الحمرا فن کا دارالحکومت

ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی کچھ دھندلی یادیں

ہفتہ فروری

Alhamra Fan ka Daralhakomat
اطہر شاہ خان
ایسی عمر میں جب حافظہ اور ہاضمہ ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں ،ماضی بعید کی باتوں کو یادوں کی گرفت میں لانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی ننھا بچہ جال کے بغیر تتلی پکڑنے کے لئے دوڑ رہا ہو․․․․․لیکن اب بھی کچھ دھندلی یادیں ایسی ہیں جو ماضی کے جھروکوں سے جھانک رہی ہیں۔اگر میں تحریر کا آغاز 1965ء سے کروں اور یہ کہوں کہ سٹیج ڈرامے کا سنہرا دور تھا،ممکن ہے کچھ لوگ اسے ماضی پر ستی سمجھیں اور کہیں کہ اولڈ اِز گولڈ کے مصداق ہر شخص کو اپنی نوجوانی کا زمانہ سنہرا لگتا ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ 1965ء تک الحمرا کے اُفق پر سنہرا سورج طلوع ہو چکا تھا۔

میں1965ء سے پہلے کی شخصیتوں سے زیادہ واقف نہیں ہوں جنہوں نے اس زمانے کی نئی نسل سے پہلے سٹیج ڈراموں کی ترویج وترقی میں نمایاں کام انجام دئیے ،اس نا واقفیت کی وجہ یہ ہے کہ لڑکپن کے بعد ایک طویل عرصے تک میں لاہور سے باہر رہا تھا۔

(جاری ہے)


پرائمری کلاسیں میں نے لاہور میں پڑھی تھیں،سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں ہوئی،گریجویشن کراچی سے کیا اور 1965ء کے آغاز میں لاہور واپس آگیا۔

پھر پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور جر نلزم میں ایم اے کیا، لاہور سے غیر حاضری کے عرصے میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تھا اور علی احمد،نعیم طاہر،شعیب ہاشمی،کمال احمد رضوی اور صفدر میر جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگ ماڈرن ڈرامے کی راہ میں ہم جیسے نو واردوں کے لئے بہت سے چراغ جلا کر ہماری حوصلہ افزائی کے لئے جدوجہد کے پل کے اس پار کھڑے تھے۔

1965ء میں لاہور ٹی وی کے آغاز کو ابھی چند مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ میرے بہت محترم آغا ناصر صاحب نے مجھے ٹی وی کے لئے پہلی مزاحیہ سیریل ”لاکھوں میں تین“کی دعوت دی۔(ٹی وی کی پہلی طنزیہ سیریل”الف نون “تھی۔
ایک دن”لاکھوں میں تین“کی ریہرسل میں ایک اداکار نہیں آیا۔ایک اور اداکار نے کہا”وہ آرٹس کونسل میں ملے گا سارے آرٹسٹ وہیں ملتے ہیں۔

“یہ آرٹس کونسل کہاں ہے؟میں نے پوچھا تو اس کے چہرے پر ایسی شدید حیرت کے آثار نظر آئے جیسے میں نے پوچھ لیا ہو کہ”پاکستان کا دارالحکومت کہاں ہے؟“ اس زمانے میں فن کادارالحکومت الحمرا تھا۔ٹی وی کو بھی اچھے فنکار الحمرا ہی سے ملتے تھے اور یہ بات الحمرا کے لئے فخر کا باعث ہونی چاہئے کہ وہ آج بھی فن کا دارالحکومت ہے۔میں اس آرٹسٹ کے بتائے ہوئے پتے پر الحمرا پہنچااور مجھے خوشی ایسی حاصل ہوئی جیسی کولمبس کو امریکہ کا ساحل نظر آنے پر ہوئی تھی۔

اس پہلے دن کے بعد مشکل ہی سے ایسا دن ہو گا جس کی شام میں نے الحمرا میں نہ گزاری ہو۔ایک چھوٹا سا بو سیدہ ہال بہت سے درختوں اور سبزہ زار میں گھرا ہوا تھا۔لان کی گھاس یا کرسیوں پر ہر طرف فنکار اور ادیب بیٹھے نظر آتے تھے۔ان میں وہ آرٹسٹ بھی تھے جو اپنی محنتوں کا ثمر حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہے تھے ۔
چاروں طرف قلمی آموں کے درخت تھے جو اپنے موسم میں آموں سے لدے ہوئے نظر آتے تھے ۔

لیکن وہ آم پکنے کے بعد کہاں جاتے تھے؟یہ فنکاروں کی محنت کے ثمر کی طرح ایک سر بستہ راز تھا۔لان میں ایک طرف بیڈ منٹن کا کورٹ بنا لیا گیا تھا جس پر اکثر فنکار چائے کی شرط لگا کر بیڈ منٹن کھیلتے تھے اور ہارنے والا چائے پلانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا تھا۔اس بدحالی کی وجہ یہ تھی کہ جنگ کے بعد پورے ملک کے مالی حالات اچھے نہیں تھے تو فنکاروں کے پاس پیسوں کی کمی کیسے نہ ہوتی۔

اس زمانے میں مجھ سمیت بہت سے فنکار بسوں یا سائیکل پر سفر کرتے تھے۔اکثر پیدل بھی آتے تھے اور بتاتے تھے کہ Walkکرنا صحت کے لئے بہت مفید ہے۔الحمرا کی کینٹین میں چائے کا ہاف سیٹ چھ آنے کا ہوتا تھا لیکن چائے کے لئے اکثر دو فنکاروں کو کسی تیسرے کا انتظار کرنا پڑتاتھا۔کبھی چار فنکار پانچویں کا انتظار کرتے تھے اور وہ پانچواں عموماً افضال چٹا ہوا کرتا تھا۔

ہمارے لئے وہ ایک Solid Partyتھا کیونکہ افضال چٹا دل کا بھی اچھا تھا اور جیب کا بھی۔
رفتہ رفتہ حالات بہتر ہونے لگے۔رشید عمر تھانوی کے پاس موٹر سائیکل موجود تھی۔محمد قوی خان نے لیمبریٹا سکوٹر خریدلیا اور کھاتے پیتے گھرانوں میں شمار ہونے لگے۔رفیع خاور(ننھا)کچھ زیادہ خوش نصیب رہا۔اس نے پہلی فلم کا ایڈوانس ملتے ہی ایک پاور فل نئی موٹر سائیکل خریدلی اور ہمارے لئے ایلیٹ قرار پایا۔

طبقہ اشرافیہ میں داخل ہوتے ہی اس نے ہم جیسے پیدل عوام پر جگتیں کرنا چھوڑ دیں اور نہایت مد برانہ لہجے میں گفتگو کرنے لگا۔
الحمرا کے لان میں فیض احمد فیض صاحب کی بنوائی ہوئی کچھ کرسیاں آرٹ کا شاہکار تھیں۔یہ درخت کے سوکھے تنوں کو کاٹ کر بنائی گئی تھیں اور انہیں بڑی محنت سے تراشا گیا تھا۔کئی بوڑھے فنکار ان کرسیوں کو دیکھ کر اپنے مستقبل کے لئے ٹھنڈی سانس بھرا کرتے تھے۔

ان کی جوانیاں فن کی تراش خراش کی نذر ہو گئی تھیں جن میں خراشیں زیادہ تھیں اور ان سوکھے جسموں میں خشک تنوں کی طرح اب کوئی سبز کونپل پھوٹنے کا امکان نہیں تھا۔انہی سوکھی کرسیوں پر وہ عظیم ہستیاں بھی بیٹھتی رہی تھیں جنہوں نے بنجر زمینوں کی آبیاری کرکے علم وفن کی فصلیں تیار کی تھیں۔لاہور سے بہت برسوں تک باہر رہنے کی وجہ سے ان عظیم ہستیوں میں سے کسی سے مجھے ذاتی ملاقات کا شرف حاصل نہیں تھا۔

ایک بار میں ایک کرسی پر بیٹھا میز پر کاغذات پھیلائے کچھ لکھ رہا تھا کہ میں نے ایک صاحب کو آتے دیکھا،بالکل عام سا چہرہ مہرہ ڈھیلی ڈھالی چال،شلوارقمیض پر ایک واسکٹ پہنے ہوئے تھے جو اُجلی نہیں تھی ،بکھرے ہوئے سیاہ بال ۔میں نے سگریٹ سلگا تے ہوئے انہیں دیکھا اور پھر لکھنے لگا۔چند لمحوں بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ میری میز سے لگے کھڑے ہیں،میں نے سوالیہ نظر ان پر ڈالی تو وہ غصے سے مجھے دیکھ رہے تھے،کہنے لگے”سلام بھی نہیں کیا!! شرم آنی چاہئے!!“میں سخت حیران تھا کہ وہ صاحب جنہیں میں جانتا تک نہیں بلاوجہ مجھے کیوں ڈانٹ رہے ہیں ․․․․․وہ مزید غصے سے بولے۔

”میں تمہارے پاس کھڑا ہوں اور تم سگریٹ پی رہے ہو!!!“
میں نے ادب سے پوچھا․․․․․”آپ پٹرول ہیں“انہوں نے سخت غصے سے گردن کو جھٹکادیا اور قریبی میز کی طرف بڑھ گئے،اتنے میں الحمرا کے دفتر سے وابستہ محمد اسحاق قریب سے گزرا،میں نے اسے روک کر آہستہ سے پوچھا”یہ صاحب کون ہیں جو مجھے گھور رہے ہیں!“
محمد اسحاق نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولا :”ارے !آپ انہیں نہیں جانتے؟یہ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نذیرا حمد ہیں،پورے پاکستان میں ان کے ہزاروں لاکھوں شاگرد ہیں!“
میں خوشی اور حیرت سے چونک پڑا،ڈاکٹر نذیر احمد کا نام تو میں نے سنا تھا مگر دیکھا نہیں تھا․․․․․․!
محمد اسحاق دفتر کی طرف چلا گیا تو میں ڈاکٹر صاحب کی میز کی طرف بڑھا،اب ان کے چہرے پر غصے کی جگہ کسی گہری سوچ کا سایہ تھا۔

میں نے احتیاطاً سلام کیا،وہ مسکرائے میں نے گزارش کی۔”جناب!جب آپ میرے پاس تشریف لائے تو شاید آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی تھی۔“
بڑی بے تکلفی سے بولے․․․․․ہاں یار․․․․میں سمجھیا ساں تو ں میراشاگرد ایں!“
میں نے عرض کیا۔”افسوس ہے کہ میں نے گریجویشن گورنمنٹ کالج سے نہیں کیا۔کاش مجھے یہ سعادت حاصل ہوتی کہ میں آپ کا شاگرد ہوتا․․․․․․!“
وہ بڑی خوش دلی سے ہنسے اوربولے․․․․․․”بہہ جا!جیہڑا مرے کول بہہ جاندا اے او آپے ای شاگرد ہو جاندا اے․․․․!“
الحمرا میں صرف ڈرامہ آرٹسٹ اور رائٹرز ہی نہیں اپنے دور کے مشہور ترین موسیقار ،رقاص،مصور،ادیب ،دانشور،صحافی اور شاعر بھی آیا کرتے تھے۔

میں نے احمد ندیم قاسمی،احسان دانش ،میرزا ادیب،حبیب جالب ،منیر نیازی اور ناصر کا ظمی کو کئی بار وہاں دیکھا،مشہور موسیقار فیروز نظامی صاحب روز ہی آتے تھے،وہ خاصے بزرگ تھے مگر دوست بن گئے تھے،موسیقی سے ہٹ کر ان کا شغل یہ تھا کہ رنگ اور روشنی سے علاج کیا کرتے تھے،اس بارے میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی ،وہ اپنے گھر کی چھت پر نیلی پیلی ہری اور سرخ بوتلیں دھوپ میں رکھا کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ دھوپ سے ان رنگین بوتلوں کے پانی میں بیماریوں کے علاج کی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔


ایک دن میں کینٹین سے اپنے لئے چائے منگا کر چینی ڈال رہا تھا کہ وہ مجھے اکیلا دیکھ کر آگئے،میرا موڈ خراب تھا اور میں بہت اُداس بھی تھا،انہوں نے پانی جیب سے ایک چھوٹی سی نیلی یا پیلی بوتل نکالی اور مجھے تھما کر بولے:”روزانہ صبح ،دوپہر شام اس بوتل سے تین خوراک پانی پیا کریں،ایک گھونٹ ابھی لے لیں،اس پانی سے جذبات ٹھیک ہو جاتے ہیں“میں نے غصہ سے کہا۔

جذبات کا میں کیا کروں کوئی ایسی دوا ایجاد کریں جس سے حالات ٹھیک ہو جائیں۔انہوں نے برامان کر بوتل میرے ہاتھ سے چھین لی اور اتنے ناراض ہوئے کہ میری چائے اٹھا کر پی گئے۔اپنی پہلی ٹی وی سیریل”لاکھوں میں تین“ (مرکزی کردار قوی،علی اعجاز،قمر چودھری)کی بے انتہا مقبولیت سے مجھ میں کافی خود اعتمادی آگئی تھی، میں نے ایک سٹیج ڈرامہ”چڑیا گھر“لکھا اور الحمرا میں اسے سٹیج کرنے کے لئے ڈیٹ حاصل کرنے کی جستجو میں لگ گیا۔


ان دنوں ڈیٹ حاصل کرلینے والے شخص کو لوگ مبارک بادیں دیا کرتے تھے کیونکہ قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا،مجھے بھی بہت پریشان کیا گیا۔ایک دن مشہور ڈرامہ نگار خواجہ معین الدین”الحمرا“ آئے تو لان میں کوئی ریہرسل ہورہی تھی ،میں انہیں کینٹین کے برابر اس بڑے کمرے میں لے گیا جس پر ٹین کی چھت تھی اور جس کی خستہ دیواروں پر تصویریں لٹکا کر مصوروں کے لئے نمائش گاہ بنا دیا جاتا تھا ۔

خواجہ معین الدین صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے اپنی پریشانیوں کا ذکر کیا کہ مجھے ڈیٹ حاصل کرنے میں کتنی دشواریاں پیش آرہی ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو آسانیاں بھی مہیا ہیں۔
میں نے بلند لہجے میں بڑے جوش اور غصے سے کہا”آخر نئے لوگوں کی راہ میں دیواریں کیوں کھڑی کی جاتی ہیں؟کیا کسی طوفانی دریا کو بند باندھ کر روکا جا سکتاہے؟اگر میں الحمرا میں ڈرامہ نہ کر سکا تب بھی میرا جذبہ نہیں مر سکتا،ایک دن آئے گا جب میں اپنی محنت اور صلاحیت سے بوسیدہ ستونوں کو گرا دوں گا۔

”خواجہ صاحب مسکراتے ہوئے ایک ”اینگری ینگ مین“کی ضرورت سے زیادہ اونچی باتیں سنتے رہے،پھر انہوں نے میرے کاندھے پر تھپکی دی اور بولے:”بر خور دار!آپ محنت کرتے رہیے،ایک دن کامیابی ضرور ملے گی․․․․․انشاء اللہ ،آپ سٹیج ڈرامے کی دنیا میں بھی نام پیدا کریں گے لیکن ایک نصیحت یاد رکھئے کہ جب آپ میری عمر کو پہنچیں گے تو حالات کے دھکے اور وقت کے تھپیڑے کھاکھا کر آپ کا سارا غصہ نکل چکا ہو گا۔


خواجہ صاحب نے درست کہا تھا،میرا سارا غصہ ،بوسیدہ ستونوں کو گرانے کی ساری خواہشیں اور چٹانوں سے ٹکرانے کا تمام جوش وقت سے بہت پہلے نکل گیا․․․․․․مگر کام کرنے کا جذبہ اب بھی باقی رہ گیا تھا۔” چڑیاں گھر“پیش کرنے کے لئے ڈیٹ بصد مشکل مل ہی گئی اور یہ کھیل تو قعات سے کہیں زیادہ کامیاب رہا۔محمد قوی ،علی اعجاز،مسعود اختر ،عطیہ شرف،جمیل بسمل اور ثمینہ احمد نے اس میں کمال کی پر فارمنس دی تھی۔
(جاری ہے)

مزید متفرق کے مضامین :

Your Thoughts and Comments