البیلا

بچھڑے 16برس بیت گئے

بدھ جولائی

Albela
فلم،ٹی وی اور تھیٹر پر مُسکراہٹیں بکھیرنے والے نامور اداکار البیلا کو مداحوں سے بچھڑے 16برس بیت گئے۔ان کا حقیقی نام اختر حسین تھا لیکن البیلا کے نام سے شہرت حاصل کی۔21ستمبر 1941ء کو گوجرہ میں پیدا ہونے والے البیلا نے 70ء کی دہائی میں اسٹیج سے کیریئر کا آغاز کیا جس کے بعد فلموں کا رُخ کیا لیکن شہرت تھیٹر سے ہی ملی۔لاہور کے باغ جناح اوپن ایئر تھیٹر میں پہلا اسٹیج ڈرامہ’یہ بے چارے لوگ“کیا جو خاصا مقبول ہوا۔


وہ جسمانی حرکات وسکنات اور مکالموں کی مخصوص طرز پر ادائیگی سے مزاح پیدا کرتے تھے،ان کی پہلی فلم”رشتے“1963ء میں ریلیز ہوئی جس میں ایک چھوٹے سے کردار نے انہیں مقبول فنکاروں کی صف میں لاکھڑا کیا ،ان کی دیگر مقبول فلموں میں بھریا میلہ،باؤ جی، شہید،عشق نچاوے گلی گلی،بڑے میاں دیوانے ،سبرے کے پھول،صائمہ،تیس مارخان،انسانیت کے دشمن ،دل لگی اور ہوشیار شامل ہیں۔

(جاری ہے)


البیلا نے 215کے لگ بھگ فلموں میں کام کیا جن میں ایک فلم”وار داتیا“میں مرکزی کردار بھی کیا تھا،اس کے علاوہ پی ٹی وی پر عارف علی عارف کے ایک کھیل”اِک سی بادشاہ“میں اکبر اعظم کا کردار بھی کیا تھا جسے بہت سراہا گیا تھا،یہ کھیل مغل دور کی مشہور کہانی انار کلی کی پیروڈی تھا جس میں شہزادہ سلیم کا کردار امان اللہ نے اداکیا تھا،ان دونوں کی جوڑی نے پھر سٹیج ڈراموں میں بہت مقبولیت حاصل کی،البیلا نے زیادہ تر سٹیج پر ہی کام کیا اور ان کے ہم عصر فنکار تھیٹر پر ان کے برجستہ فقروں کے معترف تھے۔

لوگوں کے اُداس چہروں پر خوشیاں بکھیرنے والا یہ عظیم فنکار 17جولائی 2004ء کو عارضہ قلب کے باعث 63برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملا تھا۔ان کا بیٹا ہنی البیلا بھی اپنے والد کے نام اور کام کو کامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے۔

Your Thoughts and Comments