خلیل الرحمن قمر کی کاف کنگناں

1947ء میں شروع ہونے والی داستان محبت کو انجام مل گیا

منگل اکتوبر

Khalil ur Rehman Qamar Ki Kaaf Kangna
 وقار اشرف
خلیل الرحمن قمر پاکستان میں فلم اور ڈرامہ کے حوالے سے بڑا اور مُعتبر نام ہے۔بطور مصنف ،نغمہ نگار،ڈائریکٹر ،پروڈیوسر اور ایکٹر صلاحیتوں کا لوہا منوایاہے۔حقیقت کے قریب ترکہانیاں اور کاٹ دار مکالمے ان کی پہچان ہیں۔بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ ،لنڈا بازار ،پیارے افضل ،لال عشق ،صدقے تمھارے، بنٹی آئی لو یو،میرا نام یوسف ہے ،محبت تم سے نفرت ہے ،ذرا یاد کر،جب ہتھیلی پرچاند لکھنا ،اُس پار،انوکھی ،بیوپار ،میں مر گئی شوکت علی ،لولائف اور لاہور ،میرے پاس تم ہو جیسے لازوال ڈرامے ان کے کریڈٹ پر ہیں ۔

قرض،گھر کب آؤ گے ،مکھڑا چن ورگا،کوئی تجھ سا کہاں، چناں سچی مچی اور میں پنجاب نہیں جاؤں گی جیسی فلموں کی کہانیاں لکھنے کے بعد ان کی بطور رائٹر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر فلم”کاف کنگناں “25اکتوبر2019ء کو پاکستان کیساتھ ساتھ بیرون ملک بھی ریلیز ہورہی ہے جس میں ایشال فیاض ،سمیع خان ،آبی خان ،عائشہ عمر، فضا علی ،ساجد حسن ،راشد محمود اور غیر اعجاز نے اداکاری کی ہے۔

(جاری ہے)

ٹریلر بے حد پسند کیا جارہا ہے اور فلم کی ریلیز کا شدت سے انتظار کیا جارہا ہے۔فلم کے حوالے سے خلیل الرحمان قمر کیساتھ ہونے والی گفتگو یہاں پیش کی جارہی ہے۔
خلیل الرحمن قمر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ فلم میں کئی نئے چہرے بھی متعارف کروائے ہیں جن میں ہیروئن ایشال فیاض اور آبی خان ،جو میرا بیٹا ہے ،شامل ہیں۔”کاف کنگناں“کے حوالے سے فلم کے ایک مکالمے میں وضاحت کی گئی ہے اور فلم بین فلم دیکھیں گے تو انہیں”کاف “اور ”کنگناں“کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔

فلم کی کہانی کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ سات آٹھ سال پہلے ایک بڑے انڈین ٹی وی چینل کے مالک لاہور آئے تھے۔سجاد گل کا مجھے فون آیا کہ باؤ جی کل آپ ایک بجے میرے گھر تشریف لے آئیں،میں نے کہا میں آدھے گھنٹے کی تاخیر سے آؤں گا۔مجھے ڈیڑھ بجے وہاں پہنچنے کیلئے صبح جلدی دس گیارہ بجے اُٹھنا پڑنا تھا۔
میں اگلے روز جلدی اٹھ گیا لیکن سجاد گل کا فون آگیا کہ آج کی میٹنگ کینسل ہو گئی ہے۔

پانچ چھ دن بعد پھر سجاد گل کافون آتا ہے کہ باؤ جی ہم بارہ بجے لینڈ کررہے ہیں آپ ڈیڑھ بجے میرے گھر پہنچ جائیں میں نے کہا اب ڈیڑھ نہیں دو بجے پہنچوں گا۔میں دو بجے وہاں پہنچا تو تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک شخص وہاں موجود تھا،سگار ہاتھوں میں تھا،بہت گریس فل شخصیت کا مالک تھا۔گفتگو کا آغاز ہوا تو میں واقعی ان سے ایمپریس ہو گیا حالانکہ میں کسی سے مرعوب نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح آپ کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے اپنے مسائل ہیں لیکن ہمیں ایسی کہانیاں لکھنی چاہئیں جس سے دنوں ملکوں کی عوام قریب آئیں ،جب Interactionہو گا تو جنگ کی امیدیں کم ہو جائیں گی۔
چالیس منٹ تک گفتگو ہوئی ،کھاناکھانے کے بعد گفتگوکا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ باؤ جی آپ ہمارے لئے کہانی لکھیں ناں۔پھرکہا کہ میرے پاس ایک کہانی ہے ،اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو میں آپ کو سناؤں ،میں سُننانہیں چاہتا تھا لیکن سجاد گل نے مجھے قائل کر لیا۔

کہانی کچھ یوں تھی کہ ”را“کا ایک ایجنٹ بارڈر عبور کرکے پاکستان آجاتا ہے ،میں نے کہا کیسے تو وہ کہنے لگے آپ رائٹرہیں یہ آپ نے بتانا ہے ۔اس ایجنٹ کا مشن یہ ہوتا ہے کہ اس نے وزیر اعظم پاکستان کے گھر میں داخل ہونا ہوتاہے، وہ مشن کی تکمیل کے جب قریب ہوتا ہے تو اس کا آمنا سامنا پرائم منسٹرکی بیٹی کیساتھ ہوتا ہے اور اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتاہے اور اس نے لڑکی ساتھ انڈیا لے کر جانی ہے ۔

میں نے کہا کیسے تو کہنے لگے یہ آپ بتائیں گے کیونکہ رائٹر آپ ہیں ۔
میں نے کہانی سننے کے بعد کہا کہ سجاد صاحب کو مجھ سے عشق ہے ،یہ میری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں، انہوں نے میرا کیسا تعارف کرایا تھا؟تو انہوں نے کہا یہی کہ ہندوستان اور پاکستان میں خلیل الرحمن قمر سے بڑا رائٹر کوئی نہیں ہے۔میں نے کہا”را“کے ایجنٹ کا وزیراعظم پاکستان کی بیٹی سے عشق لڑانے کا مطلب میری بیٹی سے عشق لڑاناہے، اس کی ایسی کی تیسی ۔

انہوں نے کہا باؤ جی آپ Biasedہور ہے ہیں تو میں نے کہا کہ کیا آپ متعصب نہیں ہیں۔میں نے کہا چلیں نہ میں Blasedہوتاہوں نہ آپ ہوں۔اب میں کہانی سناتاہوں کہ آئی ایس آئی کا ایک ایجنٹ ہندوستان میں داخل ہوتاہے ۔وہ جب مشن مکمل کر نے والا ہوتاہے تو اس کا سامنا بھارتی وزیر اعظم کی بیٹی سے ہوتا ہے اور اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔اب اس نے لڑکی ساتھ لانی ہے اور کیسے لاتی ہے ؟وہ میں بتاؤں گا اور انڈیا خود اسے ہارڈر تک نہ لائے تو مجھے رائٹر نہ مانیے گا۔

لیکن میں آپ کیلئے فلم نہیں لکھوں گا۔یہ کہہ کر میں واپس آگیا۔
انہوں نے اگلے روز پھرمجھے فون کیا کہ میں آپ سے متاثر ہوا ہوں مگر میں نے فلم لکھنے سے معذرت کر لی۔لیکن میرے دماغ میں یہ کہانی پھنس گئی تھی۔”کاف کنگناں“کی کہانی کے پیچھے یہ پس منظر ہے ۔فلم لکھنے میں مجھے ایک ماہ لگا ہو گا کیونکہ پوری کہانی تو میرے پاس کبھی کبھی ہوتی ہے ،پھر ساری کاسٹنگ کی ۔

میں ہر کام بسم اللہ پڑھ کر شروع کرتا ہوں اور پوری دیانتداری سے کرتاہوں،اللہ کے فضل سے وہ ہٹ ہو جاتاہے۔ایشال سے پہلے دو ہیروئنز رکھیں اور نکالیں۔سب سے پہلے سوہائے علی ابڑو کیساتھ پانچ دن کا شوٹ کیا مگر نکال دیا،پھر عروہ حسین کیساتھ 21دن کام کیا مگر نکال دیا اور پھر شروع سے شوٹ کیا۔صباحمید کو بھی نکالا، ریشم کو میں نے نہیں نکالابلکہ ایسے کسی نے پٹی پڑھائی تھی۔

میں نے اسے اس کی خواہش اور منہ مانگے معاوضے پر کاسٹ کیا تھا۔مہا 20تاریخ کو شوٹ کیلئے بہاولپور جانا تھا اور 19تاریخ کی رات کا ایک بج چکا تھا لیکن ریشم کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا،میں نے اسے سات آٹھ دفعہ فون کیا ،چودہ پندرہ بار میرے ایسوسی ایٹ نے کیا۔ہر بار یہی کہا گیا میں آج آرہی ہوں،کل آرہی ہو ۔رات کو ایک بجے میں نے ایسوسی ایٹ کو کہا کہ ریشم کو نکال دو کیونکہ اس ساری صورتحال کے پیچھے ضرورکوئی چکر ہے۔

ایسوسی ایٹ نے پھر فون کیا تو جواب آیا آدھے گھنٹے بعد فون کرتی ہوں۔آدھے گھنٹے بعد اس کے سیکرٹری کا فون آیا کہ ہمیں پورے پیسے ایڈوانس دیدیں ،میں نے کہا میں آپ کو پانچ دن کا ایڈوانس ابھی دیدیتاہوں اور چھٹے دن کی شوٹنگ اس وقت شروع کیجئے گا جب اگلے پانچ دن کیلئے پیسے مل جائیں۔
میں نے خود ریشم کو فون کیاکہ مجھے اصل بات بتاؤ تو اس نے کہا کہ میں آپ کو پندرہ منٹ میں بتاتی ہوں پھر اس کی طرف سے ایک میسج آتا ہے جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے ۔

ریشم کیساتھ کام کا یہ پہلا موقع تھا۔وہ کردار بعد میں فضا علی سے کروایا اور اللہ کا شکر ہے وہ کردار ریشم سے نہیں کروایا۔کیونکہ فضا علی نے رول کمال مہارت سے کیا ہے۔صباحمید کو نکالا تو اس کے ساتھ محمود اسلم اور روحی خان سمیت پانچ لوگوں کو بھی نکالناپڑا۔محمود اسلم کی جگہ پھر ساجد حسن کو کاسٹ کیا اور انہوں نے بھی کمال کی اداکاری کی۔

اس طرح پورے 49دن کی شوٹنگ فلم سے نکالی ہے یعنی ساری فلم دوبارہ بنانا پڑی ،جن فنکاروں کا کام نکالا انہیں مکمل ادائیگی کی جا چکی تھی ۔
عروہ کو نکالنے کی وجہ اس کی مس کمٹمنٹس تھیں ورنہ فرحان سعید سے میں آج بھی پیار کرتاہوں ،وہ میرے لئے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے۔”کاف کنگناں“کو بنانے میں چودہ ماہ لگے ہیں۔آئی ایس پی آر نے بھر پور لا جسٹک سپورٹ فراہم کی۔

میوزک ساحر علی بگا اور نوید واجد علی ناشاد نے دیا ہے ۔گانے شفقت علی خان ،راحت فتح علی خان ،فرحان سعید ،عارف لو ہار اور آئمہ بیگ نے گائے ہیں۔سارا میوزک”میڈ ان پاکستان“ہے ۔پوسٹ پروڈکشن بنکاک میں ہوئی ہے ۔میری زیادہ تر کہانیاں حقیقی ہوتی ہیں لیکن”کاف کنگناں“سچی کہانی نہیں ہاں فلم دیکھ کر یہ ضرور لگے گا کہ یہ حقیقی کہانی ہے کیونکہ ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔


یہ 2019ء کی فلم ہے لیکن1947ء کی تقسیم اس کا ایک تعلق ہے ۔یہ 1947ء کی ایک نامکمل لوسٹوری ہے جو 2019ء میں مکمل ہو نے جارہی ہے ،فلم کے تمام فنکاروں نے کمال کا کام کیا ہے ۔ایشال فیاض کو ہیروئن کیوں لیا؟اس حوالے سے خلیل الرحمن قمر نے بتایا کہ میں اسٹیبلشڈ ایکٹریسز کے نخرے برداشت نہیں کر سکتا،میرے ان سے بھی زیادہ نخرے ہیں لیکن جو لوگ کام کیساتھ مخلص ہیں ان کے پیروں میں بیٹھتاہوں۔

ایشال کی صرف تصویر دیکھ کر ہیروئن سلیکٹ کیا تھا۔پاکستان میں بھارتی فلموں پر بالکل پابندی لگنی چاہئے،میرے خیال میں انڈین موویز صرف گندخانہ ہیں ،ہمیں کوئی انڈر ایسٹیمیٹ نہ کرے ،اللہ نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہوا ہے ،جب ہمیں اپنی صلاحیتوں کی قدر ہوگی تو انڈیا کو پچھاڑ نا مسئلہ نہیں ہو گا۔
میں ان لوگوں کو ہیجڑا سمجھتا ہوں جو اپنی فلم انڈسٹری کو چلانے کیلئے بھارتی فلموں کے پاکستان میں بین کا سہارا لیتے ہیں،میں بھارتی فلموں کیساتھ مقابلے کا قائل ہوں۔

”کاف کنگناں“پاکستان کیساتھ ساتھ باہر بھی ریلیز ہو گی۔دو گھنٹے 34منٹ دورانیہ کی فلم میں پانچ گانے شامل ہیں۔میں آئٹم نمبرز کے ہمیشہ سے خلاف ہوں لیکن اس فلم میں ایک گانا ایسا بو جوہ ڈالا ہے اور فلم بین اسے سٹوری کیساتھ جڑا محسوس کریں گے۔سمیع بھی میری امیدوں پر پورا اترا ہے۔عائشہ عمر نے بہت اچھاکا م کیا ہے،اس کا آبی خان کیساتھ پیئر ہے۔نیئر اعجاز اور دیگر فنکاروں نے بھی بہت اچھا کام کیا ہے۔جہاں تک آبی خان کے کام کا تعلق ہے تو میں بطور ڈائریکٹر کہہ رہا ہوں کہ وہ ایک ونڈر فل ایکٹر ہے ،اس نے ”کاف کنگناں“میں یہ ثابت بھی کیا ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments