کئی کمر شل ایوارڈز بھی جیت چکی ہیں۔صنم سعید نے2015ء میں فرحان حسن کو اپنا شریک حیات چنا ،جوان کے بچپن کے دوست بھی ہیں،کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے بینکر ہیں۔

مزید متفرق کے مضامین :

Your Thoughts and Comments