ڈراونی فلمیں، لوگوں کی پسند،خوف اور ڈراونی فلمیں دیکھنے کے فوائد

ڈراونی فلمیں لوگ ہمیشہ سے ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں حالانکہ ڈراونی فلیمں دیکھتے ہوئے لوگ خوفزادہ بھی ہوجاتے ہیں اب تک بہت ساری ڈارونی فلمیں ریلیز ہوچکی ہیں بہت سی فلمیں ہٹ ہوئیں اور بہت سی ہارر فلمیں فلاپ ہوگئیں

ہفتہ جون

Daraoni Filmain
نتاشہ رحمن
ڈراونی فلمیں لوگ ہمیشہ سے ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں حالانکہ ڈراونی فلیمں دیکھتے ہوئے لوگ خوفزادہ بھی ہوجاتے ہیں اب تک بہت ساری ڈارونی فلمیں ریلیز ہوچکی ہیں بہت سی فلمیں ہٹ ہوئیں اور بہت سی ہارر فلمیں فلاپ ہوگئیں انسان نے کبھی نا کبھی اپنی زندگی میں ڈراونی فلم دیکھی ہوگی بہت سے لوگ اس وجہ سے ڈارونی فلمیں نہیں دیکھتے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں اور خوف محسوس کرتے ہیں  ڈراونی فلمیں دیکھنے کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور ڈراونی فلمیں نا دیکھ کر آپ بہت سے طبی فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔

ڈراؤنی فلمیں دیکھنے سے صحت پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں سے چند اک ٓاپ کو بتاتی ہوں فلم میں آنے والے اتار چڑھاؤ، سسپنس، خوف اور تجسس سے بھرے مناظر، اور غیر متوقع واقعات کے دوران آپ کے دماغ سے مختلف فائدہ مند کیمیائی اجزا خارج ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ اجزا آپ کے دماغ کو پرسکون اور ہلکا پھلکا کرتے ہیں جبکہ آپ کو لاحق ڈپریشن میں بھی کمی کرتے ہیں۔

ڈراؤنی فلموں میں آنے والے غیر متوقع واقعات و مناظر آپ کے دماغ کو فعال کرتے ہیں جس سے آپ اصل زندگی میں بھی برے حالات سہنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو افراد ڈراؤنی فلمیں دیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں، ان میں خراب اور غیر متوقع حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور وہ ان سے نمٹنا بھی جانتے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں ڈراؤنی فلمیں دیکھنا آپ کے وزن میں بھی کمی کرسکتا ہے۔

90 منٹ کی ہارر فلم آپ کے جسم سے 113 کیلوریز خارج کرسکتی ہے۔ہارر فلم کے خوفناک مناظر سے پیدا ہونے والا خوف آپ کی قوت مدافعت کو یکدم چوکنا کر کے آدھے گھنٹے بعد معمول کی حالت پر واپس لے آتا ہے۔ یہ عمل جسم میں کسی بیکٹریل حملے کے بعد بھی انجام پاتا ہے۔ اس عمل سے آپ کی قوت مدافعت اور مضبوط ہوتی جاتی ہےڈراؤنی فلمیں آپ کے ڈی این اے کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہیں۔

یہ آپ کے ڈی این کو طاقتور بنا کر ان میں مختلف امراض سے بچاؤ کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں۔کچھ لوگ ڈرنے کے باوجود بھی ڈراونی فلمیں دیکھتے ہیں فن لینڈ کی ترکو یونیورسٹی میں ایک تحقیق کی گی جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ ہارر فلمیں دماغ پر ایسی مہارت پر اثر انداز ہوتئ ہے کہ خوف کے باوجود جوش و خروش میں اضافہ ہوتا ہے لوگ ہارر فلمیں کیوں پسند کرتے ہیں اس مقصد کے لئے سائنسدانوں نے کچھ لوگوں کو ڈراونی فلمیں دیکھا کر ان کے دماغ کا نقشہ بنایا اوردریافت کیا ۷۲ فیصد افراد نے ہر چھ میں ایک بارفلم دیکھی ہے اور خوف اور ذہنی بے چینی سے ہٹ کر سب سے اہم سجہ جوش وخروش تھی۔

تحقیق کے مطابق ڈراونی فلمیں میل جول کا اک جواز ہے کیونکہ بیشترلوگ ایسی فلمیں اکیلے دیکھنے کی بجائے دوسروں کے ساتھ مل کر دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ویسے تو ہر فلم میں ہی ہیرو کو تحفظ یا خوشی کے حوالے سے کسی قسم کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے مگر ڈراونی فلموں میں ایسے سپر ہیومین پا ماورائی خطرات کو دکھایا جاتا ہے جن کی وجہ سے سمجھنا یا لڑنا ٓسان ہوتا ہے میں خود بھی ڈراونی فلم دیکھتی ہوں حالانکہ ڈر جاتی ہوں مگر دماغ کو سکون دینے کے لیے کبھی کبھی دیکھ لیتی ہوں جو لوگ ڈراونی فلمیں نہیں دیکھتے وہ بھی دیکھ لیا کرے تاکہ ڈپریشن کو کم کر سکیں اور دماغ کو سکون دے سکیں ۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments