دل نے دل سے کہا ہے، عہد وفا۔۔۔

اس ڈرامے کا مرکزی خیال ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب نے مرتب کیا ہے. انہوں نے ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر پروجیکٹ کو تخلیق کیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے دلچسپ اور منفرد آئیڈیاز نے اس سیریل کو مزید بہترین بنایا ہے.

بدھ اکتوبر

Dil Ne Dil Se Kaha Hai - Ehd e Wafa
تحریر۔ کنول زہرا:
پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پلیک ریلیشن کے اشتراک سے تیار کردہ سنہرے دن اور الفا،بروو،  چارلی وہ ڈرامہ سیریز ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی تروتازہ ہیں.  
طویل عرصے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک اور ڈرامہ سیریل ٹی وی اسکرین کی زینت "عہد وفا" کی صورت میں بنی ہے.


عہد وفا چار دوستوں کی کہانی ہے. یہ چار لڑکے ایک کالج میں زیر تعلیم ہوتے ہیں مگر ایک سنگین شرارت کے سبب کالج سے نکال دئیے جاتے ہیں بعد ازاں مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ ہوکر وطن کی خدمت کے لئے کوشاں ہونے کا عزم کرتے ہیں.
آرمی آفیسر، صحافی، سیاستدان اور بیوروکریٹ کا یہ ساتھ دیکھنے والوں کے لئے بہت منفرد اور دلچسپ ہوگا.
 اس ڈرامے کا مرکزی خیال ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب نے مرتب کیا ہے.

انہوں نے ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر پروجیکٹ کو تخلیق کیا ۔

(جاری ہے)

ڈی جی آئی ایس پی آر  کے دلچسپ اور منفرد آئیڈیاز نے اس سیریل کو مزید بہترین بنایا ہے. سنہرے دن اور الفا، بروو، چارلی کے کپٹین فراز کی بریگیڈیر فراز کی صورت میں "عہد وفا" میں آمد بھی میجر جنرل آصف غفور کا آئیڈیا تھی.
یہ سیریل دوستی، وفا، محبت، ایمانداری سے مزین ہوکر عہد وفا بنا ہے جو وطن کے عشق سے سرشار ہے.
ڈرامے کا او ایس ٹی سونگ بھی ڈرامے کا مکمل عکاس ہے.

جس میں ڈرامے کے عناصر کے تحت دوستی، محبت اور پروفیشن کو عکس بند کیا گیا ہے. گانے کی شاعری عمران رضا کی تخلیق ہے جبکہ ساحر علی بگا، علی ظفر اور عیمہ بیگ نےآوازوں کا جادو جگایا ہے. جس کا میوزک شجاع حیدر کی کمپوزنگ ہے.  
 ڈرامے کے رائٹر مصطفی آفریدی  جبکہ ڈائریکٹر سیفی حسن ہیں.
 یہ آئی ایس پی آر اور ایم ڈی پروڈکشن کی مشترکہ پیشکش ہے
ڈرامے کی کاسٹ احد رضا میر، عثمان خالد بٹ، وہاج علی، احمد علی اکبر،زارا نور عباس، علیزے، ونیزہ احمد شامل ہیں.
عہد وفا پاکستان ٹیلی وژن اور ہم ٹی وی پر اتوار کی شب آٹھ بجے پیش کیا جا رہا ہے.


اب تک اس ڈرامے کی چار اقساط نشر ہوچکی ہیں. جس میں اسٹوڈنٹ لائف، دوستوں کی شرارتیں، غلطیوں کی وجہ سے کالج سے نکالے جانا، اس دوران آپس میں اختلافات پیدا ہونا، رانی کی نٹ کھٹ سی حرکتیں اور شاہ زین کے دادا جی کے ڈائیلاگز سے ناظرین لطف اندوز ہوچکے ہیں.
کچھ حلقوں کی جانب سے اس ڈرامے کو لیکر اس کے آن ائیر ہونے سے قبل ہی منفی رجحانات کو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی.

بہرحال ان کی کوشش رائیگاں گئی. کچھ تنقید کرنے والوں نے تو زورو نامی کتے تک کو آڑے ہاتھوں لے لیا بعد میں عہد وفا کے ناظرین نے سوشل میڈیا پر ان کی وہ درگت بنائی کہ ان عناصر نے خاموشی میں ہی بہتری جانی.
دور حاضر میں ففتھ جنریشن وار کی ٹرم سے سب واقف ہیں. اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان افواج کا شعہ  تعلقات عامہ اس جنگ کو لڑنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے.

الحمد اللہ پاک فوج نے نہ صرف دفاعی طریقے سے بلکہ نفسیاتی طریقے سے بھی سرحد پار دشمن کو پسپا کیا ہے. رواں سال 27 فروری کی سبکی کے بعد دشمن پڑوسی آئی ایس پی آر کی کاوشوں کو سراہنے لگا ہے.
بطور پاکستانی ہم سب کو اپنے سے یہ عہد ضرور کرنا چاہئے کہ ہم کسی نہ کسی صورت کوئی ایک کام ایسا زور کریں گے جس سے پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر ہو. اس ملک نے ہمیں کیا دیا سے پہلے ہمیں یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا ؟ اگر ہمیں شہری حقوق نہیں ملے تو کیا کبھی ہم نے معزز شہری بننے کی کوشش کی ؟
ڈرامہ سیریل عہد وفا، فوج اور عوام کے درمیان بننے والے تعلق کی ڈور کا ایک جدید تقاضہ ہے.

جس میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ فوج ہی نہیں بلکہ صحافی، سیاست دان اور بیوروکریٹس بھی اپنے منصب سے "عہد وفا" کرکے ریاست کا کل روشن اور خوشحال بنا سکتے ہیں. ملک کی فلاح و بہبود کی خاطر ان چار عناصر کا ایک پیج پر آنا بے حد ضروری ہے جب ہی ریاست کا مستقبل روشن ہوگا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments