صبیحہ خانم ایک عہد جو بیت گیا

پاکستانی فلمی صنعت کی ”فرسٹ لیڈی“ کی یادیں

بدھ جون

Sabiha Khanum aik ehed ju beet giya
وقار اشرف
پاکستانی فلمی صنعت کی ”فرسٹ لیڈی“ اور ماضی کی نامور اداکارہ صبیحہ خانم کا شمار پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ ان ناموں میں ہوتا تھا جنہیں شوبز کی دنیا کا اثاثہ اور قابل فخر ورثہ قرار دیا جاتا ہے،پاکستانی فلموں کی تاریخ مرتب کرنے والوں کے لئے صبیحہ خانم کا ذکر نہ کرنا ممکن ہی نہیں کہ ان کے بغیر نہ تو فلمی تاریخ مکمل ہو گی اور نہ ہی قابل اعتبار ٹھہرے گی،انہوں نے اس لگن،انہماک اور توجہ کے ساتھ کام کیا کہ اپنے دور کے تمام فلمسازوں کی مجبوری بن گئیں،ان کی اداکاری اس قدر فطری اور جاندار ہوتی تھی کہ دیکھنے والوں کو گمان بھی نہ ہوتا کہ ان کے سامنے ”اداکاری“ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے،مکالموں کی ادائیگی،آواز کے اُتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سے وہ اپنا ہر”سین“ مکمل کر دیتی تھیں۔

(جاری ہے)

16اکتوبر 1935ء کو گجرات میں پیدا ہونے والی صبیحہ خانم نے 50ء اور 60ء کی دہائی میں پاکستانی سینما پر راج کیا اور سینکڑوں فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔صبیحہ خانم کی نواسی ماڈل واداکارہ سحرش خان کے مطابق صبیحہ خانم کافی عرصے سے بلڈ پریشر اور شوگر سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا تھیں،وہ عرصے سے امریکہ میں مقیم تھیں اور وہیں درجینیا میں ان کا انتقام ہوا،انہیں بجا طور پر پاکستانی سلور سکرین کی”گولڈن گرل“کہا جاتا تھا۔


صبیحہ خانم اور سنتوش کمار یکم اکتوبر 1958ء کو شادی کے بندھن میں بندھے،ان دونوں کی پہلی سپر ہٹ فلم”دو آنسو“بھی اسی سال ریلیز ہوئی تھی۔”گمنام“(1954) میں ایک پگلی کے رول میں انہیں بے حد سراہا گیا اور اس فلم میں ان پر فلمایا گیا اقبال بانو کا گیت ”پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے “پہلا سپرہٹ گیت تھا۔سینئر ہدایتکار قدیر غوری نے ایک بار بتایا تھا کہ”پگلی“کا رول کرنے کے لئے صبیحہ خانم نے چار دن مینٹل ہسپتال میں نیم پاگل خواتین کے ساتھ گزارے تھے۔

اسی سال ریلیز ہونے والی فلم”سسی“پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم تھی جس میں صبیحہ خانم کا ٹائٹل رول تھا 1956ء کی فلم”دلابھٹی “پاکستان کی پہلی بلاک بسٹر فلم تھی جس کی کمائی سے لاہور کا ایورنیو سٹوڈیو بنا اور اس فلم میں صبیحہ خانم پر فلمایا گیا گیت ”واسطہ ای رب دا تو جاویں وے کبوترا“لازوال گیت ثابت ہوا تھا۔فلم”شکوہ“(1963) سے صبیحہ خانم نے ینگ ٹواہ لڈکریکٹرز میں آنا شروع کیا اور بے شمار فلموں میں اداکاری کی دھاک بٹھائی جن میں کنیز (1965)، دیور بھابھی (1967)،انجمن (1970)،سجناں دور دیا(1970)،بکھرے موتی (1957)،دلاں وچ رب وسدا(1975)،بدمعاشی بند(1980) وغیرہ شامل تھیں۔


صبیحہ خانم محمد علی ماہیا اور اقبال بیگم (بانو)کی صاحبزادی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ 1948ء میں ایک ثقافتی وفد نے سیالکوٹ کے ایک سینما کا دورہ کیا تو وہاں کم عمر مختار بیگم نے فلم ”سسی پنوں“ کا ایک پنجابی گانا”کتھے گئیوں پر وسیاوے“گایا جسے بے حد پسند کیا گیا،اس کے بعد ان کے والد محمد علی ماہیا نے سٹیج کے معروف مصنف اور ڈائریکٹر نفیس خلیلی سے ملوایا۔

کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے سلطان کھوسٹ اور نفیس خلیلی نے مختار بیگم میں چھپی فنکارانہ صلاحیتوں کو پہچانا جس کے بعد سلطان کھوسٹ نے ہی مختار بیگم کو اداکاری کی تربیت دی اور نفیس خلیلی نے انہیں اپنے سٹیج ڈرامے” بت تھکن“ میں پہلی بار اداکاری کا موقع دیا،اس دوران ہی نفیس خلیلی نے مختار بیگم کو صبیحہ خانم کا نام دیا،یہ ڈرامہ 1949ء میں ریجنٹ سینما میں پیش کیا گیا تھا جسے دیکھنے والوں میں سعادت حسن منٹو کے بھانجے مسعود پرویز بھی شامل تھے جو ان دنوں سنتوش کمار اور شاہینہ کے ساتھ ایک فلم”بیلی“بنانے کی تیاری کر رہے تھے ،مسعود پرویز نے اس فلم میں سائیڈ ہیروئن کے لئے صبیحہ خانم کو کاسٹ کر لیا جب”بیلی“ ریلیز ہوئی تو بُری طرح فلاپ ہو گئی ۔


اسی دوران ہدایتکار شکور قادری نے اپنی فلم”ہماری بستی“میں سنتوش کمار اور نجمہ کے ساتھ صبیحہ کو ایک ثانوی کردار میں کاسٹ کیا یہ فلم بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ابتدائی دونوں فلموں کی ناکامی کے باوجود ناظرین صبیحہ کی معصوم اور خوبصورت اداکاری سے بے حدمتاثر ہوئے ،اس کے بعد انور کمال پاشا کی فلم”دو آنسو“میں پہلی بار صبیحہ نے سنتوش کمار کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا اور یہ پاکستان کی پہلی سلور جو بلی نعم قرار پائی جس نے 25ہفتوں تک سینما میں لگے رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔

اس کے بعد ”غلام“میں بھی صبیحہ کے مقابل سنتوش کمار نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔”گمنام“اور ”سسی“میں سدھیران کے ہیرو تھے،”سسی“نے پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا،اس کے بعد صبیحہ نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک کے بعد ایک کامیاب فلم ریلیز ہوتی رہی۔صبیحہ خانم نے لیڈ کے علاوہ کریکٹر رولز میں بھی اپنی اداکاری کی دھاک بٹھائی۔

مجموعی طور پر انہوں نے 202کے لگ بھگ فلموں میں کام کیا جن میں اُردو فلموں کی تعداد زیادہ تھی۔صبیحہ اور سنتوش کمار نے 47فلموں میں ایک ساتھ کام کیا جن میں 30کے قریب فلموں میں وہ مرکزی کرداروں میں تھے،دیگر فلموں میں وہ معاون کرداروں میں نظر آئے۔صبیحہ خانم کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ”احساس“ اور”دشت“شامل ہیں۔اس کے علاوہ پی ٹی وی پر گائیکی کا جادو بھی جگایا،ان کے دو ملی نغمے”جُگ جُگ جیوے میرا پیارا وطن“ اور”سوہنی دھرتی اللہ رکھے“بے حد مقبول ہوئے تھے ۔

پی ٹی وی کے پروگرام”سلور جو بلی“میں صبیحہ خانم نے اپنی 1962ء کی فلم ”موسیقار “کا گیت ”یاد کروں تجھے شام سویرے“گا کر سنایا تو حاضرین کھڑے ہو گئے تھے۔
صبیحہ خانم نے اُردو کے ساتھ ساتھ پنجابی نغموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں سدھیر کے ساتھ ان کی فلم”دلا بھٹی“بہت مقبول ہوئی تھی بالخصوص ان پر فلمایا گیا منور سلطانہ کا گیت”واسطہ ای رب داتوں جاویں وے کبوترا،چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچا دیں وے کبوترا“ اس زمانے میں ہر شخص کی زبان پر تھا،”مکھڑا“میں صبیحہ خانم پر فلمائے گئے زبیدہ خانم کے گیت”دلاٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے“نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی تھی۔

ان پر فلمائے گئے دیگر مشہور گیتوں میں شامل ہیں:
یاد کروں تجھے شام سویرے (موسیقار)
گھونگھٹ اُٹھالوں کہ گھونگھٹ نکالوں(سات لاکھ)
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے(گمنام)
نہ چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے(دامن)
لُٹ الجھی سلجھا جا رہے بالم(سوال)
اومینانہ جانے کیا ہو گیا،میرا دل کھو گیا(چھوٹی بیگم)
رقص میں ہے سارا جہاں(ایاز)
چاندتکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے(عشق لیلیٰ)
سنتوش کمار سے شادی کے بعد زیادہ تر فلموں میں وہ سنتوش کمار کی ہی ہیروئن بنیں،انہیں سکرین کی مکمل جوڑی قرار دیا جاتا تھا۔

سنتوش کمار نے جب صبیحہ خانم سے شادی کی تو وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے،اس زمانے میں فلمی ہیرو اور ہیروئن شادی کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔خیال تھا کہ فلم بینوں میں اس طرح مقبولیت کم ہو جاتی ہے مگر سنتوش کمار نے صبیحہ خانم کے ساتھ شادی(سوائے چند مہینوں کے اور وہ بھی مصلحتاً)چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔سنتوش اور صبیحہ کی جوڑی شادی کے بعد پاکستانی فلمی صنعت کی کامیاب ترین جوڑی رہی،دونوں نے درجنوں فلموں میں ایک دوسرے کے مقابل مرکزی کردار ادا کئے اور بیشتر فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئیں ،دونوں کی جوڑی اتنی کامیاب تھی کہ جن دنوں ہیرو اور ہیروئن نی فلم پندرہ یا بیس ہزار روپے معاوضہ لیتے تھے ان دونوں نے ایک فلم ”سلطنت“ میں کام کرنے کا معاوضہ 90ہزار روپے وصول کیا تھا جو اس زمانے میں ایک ناقابل یقین بات تھی۔


ہیرو کی حیثیت سے سنتوش کمار کی آخری فلم بھی یہی تھی اس کے بعد صبیحہ خانم تو اداکاری سے کچھ عرصے کے لئے کنارہ کش ہو گئیں مگر سنتوش کریکٹر ایکٹر کے طور پر معاون کردار ادا کرتے رہے۔سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کی فلم ”دو آنسو“(1950) ریلیز ہوئی تو بھارت کی چنیدہ چنیدہ سپرہٹ فلمیں پاکستان میں کھلے بندوں درآمد کی جاتی تھیں لیکن”دو آنسو“ان بھارتی فلموں کے مقابلے میں ریلیز ہوئی اور کامیاب بھی ہوئی۔

انور کمال پاشا کی سلور جوبلی فلم”دو آنسو“میں انہوں نے نوری کا کردار کیا تھا۔مرتضیٰ جیلانی کی فلم”آغوش“سے صبیحہ خانم کو مزید پہچان ملی1953ء میں ریلیز ہونے والی انور کمال پاشا کی فلم”غلام“میں بھی صبیحہ خانم کی اداکاری پسند کی گئی ،اس کے بعد انور کمال پاشا کی ہی فلم”گمنام“(1954ء) میں سدھیر کے ساتھ ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔1956ء میں آنے والی ایم ایس ڈار کی رومانٹک پنجابی فلم”دلابھٹی“ میں بھی ان کے نوراں کے کردار کو پسند کیا گیا ،اس فلم نے گولڈن جوبلی منائی تھی۔


صبیحہ خانم کی دیگر مقبول فلموں میں ہماری بستی 1950ء غیرت 1951ء پنجرہ1951، برکھا1953،غلام 1953،سیلاب 1953، آغوش1953ء گمنام1954، رات کی بات 1954ء سسی1954ء انتقال 1955ء محفل 1955ء قاتل1955،شرارے1955، سوہنی1955، طوفان1955،چھوٹی بیگم1956، جمیدہ1956، حاتم 1956، سرفروش 1956، بھولے خان 1957، داتا 1957 ،عشق لیلیٰ1957،پاسبان1957،سردار 1957، سات لاکھ 1957، وعدہ 1957ء آنکھ کا نشہ 1957ء آس پاس 1957،دربار 1958،دل میں تو 1958،حسرت 1958 بکھڑا 1958،شیخ چلی 1958،مسکراہٹ 1959،نغمہ دل1959، ناجی 1959،تیرے بغیر 1959،آج کل 1959،ایاز 1960، راہ گزر 1960،سلطنت 1960،شام ڈھلے 1960، موسیقار 1962،دامن1963، رشتہ 1963،شکوہ 1963،عشرت 1964،کنیز 1965،سوال 1966،تصویر 1966،دیور بھابی 1967،سمگر1967،آگ 1967،کمانڈر1968، نابید1968،شہنشاہ جہانگیر 1968 اور لاڈلہ1969شامل ہیں۔


صبیحہ خانم نے پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی اداکاری اور گلوکاری کے جوہر دکھائے ،فلم”اک گناہ اور سہی“پر انہیں تاشقند فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا،اس کے علاوہ 1967ء میں پرائیڈ آف پر فارمنس بھی دیا گیا تھا،وہ فلمی صنعت کی نور جہاں کے بعد پہلی اداکارہ تھیں جنہیں صدارتی اعزاز برائے حُسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔متعدد نگار ایوارڈز اس کے علاوہ تھے جس میں فلم سات لاکھ (1967) اور شکوہ(1963ء)پر بہترین اداکارہ،اک گناہ اور سہی (1975) پر سپیشل نگار ایوارڈ،1981ء میں 30سالہ ایکٹنگ کیریئر پر سپیشل نگار ایوارڈ شامل ہے۔1962ء میں حسن طارق کی ”سنگدل“پر بھی بہترین سپورٹنگ ایکٹر میں کا نگار ایوارڈ ان کے حصے میں آیا تھا۔

Your Thoughts and Comments