بافٹا ایوارڈز”1917“ نے میلہ لوٹ لیا

برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کی شرکت نے تقریب کو چار چاند لگا دئیے

ہفتہ فروری

Bafta Award 1917 Ne Meela Loot Liya
وقار اشرف
دی برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس(بافٹا)کو آسکر اور گولڈن گلوب کے بعد اہم ترین فلمی ایوارڈز سمجھا جاتاہے۔73ویں بافٹا ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب لندن کے رائل البرٹ ہال میں منعقد ہوئی جس میں شوبز ستاروں کے ساتھ ساتھ برطانوی شہزادہ ولیم اور ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی جس سے تقریب کو چار چاند لگ گئے ،شہزادہ اور شہزادی کے ساتھ مختلف فنکاروں نے سیلفیاں بھی بنوائیں۔

شہزادہ ولیم”بافٹا“کے صدر بھی ہیں،”جوکر“کے اداکار جیکوئن فیونکس نے انہیں دیکھ کر کہا کہ آپ سے مل کر اچھا لگا جس پر شہزادہ ولیم نے کہا کہ میں بذات خود”جوکر“بہت پسند کرتا ہوں۔اسی طرح کیٹ مڈلٹن نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتنے والی رینی زلوگر کو مبارکباد دی جنہوں نے فلم ”جوڈی“میں اداکاری پر یہ ایوارڈ اپنے نام کیا۔

(جاری ہے)


اس کے علاوہ کیٹ نے ان سے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا وہ فلموں میں اداکاری سے بریک لئے ہوئے ہیں جس پر اداکارہ نے انہیں بتایا کہ نہیں وہ اس وقت بھی متعدد پراجیکٹس میں اداکاری کر رہی ہیں،انہیں برطانیہ میں واپس آکر بے حد خوشی ہو رہی ہے کیونکہ وہ یو کے کو بے حد پسند کرتی ہیں۔

شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ نے رائزنگ سٹار کا ایوارڈ جیتنے والے مائیکل وارڈ سے بھی ملاقات کی جنہیں”بلیو سٹوری“ پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔تقریب میں کیٹ نے وائٹ اور گولڈ ایمبرائیڈڈ الیگزینڈر میک کوئین کا گاؤن پہن رکھا تھا۔ریڈکارپٹ پر شہزادے اور شہزادی کے علاوہ ایمیلیا کلارک،چارلیز تھرون اور دیگر فنکاراؤں نے بھی جلوے بکھیرے ۔تقریب میں مجموعی طور پر 25مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز دئیے گئے جن میں بہترین دستاویزی فلم، بہترین اپنی میٹڈ فلم،بہترین منظر نگاری ،ساؤنڈ ٹریک اور کاسٹنگ کی کیٹیگریز شامل تھیں اس بار بافٹا ایوارڈ جنگ عظیم اول( 1914-17) کے پس منظر میں بننے والی فلم”1917“کے نام رہا،اس فلم کو مجموعی طور پر9 مختلف کیٹیگریز کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن فلم نے 7ایوارڈز اپنے نام کرکے حقیقی معنوں میں میلہ لوٹ لیا جس میں بہترین فلم اور بہترین ڈائریکٹر کی کیٹیگریز بھی شامل ہیں۔


 ”بافٹا“سے قبل ”1917“ نے آسکر کے بعد دوسرے سب سے بڑے فلمی ایوارڈز ”گولڈن گلوب“ میں بھی بہترین ڈرامہ فلم کا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔ڈائریکٹر سیم مینڈیز کی فلم”1917“میں برطانوی اداکاروں کی ایک بڑی تعداد نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ بافٹا ایوارڈز میں بہترین اداکار کا ایوارڈ گزشتہ برس ریلیز ہونے والی تھرلر کامیڈی فلم”جوکر“کے ہیروجیکوئن فیونکس اور بہترین اداکارہ کا ایوارڈ فلم”جوڈی“کی اداکارہ رینی زلوگر کو دیا گیا۔

جنوبی کورین فلم”پیرا سائیٹ“نے بہترین غیر ملکی فلم کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔”جوکر“کو سب سے زیادہ 11کیٹیگریز کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ صرف 3ایوارڈ ہی اپنے نام کر سکی جن میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔ تقریب کے دوران برطانیہ کی مدد سے بننے والی جن اور فلموں کو ایوارڈ سے نوازا گیا ان میں مارک جینکنز کی ”بیٹ“بھی شامل تھی جس نے بہترین ڈیبیو برطانوی فلم کا ایوارڈ جیتا،اس کے علاوہ شامی فلم ساز وعد الخطیب اور برطانوی ڈاکیو مینٹری میکر ایڈورڈ واٹس کی مشترکہ کاوش ”سما“کو بھی بہترین ڈاکیو مینٹری کا ایوارڈ دیا گیا۔


 تقریب کے میزبان گراہم نورٹن کا ابتدائیہ بہت خوشگوار تھا،انہوں نے اس سال کو وہ سال قرار دیا جس میں سفید فام مردوں نے کامیابی حاصل کی۔نورٹن نے فلم ”جوکر“کو ایک ایسے سفید فام شخص کی کہانی قرار دیا جو خود کو مزید سفید فام بنا لیتا ہے۔بریڈپٹ نے ”ونس اپون اے ٹائم ان ہالی وڈ “میں اداکاری پر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ جیتا لیکن وہ کچھ مصروفیات کی بنا پر تقریب میں شرکت نہیں کر سکے اور ان کا ایوارڈ ان کی ساتھی اداکارہ مارگو روبی نے وصول کیا۔

انہوں نے بریڈپٹ کی جانب سے پہلے سے لکھی ہوئی تقریر پڑھی جس کا آغاز انہوں نے اس طرح کیا”ہائے برطانیہ!میں نے سنا ہے آپ دوبارہ سنگل ہو گئے ہیں۔کلب میں خوش آمدید۔“نیٹ فلیکس کی کامیڈی فلم ”کلاؤس “بہترین اینی میٹڈ فلم قرار پائی ۔فلم ”میرج اسٹوری“کے لئے بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ لار اڈیرن نے اپنے نام کیا۔ ”جوکر“آسکر کی بھی 11مختلف کیٹیگریز کے لئے نامزد ہوئی ہے جس کے بعد یہ فلم ریکارڈ یافتہ فلموں بین ہور،ٹائی ٹینک اور دی لارڈ آف دی رنگز کی دوڑ میں شریک ہو گئی ہے ۔مذکورہ تینوں فلموں نے اپنے اپنے سالوں میں 11ایوارڈز جیتے تھے۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments