الحمرا فن کا دارالحکومت قسط نمبر 2

ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی کچھ دھندلی یادیں

جمعرات فروری

Alhamra Fun Ka DaralHukomat - Qist No 2
اطہر شاہ خان
الحمرا کے دفتر والوں کے افسوس ناک سلوک کے باوجود میرے ڈرامے ”چڑیا گھر“کی مقبولیت سے مجھے بڑا حوصلہ ملا اور میں دوسرا ڈرامہ لکھنے کی تیاری کرنے لگا۔”چڑیا گھر“سے پہلے یقینا کئی مزاحیہ ڈرامے بھی ہوئے ہوں گے لیکن الحمرا میں سنجیدہ ڈراموں کی روایت زیادہ تھی ،کچھ ہی عرصہ پہلے بختیار احمد نے ایک بہت خوب صورت سنجیدہ کھیل پیش کیا تھا لیکن سنجیدہ کھیل پیش کرنا”باکس آفس“کو چیلنج دینے کے مترادف ہوتاتھا اور اب رفتہ رفتہ مزاحیہ ڈراموں کی طرف رغبت بڑھتی جارہی تھی یعنی پاپو لر سٹیج وجود میں آرہا تھا۔

ایک بار کمال احمد رضوی نے مجھ سے کہا”اطہر!تم خوش نصیب ہو کہ تم سے پہلے مجھ جیسے کچھ لوگ ڈرامے کی راہ کسی حد تک ہموار کر چکے ہیں ورنہ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب لوگوں کو گھروں پر فری پاس بھیج کر ان سے درخواستیں کی جاتی تھیں کہ وہ ڈرامہ دیکھنے کے لئے ضرور آئیں۔

(جاری ہے)


کمال صاحب نے ٹھیک کہا تھا،سٹیج کے ان جیسے جنونی لوگوں کی بدولت ہی الحمرا کو شہرت نصیب ہوئی تھی ورنہ الحمراء کے تعاون کا یہ حال تھا کہ ہال میں تو شاید ایک دو دن پہلے ہی ریہر سل کی سعادت نصیب ہوتی تھی ،پکے چبوترے پر بھی ریہرسل کا موقعہ مشکل سے ملتا تھا اور ڈراموں کی ریہرسل اکثر گھاس پر کی جاتی تھی مگر ان نامساعد حالات کے ہوتے ہوئے بھی ڈراموں کے فنکار نہایت کم وقت میں پوری تیاری کر لیا کرتے تھے ۔

اب فنکار اور ادیب رفتہ رفتہ پروفیشنل ہوتے جارہے تھے اور کیوں نہ ہوتے؟بیشتر رائٹر اور آرٹسٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اچھے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے ،سٹیج سے وابستہ لڑکیوں میں ثمینہ احمد ،دردانہ بٹ اور چند اور لڑکیاں بھی بہت پڑھی لکھی تھیں ،اگر یہ سب لوگ کہیں ملازمت یا اپنا بزنس کرتے تو سٹیج سے بہت زیادہ کما سکتے تھے ۔لیکن یہ سٹیج سے ان کی محبت تھی جس نے انہیں نظر نہ آنے والی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا۔

ان دنوں معاوضے بہت کم ہوتے تھے ،محمد قوی شاید وہ پہلا آرٹسٹ تھا جس نے اپنی بہت مقبولیت کی وجہ سے اپنا معاوضہ بڑھا دیا تھا اور مسلسل ایک مہینے تک کام کرنے کا یہ بڑھا ہوا معاوضہ کیا تھا ؟؟ایک بار قوی نے بہت فخر سے مجھ سے کہا”پورے پانچ سولے رہا ہوں،اس سے کم کسی سے نہیں لوں گا“۔
رائٹرز کا معاوضہ بھی کچھ ایسا ہی تھا ،جب میں نے اپنا دوسرا ڈرامہ”اُف “لکھا تو میرے پروڈیوسر شاہد پرویز نے کہا:”اطہر بھائی:آپ کی قسمت بڑے زوروں پر جا رہی ہے،پورے سترہ سو روپے لے رہے ہیں ،وہ بھی کیش “۔

یہ عرض کردوں تو بہتر ہے کہ سترہ سو روپے میں تحریر کے ساتھ اداکاری اور ہدایت کاری بھی شامل تھی۔
الحمرا سے ”اُف“کی ڈیٹ حاصل کرنے کے لئے میں”اُف،اُف“کر اٹھا۔اس زمانے کی انتظامیہ پر مشکلات کے سارے ہی الزامات لگا دینا یقینا نا انصافی ہو گی،بے چارے چیف کو تو بہت ہی مشکلات کی خبر بھی شاید نہ ہوتی ہو ،شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار قیامتیں ڈھاتے تھے ۔

مجھ سے پہلے کمال احمد رضوی بھی الحمرا میں ڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش میں تھک ہار چکے تھے۔الحمرا والے بھی مجبور تھے کہ ڈرامہ کرنے والے بہت تھے اور ہال صرف ایک ۔وہ بھی اتنا چھوٹا سا اور اتنی کم نشستیں کہ لوگ اس ہال کو ”اومنی بس“کہا کرتے تھے اور کامیاب ترین ڈرامہ اگر ایک ماہ بھی چلتا تھا تو خرچہ مشکل سے پورا ہوتا تھا۔کمال احمد رضوی الحمرا سے مایوس ہو کر سٹیج کے لئے نئی جگہ ڈھونڈ رہے تھے اور وہ انہیں مل ہی گئی۔

”واپڈا آڈیٹوریم“نیا نیا بنا تھا،بہت شاندار اور بڑا ہال تھا،کمال صاحب نے وہاں اپنا ڈرامہ پیش کیا اور ان کے دوسرے ڈراموں کی طرح وہ بھی بہت کامیاب رہا۔
میرے پروڈیوسر شاہد پرویز کو واپڈا آڈیٹوریم کی ڈیٹ بہت آسانی سے مل گئی۔میں نے ”اُف“وہاں پیش کیا اور اس ڈرامہ کو Audienceکی طرف سے ایسی شاندار اور بے مثال پذیرائی ملی کہ لوگوں نے ہال کے باہر ٹکٹیں بلیک کرنا شروع کر دیں۔

(بعد میں ”اُف “کی طرح”بے وقوف“،”رانگ نمبر“،”ہارن دے کر پاس کریں“،”شٹ اَپ“،”خطرہ چار سو چالیس وولٹ“اور ”اندر آنا منع ہے“بھی واپڈا آڈیٹوریم میں پیش ہوئے اور نہات کامیاب رہے)
ان ڈراموں کی کامیابی میں ہدایت کار کے طور پر میری محنت اور دلچسپ سکرپٹ کا بھی کچھ دخل ہو گا لیکن مجھے آرٹسٹوں کی ٹیم نہایت عمدہ ملی تھی اور محمد قوی خان،علی اعجاز،ننھا ،افشاں ،سجاد حیدر ،صدیقہ بٹ،نگہت بٹ،مسعود اختر،زبیر خان ،منور سعید اور خالد عباس ڈار جیسے فنکاروں کے بھر پور تعاون اور شاندار پر فارمنس کو بڑا دخل حاصل تھا۔

میرے دو ڈراموں میں کمال احمد رضوی صاحب نے بھی بطور اداکار کام کیا۔اس زمانے میں خالد سلیم موٹا،حامد رانا اور جمیل فخری فن کی دنیا میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کررہے تھے،ان تینوں نے میرے تقریباً ہر ڈرامے میں کام کیا اور اپنی محنت ،لگن اور صلاحیت کی بدولت جلد ہی سینئر فنکاروں کے سامنے اپنے فن کا لوہا منوالیا۔
اس زمانے میں سینئر فنکار اپنے فن سے کس قدر مخلص تھے اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتاہے کہ میرے ڈرامے ”خطرہ 440وولٹ “میں مشہور فلم آرٹسٹ اسلم پرویز کاسٹ ہوئے تھے ۔

اگلی شام ڈرامے کا پہلا شو ہوتا تھا اور رات کو فائنل ریہرسل جاری تھی کہ اسلم پرویز صاحب کی ناک پر ایک آرٹسٹ کی کہنی غلطی سے لگ گئی ،سخت چوٹ تھی اور بہت خون بہہ رہا تھا،ظاہر ہے کہ اگلے دن وہ ڈرامہ نہیں کر سکتے تھے،معذرت کرکے وہ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے اور میں اور میرا پروڈیوسر سخت پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے،یہ کردار اتنا مشکل تھا کہ منور سعید ہی کر سکتا تھا،میں نے پروڈیوسر کو منور سعید کے گھر بھیجا ،وہ کسی شوٹنگ سے تھکا ہوا ذرا دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا،دو راتوں کا جاگاہوا بھی تھامگر اس بُری حالت میں بھی میرے بلانے پر آگیا۔

میں نے جب اسے بتایا کہ ڈرامہ کل شروع ہو گا تو ایک لمحے کے لئے اس کا رنگ اُڑا پھر اس نے بہت یقین سے کہا”میں یہ ڈرامہ ضرور کروں گا۔“
اگر وہ چاہتا تو میری اور پروڈیوسر کی مجبوری دیکھتے ہوئے اپنے معاوضے میں بھی بہت اضافہ کر سکتا تھا مگر وہ واقعی فنکار تھا ،اس نے Movesکیں،صبح کے قریب گھر گیا اور جب وہ اگلے دن ڈرامے کا شوکر نے آیا تو پورا ڈرامہ یاد کر چکا تھا پھر اس نے ایسی پر فارمنس دی کہ یاد گار ہو گئی اور جب شو ختم ہونے کے بعد دیر تک تالیاں بجتی رہیں تو میں نے منور سعید کو گلے لگا لیا۔

اس زمانے کے سٹیج کے ڈرامہ نگاروں میں بانو قدسیہ مجھ سے سینئر تھیں۔ان کا ڈرامہ”اک ترے آنے سے “بہت عمدہ ڈرامہ تھا،کمال احمد رضوی صاحب بھی مجھ سے سینئر رائٹر تھے اور انہوں نے کئی انگریزی ڈراموں کو بڑی خوبصورتی سے اردو کے قالب میں ڈھالا تھا،نعیم طاہر صاحب بھی اپنی دھاک بٹھا چکے تھے لیکن مزاح میں کچھ اور رائٹرز کی بڑی سخت ضرورت تھی،مزاح نگاروں میں رشید عمر تھانوی ،عتیق اللہ شیخ اور سلیم چستی میرے ہم عصر تھے،نئے لکھنے والوں میں اس وقت آصف الرحمن ،منیر راج ،افتخار حیدر ،ایم شریف اور سجاد حیدر سٹیج کی شہرت کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ،جلد ہی انہوں نے اپنی محنت سے کامیابیاں حاصل کیں۔


ایک اور رائٹر بہت دن تک شاعری کرتے رہنے کے بعد ذرا دیر سے سٹیج پر نازل ہوا،وہ امجد اسلام امجد تھا،جیسی اچھی وہ شاعری کرتا رہا تھا ویسے ہی خوب صورت ڈرامے اس نے لکھے۔سجاد حیدر نہ صرف مصنف واداکار بلکہ ہدایت کار بھی اچھا تھا،اس نے میرے ڈراموں میں اعلیٰ اداکاری کے علاوہ کئی پنجابی ڈرامے خود بھی نہایت خوبی سے پیش کئے۔ہدایت کاروں میں نعیم طاہر،کمال احمد رضوی اور بختیار احمد نہایت کلاسیکل اور سخت ہدایت کار تصور کئے جاتے ہیں،کسی فنکار کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ اصل مکالمے سے ہٹ جائے یا Movesمیں ذرا سی بھی کمی بیشی کر سکے ،ویسے بھی ان دنوں رائٹر اور ڈائریکٹر کے احترام کا رواج تھا۔

نرم دل ڈائریکٹروں میں ذاتی طور پر مجھے جناب نذیر ضیغم اور عشرت رحمانی صاحب کے ساتھ اداکار کے طور پر کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔نذیر ضیغم ہدایت کار سے زیادہ بے تکلف دوست ہوا کرتے تھے ،عشرت رحمانی صاحب بزرگ تھے مگر دل کے بہت ہی نرم․․․․․․ مووز کے سلسلے میں وہ اداکاروں کو کھلی چھٹی دے دیتے تھے۔
ابتدائی دنوں کے کافی عرصے بعد وہ میرا ہی لکھا ہوا ون ایکٹ پلے”پنجرہ“آرٹس کونسل میں پیش کررہے تھے جس کے اداکاروں میں بھی شامل تھا،اس وقت تک مجھے ”بہترین ہدایتکار“کے طور پر گریجویٹ ایوارڈ اور دوسرے کئی معتبر ایوارڈ مل چکے تھے لیکن میرا اصول یہ تھا کہ جب میں خود بطور ہدایت کار اپنی بنائی ہوئی مووز پر سختی سے عمل کراتا ہوں تو دوسرے کسی ہدایتکار کے تحت کام کرتے ہوئے مجھے اس کی ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہئے۔

”پنجرہ“کے پہلے ہی سین میں پہلی انٹری میری تھی،سیٹ ایسا تھا جس میں تین دروازے تھے ،پہلے دن پہلی ریہرسل کے لئے میں سٹیج پر چڑھا اور چبوترے کے سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے عشرت رحمانی صاحب سے پوچھا”مجھے کس دروازے سے آنا ہے۔ جناب؟“وہ وہیں بیٹھے بیٹھے بڑے پیارسے بولے:”صاحب تین دروازے ہیں،کسی سے بھی آجائیے!“ہدایتکار کی کامیابی میں اچھے فنکاروں کے علاوہ اچھے ”نائب ہدایتکار“کا بڑا دخل ہوتاہے ،اپنے ایک دو ابتدائی ڈراموں میں مجھے جو صاحب بطور معاون ملے وہ ماڈرن ڈرامے کی ضروریات اورMovesلکھنے کی جدید تکنیک سے واقف نہیں تھے اور لکیروں اور تیروں کے اشاروں سے پورے صفحے کو بھول بھلیاں بنا دیاکرتے تھے۔

مجھے اچھے اسسٹنٹ کی تلاش تھی اور ایک دن ایک بہت ہی ا چھا اسسٹنٹ مجھے مل گیا․․․․ وہ تھا زبیر خان․․․․․زبیر خان ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکا تھا اور بطور اداکار میری ٹیم میں شامل ہوا تھا۔میں نے بھانپ لیا کہ اس میں ایک قابل اعتماد نائب ہدایت کار بننے کے جوہر موجود ہیں۔اس زمانے کے بیشتر نائب ہدایت کار تیروں کے نشان ہی بناتے تھے اور انہیں اَپ سٹیج اور ڈاؤن سٹیج جیسی ابتدائی اصطلاحات بھی معلو نہیں تھیں۔

ایک ڈرامے میں ریہر سل شروع ہونے سے پہلے میں نے کاغذ پر خاکہ بنا کر زبیر خان کو سٹیج کے مختلف حصوں کی تقسیم کے ساتھ ان حصوں کے نام بتائے اور Movesلکھنے کا صحیح طریقہ بتایا۔زبیر کی انگریزی بہت رواں تھی اورMovesلکھنا اس کے لئے مشکل نہیں تھا۔اگلے روز ریہرسل سے پہلے میں نے دیکھا کہ پچھلے دن کی Moves اس نے بالکل صحیح طور پر لکھی تھیں اور پہلا سبق ہی اسے اچھی طرح یاد ہو گیا تھا،پھر زبیر کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ”اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا“۔

جب تک میں لاہور میں رہا،وہ میرے ساتھ پیو ستہ رہا۔وہ نہ صرف اچھا اداکار بلکہ نہایت عمدہ اور Perfectاسسٹنٹ تھا،اگر وہ لاہور سے میرے رخصت ہونے کے بعد الحمرا میں افسر نہ ہو جاتا تو آج کے کامیاب اور مشہور ہدایت کاروں میں ہوتا۔میرے ڈراموں کی کامیابی میں نہ صرف تعاون کرنے والے اداکاروں اور اچھے اسسٹنٹ کی محنت اور محبت کا دخل تھا بلکہ پروڈیوسر بھی قابل رشک ملے۔

واپڈا آڈیٹوریم میں منتقل ہونے کے بعد شاہد پرویز نے نوید عالم کو پارٹنر بنالیا۔نوید عالم کا پبلی کیشن کا کام تھا اور وہ چند ڈرامے پہلے بھی پروڈیوس کر چکا تھا،نوید اور شاہد کی جوڑی بہت دن چلی،شاہد پرویز دوست کی حیثیت سے بہت اچھا اور پیارا انسان تھا لیکن ڈرامے کی ضروریات میں کبھی کبھی لا ابالی سا ہو جاتا تھا جبکہ نوید عالم اپنا کام بہت ذمہ داری سے کرتا تھا ،وہ پبلسٹی کے ہنر سے واقف تھا اور انتظامی امور میں بھی تیز تھا،شاہد کے ساتھ مل کر اس نے پروڈکشن میں بہت محنت کی ،رفتہ رفتہ وہ پروڈیوسر سے زیادہ میرا قریبی دوست بن گیا ،محبتوں کا یہ رشتہ آج بھی برقرار ہے۔


کبھی کبھی میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے کتنے اچھے فنکار ،پروڈیوسر اور ساتھی ملے۔وہ آج بھی اپنے انٹرویوز اور اپنی گفتگو کی بدولت میرا پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ ہیں۔جب میں نے ”آرٹسٹ ایکویٹی“کے الیکشن میں حصہ لیا تو حامد رانا میرے لئے نعرے لگا رہا تھا اور جمیل فخری نے ایک”پلے کارڈ“اپنے گلے میں لٹکا رکھا تھا جس پر لکھا تھا:”اطہر شاہ خاں کو ووٹ دیں“خلوص،دوستی اور محبت اور کسے کہتے ہیں؟؟ اپنے ساتھیوں کی زبردست کنوینسنگ کی وجہ سے بھاری اکثریت کے ساتھ”آرٹسٹ ایکویٹی“کا وائس پریذیڈنٹ بن گیا تھا۔

مجھے جتنی بھی کامیابیاں ملیں وہ ٹیم ورک کا نتیجہ تھیں۔میں ماضی کے ان تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں۔اور ہاں!1975ء میں جب میں لاہور سے کراچی آیا تو اگلے ہی سال لاہور میں سٹیج ڈرامے پر ایک بڑا سیمینار ہوا جس میں ایک تاریخی بروشر بھی شائع ہوا جس میں سٹیج ڈرامے کی ترویج وترقی کے لئے نمایاں کام کرنے والوں کے نام لکھے ہوئے تھے مگر وہ اطہر شاہ خاں جس نے سٹیج کے لئے 12عدد ون ایکٹ اور تین ایکٹ کے 10ڈرامے یعنی 22عدد کامیاب ترین”اوریجنل“ڈرامے لکھے اور ان کی ہدایات دیں،اس کا نام اس بروشر میں کہیں نہیں تھا!!
”نیرنگئی سیاست دوراں تو دیکھئے“
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے“
یادوں کے دھند لکوں سے نکل کر لمحہ موجود میں واپس آتے ہوئے میں دعا کرتاہوں کہ آرٹس کونسل میں فن اور فنکاروں کے چراغ یوں ہی جگمگاتے رہیں۔


مزید متفرق کے مضامین :

Your Thoughts and Comments