استاد سلامت علی خان

کلاسیکل موسیقی سننے والے انھیں بھلا نہ سکیں گے

پیر جولائی

Ustad salamat ali khan
وقار اشرف
نامور کلاسیک گائیک اُستاد سلامت علی خان کو دُنیا سے گئے 19برس بیت گئے لیکن کلاسیکل موسیقی سُننے والے انہیں بھلا نہ سکیں گے۔12 دسمبر 1934ء کو ہوشیار پور کے علاقے شام چوراسی میں پیدا ہونے والے اُستاد سلامت علی خان نے موسیقی کی تربیت اپنے بڑے بھائی اُستاد نزاکت علی خان کے ساتھ مل کر والد اُستاد ولایت علی خان سے حاصل کی جس کے بعد اُستاد نزاکت علی خان کے ساتھ ان کی جوڑی بہت مقبول ہوئی اور دونوں بھائیوں نے اپنی پہلی کلاسیکل پر فارمنس میں شائقین کے دل موہ لیے تھے۔


برصغیر میں کلاسیکی گائیکی کے حوالے سے وہ گھرانے بہت مشہور ہیں۔ایک شام چوراسی اور دوسرا پٹیالہ۔شام چوراسی گھرانے کے ممتاز فنکاروں میں میاں کریم بخش مجذوب،اُستاد احمد علی خان،اُستاد نیاز حسین شامی اور اُستاد ولایت خان کے بعد اُستاد نزاکت علی خان اور اُستاد سلامت علی خان سب سے نمایاں ہیں۔

(جاری ہے)

کہا جاتا ہے کہ اس گھرانے کی بنیاد سولہویں صدی میں میاں چاند خاں اور میاں سورج خان نے رکھی تھی جو تان سین کے ہم عصر تھے۔

اُستاد نزاکت علی خان اور اُستاد سلامت علی خان خیال گانے میں مہارت رکھتے تھے،یہ گھرانہ جگل بندی گانے میں بھی شہرت رکھتا تھا۔اُستاد سلامت علی خان نے شام چوراسی گھرانے کی گائیکی کو برصغیر میں مقبول کرنے میں اہم کردار ادا کیا،ان کا گھرانہ دھرپد گائیکی کے لئے مشہور تھا لیکن اُستاد سلامت علی خان نے اپنے ایک بزرگ میاں کریم بخش مجذوب سے خیال گائیکی میں بھی کمال حاصل کیا،وہ برصغیر کے واحد گائیک تھے جنہیں مسلسل دس سال تک آل انڈیا میوزک کانفرنس کلکتہ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

برطانیہ ،امریکہ،جرمنی،ہندوستان،افغانستان،سنگاپور،ہالینڈ،اسکاٹ لینڈ،سوئزر لینڈ اور اٹلی میں بھی انہیں فن کا مظاہرہ کرنے کا اعزالہ حاصل تھا،کافی اور ٹھمری کو انہوں نے نئی جہتوں کے ساتھ پیش کیا،اس کے علاوہ انہیں خواجہ غلام فرید کی ملتانی کافی کو نیا کلاسیکی انگ دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔
نزاکت علی خان اور سلامت علی خان کو جوڑی نے برصغیر پاک وہند میں دھوم مچائے رکھی،سلامت علی خان کلاسیکل گائیکی کے علاوہ اعلیٰ درجے کی دُھنیں بھی تخلیق کرتے تھے،انہوں نے جنوبی ایشیا کی کلاسیکی موسیقی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

1942ء میں نزاکت علی خان اور سلامت علی خان نے پہلی بار آل انڈیا ریڈیو دہلی پر گائیکی کا مظاہرہ کیا اس وقت سلامت علی خان کی عمر صرف آٹھ برس تھی پھر وہ کلاسیکل موسیقی کے ایک پروگرام میں شرکت کے لئے امرتسر گئے اور وہاں گانا شروع کیا تو سامعین مسحور ہو گئے۔تقسیم ہند کے بعد یہ خاندان پہلے ملتان آیا پھر لاہور میں مقیم ہو گیا۔سلامت علی خان کے بارے میں بہت سے کلاسیکل گویے یہ کہتے تھے کہ تان سین بھی اسی طرح گانا ہو گا۔

1953ء میں استاد سلامت علی خان نزاکت علی خان کے ہمراہ بھارت گئے ،اس دوران انہوں نے بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے سامنے بھی گائیکی کا مظاہرہ کیا تو نہرو ان کے گرویدہ ہوگئے۔برصغیر کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر بھی اُستاد سلامت علی خان کی زبردست مداح تھیں،ان کا کہنا ہے کہ سلامت علی خان برصغیر کے عظیم ترین کلاسیکل گلوکار ہیں۔


1984ء میں استاد نزاکت علی کا انتقال ہو گیا لیکن سلامت علی خان اپنے بیٹوں شرافت علی خان اور شفقت علی خان کے ساتھ گاتے رہے اور شام چوراسی گھرانے کی روایت کو آگے بڑھایا۔حکومت پاکستان نے فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1989ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا،اس کے علاوہ انہیں پنج پٹیہ گلوکار کے لقب سے بھی نوازا گیا تھا۔یہ عظیم گائیک 11جولائی 2001ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا تھا،وہ لاہور میں قبرستان اسکیم موٹر ملتان روڈ میں آسودہ خاک ہیں۔

Your Thoughts and Comments