پرتاثر چہرہ اداکارہ بھی دلنواز․․․زینب احمد

وہ گلیمرس سے زیادہ کردار نگاری کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں مشکل،پیچیدہ اور سادہ ہر طرح کے کردار دئیے جاتے ہیں۔

جمعہ ستمبر

PurTaseer Chehra Adakara Bhi Dilnawaz - Zainab Ahmad
 درخشاں فاروقی
نوجوان اداکاروں کی ایک بڑی تعداد بیرونی ملکوں اور پاکستان کی نیشنل اکیڈمی آف پر فارمنگ آرٹس سے فارغ التحصیل ہو کر ٹیلی ویژن اور فلم کے میدانوں میں قدم رکھ رہی ہے۔ان ہی اداکاروں میں زینب احمد بھی شامل ہیں جنہیں پر تاثر چہرے اور پر فارمنس کی وجہ سے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔وہ گلیمرس سے زیادہ کردار نگاری کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں مشکل،پیچیدہ اور سادہ ہر طرح کے کردار دئیے جاتے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ پہلے انہوں نےARYڈیجیٹل کے سیریل بندش میں خود کو منوایا اور ساجد حسن کے ساتھ ساتھ مرینہ خان جیسی منجھی ہوئی شخصیتوں کے مقابل خود کو رجسٹر کروایا۔ایک غیر رسمی ملاقات میں انہوں نے بتایا
”میرانام زینب احمد ہے مگر گھر والے مجھے جینا اور دوست وکی پکارتے ہیں ۔

(جاری ہے)

میں 15فروری کو اسلام آباد میں پیدا ہوئی۔جہاں میرے والدین تجارتی شعبے سے وابستہ ہیں۔

میں نے چودہ(14)برس کی عمر سے اداکاری شروع کر دی تھی اصل میں ایک تو رجحان تھا شوق اور ولولہ تھا کہ کچھ کرکے دکھانا ہے۔تعلیم کے لئے لاہور آنا ہوا تو یہاں ایک سٹ کام میں بحیثیت مہمان شامل ہوئی یعنی کوئی کاروباری معاہدہ کئے بغیر پر فارمنس دی پھر اس پروڈکشن ہاؤس نے میرے کردار کو مستقل کر دیا تب تک میں بھی سنجیدگی سے اداکاری کرنے کا ارادہ کر چکی تھی بس پھر یکے بعد دیگرے آفر ز ملنے لگیں۔


”کیا آپ خود کو خوش قسمت اداکارہ سمجھتی ہیں؟“
”بالکل ،میں ہوں خوش قسمت جب ہی تو پہلا ڈرامہ”یسو مینجو ہار“نجی چینل پر جیسے ہی شروع ہوا وہیں سے آبرو،دعا اور ماں صدقے کے بعد بندش تک آفر زمل گئیں۔اب مجھے فلم کا انتظار ہے۔“
”فلم میں کیا کردار ادا کرنے کی خواہش ہے؟“
”ہمارے یہاں رومانوی کرداروں میں لڑکیاں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔

اور لوگ کہتے ہیں کہ جذباتی قسم کے کرداروں کے لئے میراچہرہ اور خدوخال بہت حد تک موزوں ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تم روتی دھوتی بہت اچھا ہو اس لئے مظلوم قسم کے کرداروں کے لئے بالکل فٹ ہو،فلم ایک بڑا میدان اور وسیع تر کینوس ہوتا ہے لہٰذا اسکرپٹ ایسا ہو کہ کردار میں جان محسوس ہو۔خواہ وہ کامیڈی ہی کیوں نہ ہو۔میں نے اب تک کامیڈی ڈرامے نہیں کئے۔

ممکن ہے کہ آگے چل کر اچھا پاور فل رول مل جائے۔ویسے میری ایک انوکھی سی خواہش ہے کہ جیسا بھی رول ملے اس میں ایک گانا بارش میں صرف پکچرائز ہو جائے۔یہ مجھے بہت اچھا لگتاہے۔“
”آپ نے کیا پڑھا لکھا ہے یعنی تعلیم کتنی ہے؟“
”میں نے گریجویشن سائنس میں کی پھر ذہن میں بدل گیا۔آرٹس کی طرف رجحان ہوا تو فلم،تھیٹر ،ٹی وی اور فلم ڈائریکٹر کی تعلیم حاصل کی۔

گھر میں سب ہی تعاون کرتے ہیں اور ہم دونوں بہنیں اپنی پسند سے جو پڑھنا چاہتی تھیں ہمارے والدین نے ہمارا ساتھ دیا۔اسلام آباد میں سب سے پہلے ایک اسٹیج پلے کیا۔اسے آپ میری شوبز میں پہلی انٹری کہہ سکتے ہیں ۔اور دس ہزار روپے معاوضہ لے کر دوستوں کے ساتھ ٹرپ پر چلی گئی۔سب پیسے خرچ کرکے واپس آگئی۔گھومنے پھرنے کا شوق تو تھا ہی اور والدین نے بھی کبھی بے جا روک ٹوک نہیں کی۔

اچھا برا سمجھا دیا اورمضبوط کردار کے لئے بڑی حد تک ساتھ دیا جب ہی تو میں لاہور ،کراچی اور اسلام آباد میں اعتماد سے کام کرتی ہوں۔“
”گھر میں آپ کے دل سے قریب کون ہے ؟“
”امی اور ابو دونوں ہی ،امی سے ہر بات شیئر کرتی ہوں اور ان کے کمرے میں بڑاسکون ملتا ہے۔ابو کے ہاتھ میں کتنا ذائقہ ہے یہ میں آپ کو بتانہیں سکتی ۔کئی بار انہوں نے بریانی بنائی اور ہر بار پہلے سے زیادہ ذائقہ دار لگی۔

وہ شوقیہ پکاتے ہیں مگر جب بھی پکاتے ہیں بہت اچھا پکاتے ہیں۔“
”جب کوئی سیریل ہٹ ہو جاتا ہے تو کیسے سیلیبریٹ کرتی ہیں؟“
”فیملی کے ساتھ گھر پر کوئی ڈیل منگوالیتے ہیں ۔آخری قسط مل جل کر دیکھتے ہیں کبھی دوست آجاتے ہیں تو باہر بھی چلے جاتے ہیں۔ میں کبھی تنہا نہیں رہتی یا مجھے نئے پیارے لوگ ملے ہیں جو مجھے تنہا نہیں رہنے دیتے۔“
”شادی کے لئے کیا سوچا ہے؟اپنی پسند سے یا والدین جہاں کہیں ،کرلیں گی؟“
”شادی تو ویسے اپنی پسند ہی سے کرنے کا ارادہ ہے۔

باقی یہ تو اللہ میاں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ممکن ہے کہ والدین کو کوئی اتنا اچھا لگے جو مجھے بھی برا نہ لگے۔“
”اپنے آپ میں کوئی تبدیلی کرنی پڑے تو کیا کریں گی؟“
”پہلے تو اپنے آپ کو سمجھا ؤں گی اور کوشش کروں گی کہ ڈسپلن میں آجاؤں اور وقت کی پابندی کرنا سیکھ لوں۔“
”سیروسیاحت کے لئے دنیا کی بہترین اورپسندیدہ جگہ؟“
”اٹلی اور صرف اٹلی،ایسا رومان پر وراورسحر اانگیز ملک کوئی دوسرا نہیں۔


”اتنی کم عمری میں ماں کا کردار ادا کرنا کیسا تجربہ رہا؟“
”ماں صدقے میں مجھے ماں بنا دیا گیا۔کردار کر دار ہی ہوتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ اداکاری ایک وقتی ساجذبہ تخلیق کرتی ہے وہ وقت گزر جائے تو ہم اپنے آپ میں ،اپنے چغے میں واپس آجاتے ہیں۔اصل میں کاسٹنگ کرتے وقت ڈائریکٹر نے مجھے کہا تھا کہ آپ کی نظروں میں ایک مخصوص چمک ہے۔

جگنو سے چمکتے ہیں آنکھوں میں جو مامتا کی بصری عکاسی کرتے ہیں ۔میں نے جواب دیا کہ میں اس کردار کو ہر قیمت پر کرلوں گی۔مجھے کیریئر کی ایسی کوئی پر واہ نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے اور کہی ماں ہی کے کردار نہ ملنا شروع ہو جائیں۔میں نے صرف ماں صدقے میں ماں بن کر خود کو پور ٹرے کیا ہے۔بہت نروس رہی ہوں اور ہر بار Exitedبھی ٹھیک ٹھاک ہوتی ہوں اور شکر ہے کہ پہلی بار ہی ٹیک اوکے ہو جاتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں نے ایکٹنگ کو بطور مضمون پڑھا ہے ۔ایڈیٹنگ اور کرداروں کو قریب سے دیکھا۔“
”اب تک کی زندگی سے کیا سیکھا؟“
”یہی کہ نہ وقت سے پہلے کچھ ملا کرتا ہے نہ ہی قسمت سے زیادہ کچھ ملا ہی کرتاہے۔“
”پاکستان کے لئے کیا سوچتی ہیں؟“
”آزادی اور امن بہت بڑی نعمتیں ہیں اللہ ہمیں برے حالات سے محفوظ رکھے(آمین)

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments