میں زویا ناصر

”اداکاری کے ذریعے خود کو دریافت کررہی ہوں“

جمعہ اکتوبر

Main Zoya Nasir
درخشاں فاروقی
ہم نے ہانیہ کے پروڈکشن یونٹ کا پتہ چلایا اور ڈائریکٹر قاسم علی مرید سے پوچھا ”کیایہ ہانیہ والی لڑکی سلیم ناصر(مرحوم)کی صاحبزادی ہیں؟“
”وہ بولے”جی نہیں یہ تو مولاجٹ کے ناصر ادیب کی صاحبزادی ہیں آپ کل آجائیے ملوادیتے ہیں آپ کو․․․․
ہانیہ کی اداکاری تو ہمیں اچھی لگی تھی مگریہ کہنا درست نہ تھا کہ وہ آئی اس نے دیکھا اور فتح کرلیا۔


”امی سیاستدان(آمنہ الفت)اور ابو فلم انڈسٹری کے بڑے رائٹر اور آپ میک اپ آرٹسٹ ہیں․․․یہ نئے کیریئر کا آغاز کیسے ہوگیا؟“
”یہ بات آپ کی صحیح ہے کہ امی اور ابو اپنے اپنے شعبے میں کام کررہے ہیں اور امتیازی حیثیت میں ہیں۔میں نے بچپن سے دیکھا کہ گھر میں آرٹسٹ آرہے ہیں۔سیاست دان آرہے ہیں،گفتگو ہوتی ہے فلم ،ڈرامہ انڈسٹری اور سماجی حالات کی مگر میری توجہ اپنی پڑھائی پررہی مجھے ان دونوں شعبوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔

(جاری ہے)

مجھے بیوٹیشن بننے میں کوئی اختلاف رائے تھانہ اعتراض اور نہ ہی والدین کی طرف سے کوئی دباؤ ہی تھا۔میں اپنے بیوٹی پارلر کے بجائے کسی اور جگہCreative Headکے طور پر کام کرتی رہی تاکہ میں کچھ اور بھی سیکھ سکوں۔میرا آرٹسٹ رجحان ضرورتھااس لئے میں بیوٹی بزنس کی طرف گئی۔“
”آپ کے ابو نے دوسری بار’مولاجٹ ‘لکھی،اس ضمن میں کوئی خاص بات بتائیں۔


”یہ بلاواسطہ طور پرمیرے ٹی وی کیریئر کی شروعات کی کہانی بھی ہے۔ابونے نئی فلم’دی لیجنڈ آف
 مولاجٹ‘کی کہانی لکھنا شروع کی تو وہ اس کی پروڈیوسر عمارہ حکمت ،ڈائریکٹر بلال لا شاری ،حمزہ علی عباسی اور دوسرے نوجوان اداکاروں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ مجھے اپنی دعاؤں اور اجازت کے ساتھ ٹیلی ویژن انڈسٹری میں جانے دیا تب تک میرا ذہن بھی بن چکا تھا اور میں بھی قائل ہو گئی تھی کہ اب یہ انڈسٹری پڑھے لکھے با شعور نوجوانوں کی ہے۔

ڈراموں کی آفرز آنے لگیں۔ہانیہ میرا پہلا پروجیکٹ تھاجسے کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں شعور اجاگرکرنے اور جلد بازی میں شادی کرنے کے منفی اثرات کو موضوع بنایا گیا تھا۔پلاٹ مضبوط تھا۔اداکاری کی گنجائش بھی تھی اور سوشل گھریلو بلکہ سبق آموز بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔“
آپ کے خیال میں لڑکیوں کے رشتے طے کرتے وقت چھان بین ضروری ہے یا صرف اسٹیٹس دیکھ کر رشتہ طے کر لینا مناسب ہے؟“
”ہانیہ کا موضوع بھی یہی تھاکہ ظاہری رکھ رکھاؤ،دولت اور سماجی حیثیت کی چکا چوند دیکھ کر مڈل کلاس کے لوگ بہت جلد مرعوب ہو گئے اوررشتہ کردیا بعد میں پردہ اٹھا کر وہ جرائم پیشہ لوگ تھے ۔

ہمارے خاندانوں کا پس منظر اب تک یہی چلا آرہا ہے کہ جس گھرمیں تمہیں بیاہ دیا جارہا ہے وہاں سے اب لاش ہی نکلے اور ہر حال میں سمجھوتہ کر و،طلاق کا کسی صورت سوال نہیں خواہ لڑکا ایسا کرلے۔بیٹی فرمانبردار رہے اور حالات میں پستی رہے مگر نہیں جناب لوگوں کی سوچیں بدل رہی ہیں ۔اب لوگ ظاہری دولت اور روپے پیسے کے بجائے لڑکے کی تعلیم اور کیریئر کو دیکھ رہے ہیں۔

اگر خدانخواستہ طلاق کی نوبت آجاتی ہے تو زندگی رکتی نہیں ۔وقت آگے بڑھتا ہے۔دنیا ختم نہیں ہوتی ۔اسی لئے میں نے ہانیہ کیا“
”افسوس ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی بھی کچھ ایسے ہی حالات سے گزری ہے ،کیا آپ ہانیہ کی کہانی کے ساتھ خود کوRelateکرتی ہیں۔“
”بالکل کر سکتی ہوں۔امی ابو نے اپنی دانست میں میری شادی بہت اچھی جگہ کی مگر جلد بازی میں کی تھی
 اور نہیں چل سکی ۔

میں یہاں کسی کو الزام نہیں دوں گی۔یہ شادی تو ہوتی ہی جواہے۔ہارجیت کا پتہ بہت دیر میں چلتا ہے تب تک حساس لو گ بکھرجاتے ہیں۔میں نے خود کو سنبھال لیا اور کہانی کارکی بیٹی ہوں،کردار بننے سے پہلے کسی مثالی اور سبق آموز کردار میں ڈھل گئی اور ہانیہ کاپروجیکٹ اسی لئے دل اور جان سے بہت قریب رہا۔“
”ساتھی اداکاروں میں کس کی اداکاری نے متاثر کیا؟“
”ویسے تو ہمارے یہاں ٹی وی پر ایک سے بڑھ کر ایک باصلاحیت اور خوبصورت اداکارائیں موجود ہیں اور مختلف ڈراموں میں ان کاکام بھی سراہے جانے کے لائق ہے مثلاً سجل علی بہت اچھی اداکارہ ہیں۔

ڈرامہ سیریل الف اللہ اور انسان بہت اچھی ٹریٹمنٹ کے ساتھ پیش کیا گیا۔زندگی گلزار ہے میں صنم سعید نے بہترین کام کیا میں ہوتی تو شاید اتنا اچھا پر فارم نہ کر پاتی۔ہانیہ نے حال ہی میں چند اچھے ڈرامے کئے وہ سنجیدہ اور کامیڈی دونوں بیک وقت کر سکتی ہے۔مہوش حیات نے ڈرامے کے بعد فلمیں بھی کسی اور خود کو ہرمیڈیم کے لئے کامیاب ثابت کیا۔ماہرہ خان کا بھی جواب نہیں ۔

یہ سب انڈسٹری پر راج کرنے والے چند نام ہیں،فہرست تو بڑی طویل ہے۔
”اداکاری کا تجربہ کیسا رہا اور یہاں ساتھی فنکاروں کا رویہ؟“
دونوں اچھے رہے۔اداکاری توخون میں شامل سمجھئے۔یہ ایک انداز کی مزدوری ہی ہے۔12سے18گھنٹے مسلسل کام کرنا پڑتاہے۔میرے پہلے سیریل ہانیہ میں تمام ہی منجھے ہوئے اداکار تھے مثلاً جنید خان جنہیں میں دس برس کی عمر سے اداکاری کرتے دیکھ رہی ہوں۔

انہوں نے میری بہت مدد کی ۔اسی طرح عتیقہ اوڈھو ،عصمت زیدی ،وسیم عباس ،فردوس جمال ،نیر اعجاز سب ہی کے ساتھ اچھی کیمسٹری بنی۔انہیں ذاتی طور پرتو میں جانتی ہی تھی ساتھ کام کرنے کا پہلا تجربہ تھا۔انہوں نے مجھے جونیئر ہونے کا احساس نہیں دلایا بلکہ سپورٹ کی ۔غنا علی کاذکر بھی خاص طور پر کرتی چلوں کہ جو ڈرامے
 میں میری بہن بنی تھیں بہت زندہ دل اور مددگار ہستی ہیں۔


”ہانیہ کے ساتھ دوسری شادی میں بھی کچھ اچھا نہیں ہورہا،یہ عورت کو اتنا مظلوم کیا دکھایا جاتاہے؟“
”ہمارے ایسے ہی ڈرامے ہٹ جارہے ہیں جن میں عورت پر ظلم وستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ ایسے ڈراموں کی ریٹنگ زیادہ آتی ہے ورنہ معاشرے میں تو تبدیلی کا احساس اجاگر ہورہا ہے۔لڑکیاں اب جواب دینے لگی ہیں اور بہت زیادہ رونا دھونا نہیں مچاتیں۔

ویسے معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں جولڑکیاں سر نہیں اٹھا سکتیں ان کی مجبوریاں بھی تو ہوتی ہیں اور استحصال کہاں نہیں ہوتا۔گھریلو تشدد تو ہمارے پڑھے لکھے،روشن خیال اور امیر کبیر خاندانوں میں بھی ہوتاہے بس ذرا انداز جداگانہ ہوتاہے۔مگر یہاں میں آپ کو ایک اچھی بات بتاؤ کہ ہمارے ڈرامے عورت کی مظلومیت سے شروع ضرور ہوتے ہیں مگرEmpowermentپر رفتہ رفتہ اختتام ہوتاہے ۔

یہ مثبت سوج ہے کہ یہ تو خاندان والوں کو احساس ہو جائے کہ وہ اب تک غلطی پر تھے یا لڑکی خود قدم اٹھائے ،ہنر سیکھے ،تعلیم حاصل کرے اور زندگی کے روشن پہلو کی طرف قدم بڑھادے۔اس طرح مکمل طور پر مظلومیت کے لبادے میں کوئی ڈرامہ نہیں بن رہا۔“
”کیا آپ نے ابو نا صر ادیب کی فلم مولا جٹ دیکھی تھی؟“
”نہیں․․․میں ان دنوں باہر تھی شہرت ضرور سنی مگر دیکھی نہیں۔

اب یہ لیجنڈ آف مولا جٹ ضرور دیکھی ہے۔“
لوگ کہتے ہیں کہ لولی ووڈ ختم ہوگیا مگر فلم میں ٹی وی کے لوگ آگئے۔فلم کی الگ پہچان نہیں رہی“
”پہچان کیسے رہتی۔لولی ووڈ نے نئے خیالات ،نئی سوچوں اور جدید خطوط پر کہانیاں نہیں پیش کیں۔اداکاروں میں بھی وہ بات نہ رہی۔نئے لوگ آئے ہی نہیں یا انہیں یہ پلیٹ فارم ملا ہی نہیں۔ٹیلی ویژن نے فلم انڈسٹری کو Reviveکردیا اور باہر یورپ اور ہالی ووڈ میں بھی یہ ہورہا ہے
 ۔

دنوں میڈیم ساتھ ساتھ چل رہے ہیں فلموں میں اداکاری کرنے والے ٹیلی ویژ ن پر گانے گاتے ہیں اور ٹیلی ویژن والے فلم بنارہے ہیں اس میں کیا مضائقہ ہے۔باہر تو گیم آف تھرونز جیسے موضوعات پر ڈرامے بننا شروع ہو گئے ہیں۔“
”آپ کا سموٹولو جسٹ بھی ہیں۔اس نئی تربیت کے بارے میں کچھ بتائیں۔“
”میں نے فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نیویارک سے کاسموٹوجی کی باقاعدہ سندلی۔

نیوٹریشن اینڈ اسکن کیئرکو رسزا س کے علاوہ کئے۔ کیونکہ وہاں بہت پڑھے لکھے سمجھدارپروفیشنل لوگ بیوٹی بزنس میں آتے ہیں اگر آپ سے اسکن کیئرکے سلسلے میں کوئی غلطی ہوجائے تو آپ پر مقدمہ بن سکتاہے۔یہاں تو قینچی چلانے والے کو ہیئر اسٹائلسٹ کہا جاتاہے اور فیشل کے نام پر اسکن تباہ کردینے والوں کو کو ئی پوچھتا نہیں۔“

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments