ہم ویمن لیڈرز ایوارڈز

دنیا بھر کے لئے ہمت اور بلند حوصلے کی مثال خواتین کو اعزاز سے نوازا گیا

ہفتہ فروری

HUM Women Leaders Awards
وقار اشرف
پاکستانی خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایاہے ۔تعلیم ،صحت،معیشت اور سفارت کاری کے میدان سے لے کر مسلح افواج تک آج پاکستانی خواتین ہر جگہ اپنی موجودگی بھر پور طریقے سے محسوس کر وارہی ہیں یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ پاکستانی قوم کے خمیر میں تعمیر وترقی کے تمام تر لوازمات موجود ہیں۔ہماری عالمی عزم اور سر بلند خواتین عرصہ دراز سے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اس طرح یہ دیگر پاکستانی خواتین کے لئے رول ماڈل ہیں جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے پاکستانی عورت کو ایک آواز دی ہے ۔

یہ با صلاحیت خواتین پاکستانی عورتوں کو آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہیں ۔ان باہمت اور بلند حوصلہ خواتین کی خدمات کے اعتراف کے لئے گزشتہ دنوں کراچی میں ہم ویمن لیڈرز ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا جس کے پہلے ایڈیشن میں گیارہ پاکستانی اور غیر ملکی خواتین جبکہ ایک مرد کو سیاسی،معاشی‘صحت عامہ‘ایڈونچر،اسپورٹس ا‘انسانی حقوق‘صحافت اور حقوق نسواں جیسے شعبوں میں کار ہائے نمایاں سر انجام دینے پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔

(جاری ہے)


گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے مہمان خصوصی صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی تھے ۔دیگر شرکاء میں امریکی سفیر پال ڈبلیو جونز(Paul W . Jones)،مختلف قونصل جنرلز،گورنرسندھ عمران اسماعیل،سلطانہ صدیقی ،درید قریشی ،مدیحہ لودھی اور دیگر معززین سمیت تفریحی صنعت کے معروف ستارے بھی شامل تھے جن میں جاوید شیخ، بشریٰ انصاری ،ماہرہ خان ،حنابیات ،ثانیہ سعید ،سجاد علی ،زاو علی،صنم سعید ،میرا سیٹھی ،حدیقہ کیانی،حانیہ عامر ،علی رحمان خان، انجلین ملک،اسماء نبیل ،ڈاکٹر شائستہ لودھی،ثمینہ بیگ ،زیبا بختیار ،سویرا ندیم ،وجاہت رؤف،شازیہ وجاہت ،ژالے سرحدی ،نادیہ حسین اور دیگر نمایاں تھے ۔

تقریب کا آغاز ہم نیٹ ورک کی صدر سلطانہ صدیقی کے افتتاحی کلمات سے ہوا جس میں انہوں نے صدر پاکستان اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم ویمن لیڈرز ایوارڈز کا مقصد پاکستان سمیت دنیا بھر میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین کی کہانیوں کو اُجاگر کرنا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی سنگ میل عبور کئے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ان خواتین کے تجربات سے بھی نئی نسل کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان نمایاں خواتین کے بنائے ہوئے سنگ میل سے آگے نکل جائیں ۔

سلطانہ صدیقی نے اس موقع پر ”ہم ویمن لیڈر شپ انیشی ایٹوفنڈ“کے انعقاد کا بھی اعلان کیا جسے’چار ٹر آف کمپیشن “نے اسپانسر کیا ہے ،یہ فنڈ ایوارڈ یافتگان کے لئے سالانہ 10لاکھ روپے کی ابتدائی رقم سے قائم کیا گیا ہے اور ایوارڈ ما فیتگان پر مشتمل گروپ اس فنڈ کو ملک میں خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے استعمال کرے گا۔امریکی سفیر پال ڈبلیو جونز نے اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ مرد اور عورت کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

با اعتماد خواتین کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے عظیم لیڈر قائداعظم نے کہا تھا کہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ مل کر اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا نہ کریں ۔
80ء کی دہائی میں ہمارے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں خواتین کا کوٹہ ایک چوتھائی تھا جو سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد آج تقریباً 80فیصد ہے ۔

لیکن بد قسمتی سے یہ تناسب ہمیں اداروں میں نظر نہیں آتا۔ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں دوگنا محنت کرتی ہیں اور جب بھی انہیں اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تو انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔صدر مملکت کی تقریر کے بعد شوکی میزبان میرا سیٹھی نے ایوارڈز کا باقاعدہ آغاز کیا اور شام کا پہلا ایوارڈ پاکستان کی پہلی خاتون کوہ پیماثمینہ بیگ کو دیا گیا جنہیں کوہ پیمائی کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات ،خواتین کے حقوق اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ایوارڈ دیا گیا ۔

انہوں نے یہ ایوارڈ اداکارہ حنابیات کے ہاتھوں سے وصول کیا۔ثمینہ بیگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بھی ہیں۔
 اس کے بعد ہزارہ کمیونٹی کی پہلی خاتون وکیل جلیلہ حیدر کو اداکارہ ثانیہ سعید نے ایوارڈ پیش کیا۔دوسرے ایوارڈ کے بعد ملک میں نمایاں کارنامے انجام دینے والی ان خواتین کی زندگی کی جھلکیاں دکھائی گئیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

تیسرا ایوارڈ معروف ہیومن رائٹس لائر اور ایکٹی وسٹ بیرسٹر خدیجہ صدیقی کو ان کی بہادری،ہمت اور اپنے حق کے حصول کے لئے ڈٹے رہ کرپاکستانی خواتین کے لئے مثال بننے پر دیا گیا۔بیر سٹر خدیجہ صدیقی نے انصاف کے لئے ایک طویل جنگ لڑی ہے ،مئی 2016ء میں ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس میں وہ معجزانہ طور پر بچ گئی تھیں ۔وہ پاکستان اور بیرون ملک نوجوانوں کو موٹیو یشنل لیکچرز بھی دیتی ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ سی ڈی آر ایس اور پی ٹی ایس فاؤنڈیشن یو کے کی سفیر بھی ہیں ۔اداکارہ ماہرہ خان نے انہیں یہ ایوارڈ پیش کیا۔اس کے بعد معروف ایرانی فلم ہدایت کار نر جس ابیار کو اپنی فلموں میں خواتین اور بچوں پر جنگ اور بنیاد پرستی کے اثرات کو انتہائی حساسیت کے ساتھ پیش کرنے پر ایوارڈ دیا گیا جو انہوں نے مدیحہ سعید اور زیبا بختیار کے ہاتھوں سے وصول کیا ۔


اس ایوارڈ کے بعد معروف گلوکارہ سجاد علی اور ان کی صاحبزادی زاو علی (Zaw Ali)نے خصوصی پر فارمنس کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے ”رونے نہ دیا“گیت پیش کرکے شرکاء سے خوب داد سمیٹی ،اس گانے کو خود سجاد علی نے ہی کمپوز کیا تھا۔سجاد علی کا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ گورنر ہاؤس میں صدر پاکستان عارف علوی کے سامنے گا رہا ہوں ،میں اپنی بیٹی کو بھر پور سپورٹ کرتاہوں اور وہ دن بھی آئے گا جب مداح کہیں گے کہ وہ دیکھو زاو علی کے ڈیڈی جارہے ہیں ۔

اس گانے میں زاو علی نے نہ صرف اردو گائیکی خوبصورتی سے پیش کیا بلکہ انگریزی گائیکی کے ساتھ بھی خوب انصاف کیا۔سجاد علی کا کہنا تھا کہ بہترین فنکار وہ ہوتاہے جو ایسی موسیقی بنائے جسے لوگ فالو کریں، میں نے جب اپنا گانا”ساحل پر کھڑے ہیں“مکمل کیا تو میری فیملی اور دوستوں نے کہا کہ اس گانے کی شاعری سنجیدہ ہے اور گانا سلو ہے اس لئے نئی نسل اسے پسند نہیں کرے گی لیکن سب نے دیکھا کہ اس گانے نے کتنی مقبولیت حاصل کی ۔


میں زندگی میں کبھی اسٹیج پر گاتے ہوئے نروس نہیں ہوا لیکن آج بیٹی کے ساتھ پرفارم کرتے ہوئے نروس ہو رہا ہوں ۔زاو علی نے 2017ء میں کوک اسٹوڈیو کے ذریعے گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا۔میرا سیٹھی کے بعد نئی میز بان صنم سعید نے اطالوی قونصل جنرل اینا رو فینو اور جاوید شیخ کو اسٹیج پر مدعو کیا جنہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس(پی این سی اے)کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فوزیہ سعید کو پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں اُجاگر کرنے اور خواتین کے مسائل بالخصوص جنسی ہر اسگی کے خلاف جدوجہد پر ایوارڈ پیش کیا۔

ڈاکٹر فوزیہ سعید اس سے قبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ اور یو این ڈی پی میں جینڈر ایڈ وائزر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں ۔وہ پاکستان میں یو این جینڈر پروگرام کی بھی سر براہ رہ چکی ہیں اور کئی کتابوں کی مصنف بھی ہیں ۔پاکستان میں ڈرامہ کے حوالے سے بشریٰ انصاری ہاؤس ہولڈ نام ہیں ۔1968 ء میں بطور چائلڈ اسٹار کیریئر کا آغاز کیا جبکہ 1977ء میں بطور اداکارہ ،میزبان اور گلوکارہ کل وقتی پی ٹی وی کے ساتھ وابستہ ہو گئیں اور یہ سفر ہنوز جاری ہے ۔


آنگن ٹیڑھا،شو ٹائم اور ففٹی ففٹی میں ان کی اداکاری کو کون بھول سکتاہے ۔صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ،پی ٹی وی ایوارڈ ،ہم ایوارڈ اور لکس اسٹائل ایوارڈ بھی انہیں نوازا جا چکا ہے ۔انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے ناقابل فراموش کرداروں اور خدمات سر انجام دینے پر ہم ویمن لیڈر ایوارڈ سے نوازا گیا جو انہوں نے عاصمہ حق اور بنٹو کاظمی کے ہاتھوں سے وصول کیا۔

اگلا ایوارڈ آئرلینڈ کی پہلی خاتون صدر اور جنسی مساوات کی علمبر دار میری راہنسن کو دیا گیا، اگر چہ وہ اپنی مصروفیات کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہو سکی تھیں لیکن انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ اعزاز دئیے جانے پر ایوارڈ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا ۔اس کے بعد صحت عامہ کے شعبے میں نمایاں خدمات سر انجام دینے پر ڈاکٹر سیمی جمالی کو ایوارڈ سے نوازا گیا جو انہوں نے ہم نیٹ ورک کے سی ای او درید قریشی کے ہاتھوں سے وصول کیا۔

ڈاکٹر سیمی جمالی آج کل جناح ہسپتال کراچی میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرائض انجام دے رہی ہیں۔ پبلک سیکٹر کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2018ء میں انہیں صدارتی اعزاز تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔
اس کے بعد خوب صورت اداکارہ ہانیہ عامر سے خصوصی پر فارمنس کا مظاہرہ کیا جس کے بعد میزبان میراسیٹھی اور صنم سعید نے معروف بیوٹیشن مسرت مصباح کو اسٹیج پر مدعو کیا جنہوں نے پنک ربن کمپین کے بانی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ عمر آفتاب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا۔

معروف صحافی زبیدہ مصطفی کو ان کی خدمات کے صلے میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایوارڈ پیش کیا ۔سابق گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر شمشاد اختر کو مالیاتی شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ ہاورڈ یونیورسٹی کی پوسٹ ڈاکٹرل فل برائیٹ فیلو اور اکنامکس میں پی ایچ ڈی ہیں ۔

ایشیا اور پیفک کے اکنامک اور سوشل کمیشن میں بطور انڈرسیکرٹری جنرل بھی خدمات انجام دے چکی ہیں ۔
2008ء میں وال سٹریٹ جرنل ایشیا نے انہیں ایشیا کی دس صف اول کی پروفیشنل خواتین میں شامل کیا تھا، وہ 2018ء میں بننے والی نگران حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہی تھیں ۔انہوں نے اپنا ایوارڈ خاتون اول مسز ثمینہ علوی کے ہاتھوں سے وصول کیا۔ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ کی جانب سے آخری ایوارڈ معروف سفارت کار ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ان کے بہترین ڈپلو میٹک کیریئر اور یو این میں بطور سفیر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر دیا گیا جو انہوں نے سلطانہ صدیقی کے ہاتھوں سے وصول کیا۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی دوبار امریکہ میں پاکستان کی سفیر رہ چکی ہیں ،اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر اور مستقل مندوب کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں ۔برطانیہ میں بھی وہ پاکستان کی ہائی کمشن رہی ہیں ۔2001ء سے 2005ء تک یو این سیکرٹری جنرل کے ایڈ وائز ری بورڈ کی بھی ممبرر ہیں ، ایک قومی انگریزی رونامے کی ایڈیٹر بننے والی ایشیا کی پہلی خاتون تھیں ۔تقریب کا اختتام نامور اداکارہ حدیقہ کیانی کی جاندار پر فارمنس سے ہوا۔ایوارڈ تقریب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم ٹی وی سے نشر کی جائے گی۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments