خلیل احمد ایک عظیم موسیقار

لازوال گیتوں،غزلوں اور ملی نغموں کی گونج آج بھی فضاؤں میں ہے

جمعہ جولائی

Khalil Ahmad Aik Azeem Mosikar
فلم،ٹیلی ویژن اور ریڈیو کو لازوال گیت،غزلیں اور ملی نغمات دینے والے نامور موسیقار خلیل احمد کو بچھڑے 23برس بیت گئے،وہ 22 جولائی 1997ء کو راہی ملک عدم ہو گئے تھے مگر ان کی غزلیں ،گیت اور ملی نغمے آج بھی فضاؤں میں گونج رہے ہیں۔3مارچ 1963ء کو پیدا ہونے والے خلیل احمد کو آغاز میں گلوکار بننے کا شوق تھا،زمانہ طالب علمی سے گیت اور نغموں کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور اکثر مقابلوں میں اول انعام حاصل کیا۔

ان کی آواز میں مٹھاس اور سریلا پن تھا مگر وہ گلوکار نہ بن سکے بلکہ موسیقار بن گئے۔
آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد 1952ء میں وہ پاکستان آگئے یہاں آکر موسیقی کے اسرار ورموز سیکھے۔ڈھاکہ میں ریڈیو پاکستان کے میوزک سیکشن میں ملازمت کرلی،وہیں قیام کے دوران ہی انہیں بنگالی موسیقی سیکھنے کا موقع ملا،چند برس کے بعد کراچی آگئے اور پہلے ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کی لیکن شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر ریڈیو پاکستان میں ملازم ہو گئے جہاں سے پروگرام”اتحادی موسیقی“شروع کر دیا جس میں وہ بنگالی گیتوں کو اردو ترجمہ کرکے بنگالی موسیقی میں ہی کمپوز کرکے پیش کیا کرتے تھے،پھر وہ کراچی سے لاہور منتقل ہو گئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔

(جاری ہے)

کراچی میں قیام کے دوران ہی ان کی حمایت علی شاعر کے ساتھ دوستی ہو گئی پھر لاہور میں حمایت علی شاعر اور سنتوش کمار فیملی کے ساتھ مراسم قائم ہوئے تو خلیل احمد نے 1962ء میں فلمی موسیقی کا آغاز کر دیا ،بطور موسیقار ان کی پہلی فلم ”آنچل“ تھی جس کے ڈائریکٹر اے حمید تھے،اس فلم کے نمایاں فنکاروں میں درپن،صبا اور حالش شامل تھے،فلم کے تمام گانے مقبول ہوئے تاہم احمد رشدی کے گائے ہوئے گیت”کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو“پر خلیل احمد کو نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔


 1963ء میں فلم”امن“ کے لئے حمایت علی شاعر کا لکھا ہوا نغمہ”نہ چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے“پر دوسری بار نگار ایوارڈ ملا۔1963 ء میں فلم”خاموش رہو“کی موسیقی ترتیب دی جس کے بیشتر گانے مقبول ہوئے جن میں مالا کا گایا ہوا نغمہ ”میں نے تو پریت نبھائی سانور یارے تو نکلا ہر جائی“نے تو مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے تھے۔1966ء میں حمایت علی شاعر کی فلم”لوری“ میں ان کے تمام گیت مقبول ہو ئے لیکن ”چندا کے ہنڈوے میں اڑن کھنولے میں“تو بہت ہی پسند کیا گیا جس کے بعد انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

1965ء میں علی سفیان آفاقی کی فلم”کنیز“کے گانے کمپوز کئے جن میں سے بیشتر بے حد مقبول ہوئے لیکن ایک نغمہ”جب رات ڈھلی تم یاد آئے“پر انہیں نگار ایوارڈ ملا جسے احمد رُشدی اور مالا نے گایا تھا۔1976ء میں فلم”آج اور کل“میں ان کی کمپوزنگ میں تسلیم فاضلی کا لکھا ہوا ڈوئٹ ”پیار کا وعدہ ایسا نبھائے کوئی جدا کر پائے“بے حد مقبول ہوا جسے مہدی حسن اور مہناز نے گایا تھا۔


خلیل احمد نثار بڑی،خواجہ خورشید انور اور سہیل رانا کی طرح ان موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا کسی موسیقار گھرانے سے تعلق تھا اور نہ ان کے خاندان کے کسی فرد کو موسیقی یا گلوکاری سے کوئی دلچسپی تھی۔خلیل احمد نے فلمی گیتوں کے ساتھ ساتھ متعدد ملی نغموں کی دھنیں بھی بنائیں جن میں بیشتر ملی نغمے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سے نشر ہوئے جن میں نیرہ نور کا گایا ہوا ملی نغمہ ”وطن کی مٹی گواہ رہنا“بے حدمقبول ہوا ،ریڈیو کے لئے ہی انہوں نے ”ساتھیو مجاہد و جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ”بھی کمپوز کیا تھا جو بعد میں فلم”مجاہد“میں شامل کیا گیا تھا اس مشہور نغمے کو مسعود رانا اور شوکت علی نے گایا تھا۔

پی ٹی وی کے لئے ان کی کمپیوزنگ میں مقبول ملی نغمہ”ملت کے پاسبان ہیں محمد علی جناح“مسعود رانا نے گایا تھا۔خلیل احمد نے فریدہ خانم سے ایک خوبصورت گیت“ میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں“گوایا۔اسی طرح ”انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو“کی موسیقی بھی خلیل احمد نے ترتیب دی تھی جسے اُستاد امانت علی خان نے بہت خوب صورتی سے گایا تھا اور 1978ء میں یہ پی ٹی وی سے نشر ہوا تھا۔

خلیل احمد کی مشہور فلموں میں دامن،خاموش رہو،کنیز،مجاہد،میرے محبوب،تصویر،ایک مسافر ایک حسینہ،کھلونا،آنچ، بزدل،داستان،لوری،معصوم،آج اور کل،آپ کا خادم،طلاق،پیار کا وعدہ،خاندان اور پلکوں کی چھاؤں میں نمایاں ہیں۔انہوں نے مجموعی طور پر 33فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں وہ پنجابی فلمیں ناکہ بندی اور چوراں نوں مور بھی شامل تھیں۔


خلیل احمد 28سال تک فلمی دُنیا سے وابستہ رہے،وہ خود دار انسان تھے،انہوں نے دوسرے موسیقاروں کی دھنیں سرقہ کرنے کے معاملے میں فلم سازوں کی فرمائشوں کے آگے کبھی سر تسلیم خم نہ کیا جس کی وجہ سے انہیں کئی فلموں سے محروم بھی ہونا پڑا۔زندگی کے آخری کئی برس تقریباً گمنامی میں گزارے،فلمی صنعت سے مایوس ہو کر خاندان کی کفالت کے لئے پاک فوج کے بینڈ میں بطور موسیقار ملازمت اختیار کرلی تھی جہاں وہ بینڈ کے لئے دُھنیں ترتیب دیتے تھے اور اہم قومی ایام میں فوجی بینڈ کی کمپوزنگ کرتے تھے ۔

انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے اپنی ہی بنائی ہوئی ایک غزل گائی بھی تھی جس کے بول تھے”چلو تو کٹ ہی جائے سفر آہستہ آہستہ“بعد میں یہی غزل خلیل احمد نے مسرت نذیر سے ریکارڈ کروائی۔پاکستان ٹیلی ویژن پر ہی بچوں کے ایک مقبول پروگرام ”ہم کلیاں ہم تارے“شروع کیا جس کی میزبان نیرہ نور تھیں۔خلیل احمد 22جولائی 1997ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے اور میانی صاحب قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔وہ اپنے مداحوں کے دلوں میں آج بھی راج کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments