پاکستانی موسیقی سے وفا کا رشتہ نبھارہا ہوں

”بھنگڑا کنگ“ملکو سے خصوصی گفتگو

پیر فروری

Pakistani Mousiqi Se Wafa Ka Rishta Nibha Raha HooN
وقار اشرف
یہ اعزاز بہت کم گلوکاروں کے حصے میں آتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی گائیں اُسے قبولیت عام حاصل ہو جائے۔ بھنگڑا کنگ ملکو کا شمار ایسے ہی گلوکاروں میں ہوتاہے جن کے گائے ہوئے سارے گانے ہی عوام میں مقبول ہوئے ہیں۔آج کل سٹوڈیوز کا دور دورہ ہے اور بہت ساری ملٹی نیشنل کمپنیاں ٹی وی چینلز کے ساتھ مل کر اپنے کاروباری فائدے کے لئے میوزک کو پروموٹ کرنے کی آڑ میں سٹوڈیوز لانچ کر رہی ہیں اور من پسند گلوکاروں کو اس کا حصہ بنا رہی ہیں لیکن ان سٹوڈیوز میں ایک ایسا سٹوڈیو بھی لانچ ہوا ہے جس نے پاکستان بھر سے باصلاحیت لوگوں کو ڈھونڈا اور اُنہیں کسی سفارش اور پیسے کے بغیر پروموٹ کیا اور راتوں رات اس سٹوڈیو کی مقبولیت نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔

وہ سٹوڈیو ”ملکو سٹوڈیو“ہے جس میں اسٹوڈیو کے روح رواں ملکو کے ساتھ پی ٹی آئی کے ڈی جے اور شاعر قیصر ندیم گڈونے بھی بھر پور ساتھ دیا ہے۔

(جاری ہے)

ملکو سٹوڈیو سیزن ون مکمل ہو چکا اور کروڑوں روپے سے لانچ ہونے والے سٹوڈیوز کے شاید اتنے گانے ہٹ نہیں ہوئے ہوں جتنا ملکو سٹوڈیو سے ریلیز ہونے والا ایک گانا”رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے“ہٹ ہوا اور اسی گانے کی وجہ سے ملکو صف اول کے گلوکاروں کی صف میں شامل ہو گئے۔

ملکو سے ان کے سٹوڈیو میں ہونے والی ملاقات میں جو گفتگو ہوئی وہ یہاں پیش کی جارہی ہے۔
بھنگڑا کنگ ملکو نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اپنے ابتدائی دور میں بہت محنت کی ،بہت دھکے بھی کھائے اور بہت سارے سٹوڈیوز کے چکر بھی لگائے ،کوئی بھی مجھے سنجیدہ نہیں لیتا تھا لیکن میں نے اپنی کوشش ،محنت اور جدوجہد جاری رکھی۔آج اللہ کے کرم اور والدین کی دعاؤں کے نتیجے میں آپ کے سامنے ہوں۔

اسٹوڈیو بنانے کا خیال کیسے آیا؟اس حوالے سے ملکو نے بتایا کہ مجھے پتہ ہے کہ نئے گلوکاروں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے ،انہیں کیا کیا مسائل در پیش ہوتے ہیں اور انہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔میں نے نئے گلوکاروں کو اسی لیے موقع دیا ہے اور انہیں پروموٹ کر رہاہوں تاکہ وہ اس شعبہ میں آکر پریشان نہ ہوں۔میں نئے گلوکاروں کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ اگر اس طرف آگئے ہیں تو ہمت نہ ہاریں اور نیک نیتی کے ساتھ اپنی محنت جاری رکھیں۔

ملکو سٹوڈیو سیزن ون کو سوشل میڈیا سے لوگوں کی بے پناہ محبت اور پذیرائی ملی ہے جس سے میرا حوصلہ بڑھا،اسی مہینے ملکو سٹوڈیو سیزن 2لانچ کرنے جا رہا ہوں جس میں نئے گلوکاروں کے گانے بھی سننے والوں کو ملیں گے۔
ہماری حکومت اور پاکستان بھر کی آرٹس کونسلوں کو بھی چاہیے کہ وہ صرف پریس کا نفرنسز نہ کیاکریں بلکہ میوزک کو پروموٹ کرنے کے لئے عملی اقدامات بھی کریں جو نظر بھی آئیں۔

لاہور میں الحمراء میوزک کے حوالے سے ضرور کام کررہا ہے لیکن وہ نا کافی ہے اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ملکو نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ملکو سٹوڈیو میں کوئی سپانسر شپ نہیں ہے ،یہ اپنی مددآپ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ہمیں حکومت کی طرف بھی پذیرائی نہیں ملی،تمام تر پیسہ میں خود لگاتا ہوں جبکہ ہماری آرٹس کو نسلیں بے جا تنخواہوں اور ٹی اے ڈی بنانے کے علاوہ میوزک کو پروموٹ کرنے کے لئے کوئی پراجیکٹ لانچ نہیں کرتیں۔

پنجاب میں ثقافت کا وزیر بار بار تبدیل کیا جاتاہے اور ثقافت کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ہمارے فنکاروں کے گھروں کے چولہے کئی کئی ماہ سے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں،میری ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ وہ ان کی داد رسی کرتے ہوئے ان کی مشکل دور کریں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور فیاض الحسن چوہان سے یہ بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ میوزک کی پروموشن کے لئے ہمارا کچھ خیال کریں۔

سرکاری ٹی وی ہمارا سب سے بڑا ٹی وی چینل ہے لیکن اس پر سب سے کم وقت میوزک کے لئے رکھا گیا ہے ،سرکاری ٹی وی پر میوزک کی پروموشن زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیے۔
 میں پی ٹی وی پر میوزک کا پروگرام دینے کے لئے تیار ہوں۔جب بھی شوبز انڈسٹری کی بحالی کی بات ہوتی ہے تو کبھی گلوکاروں کی بات نہیں کی جاتی جبکہ پوری دنیا میں شوبز کے حوالے سے میوزک کے نام سے ہی پاکستان کو پہچانا جاتاہے ۔

میوزک آئیکون اُستاد نصرف فتح علی خان نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا مگر افسوس ہمارے ملک میں گائیکی کے نامور گھرانے موجود ہیں،اُنہیں نہ حکومت اور نہ ہی نام نہاد کمپنیز پوچھتی ہیں بس اپنے مطلب کے لئے استعمال کرتی ہیں۔اُستاد نصرت فتح علی خان نے عمران خان کے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔پوری دنیا میں عمران خان اور نصرت فتح علی خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے چیر یٹی شوز کیے تھے،یہ اعزاز ایک گلوکار کو حاصل ہے۔

ملکو نے بہت سے سوالات کا جواب یہ کہہ کر نہیں دیا کہ میں سچ بولتا ہوں لیکن کسی کی غیبت نہیں کرتا،ماں باپ نے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کی ہے،کسی کی دل آزاری کی کوشش بھی کبھی نہیں کی ہاں اگر کسی کو بات بری لگے تو اسے دلیل سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
ملکو نے اس سوال پر کہ آپ نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے تک کے سفر میں پی ٹی آئی کے ڈی جے گڈوجی کے ساتھ مل کر اُن کی کمپین میں بھر پور حصہ لیا اور ایک ترانہ بھی دیا جو پی ٹی آئی کے جلسوں میں خوب چلتا تھا،کہیں آپ موجودہ حکومت کی شوبز کے حوالے سے پالیسیوں اور حکمت عملی سے نالاں تو نہیں ؟ملکو نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ انہیں حکومت سے پھر بھی امید ہے کہ ہم جیسے گلوکاروں کا بھی خیال رکھے گی۔

ملکوں نے کہا کہ ملکو سٹوڈیو ہر خاص وعام کے لئے حاضر ہے،مجھے اللہ پاک کی طرف سے اور میری ماں کی دعاؤں سے جو بھی مقام ملا ہے،اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں ۔میری خواہش ہے کہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری سے”وفا“ کروں اور اپنی تمام تر سپورٹ میوزک انڈسٹری کے لئے پیش کروں ۔میں اپنی میوزک انڈسٹری کو اسی جگہ پر دیکھنا چاہتا ہوں جہاں ایک وقت میں یہ تھی اس کے لئے سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے میں نے قدم بڑھا دیا ہے۔


بلا شبہ ملکو ہمارے ملک کا ایک بڑا نام ہے اور ان کا حکومت وقت سے گلا بھی بجا ہے۔انہوں نے بنا کسی سپورٹ کے ملکوں سٹوڈیو بنا کر پسماندہ علاقوں کے گلوکاروں کے لئے ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جو حکومتی سطح کے کام ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کے اداروں کو حکومت سر پر ستی دے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments