شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان

آج بھی دلوں پر ان کا راج ہے

پیر اگست

Shehensha Qawali Ustad Nusrat Fateh Ali Khan
وقار اشرف
شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 23برس بیت گئے ،وہ جگر اور گردوں کے عارضے کے باعث 16اگست 1997ء کو دنیاء فانی سے کوچ کر گئے تھے لیکن ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔1948ء کو فیصل آباد میں معروف قوال فتح علی خان کے گھر پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان قوالی اور لوک موسیقی میں اپنی پہچان آپ تھے،ان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے،ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی،اُستاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کردی،انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دُنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔

(جاری ہے)


16سال کی عمر میں انہوں نے صوفی قوالی کا رنگ اپنایا اور دُنیا کے مختلف ممالک میں اپنے منفرد صوفی انداز سے سب کو گرویدہ بنا لیا۔انہوں نے اردو،پنجابی اور فارسی زبان میں قوالیاں اور غزلیں گائیں جنہیں بے حد سراہا گیا،ملی نغمے بھی گائے جن میں ”میرا پیغام پاکستان“ سب سے زیادہ مقبول ہے۔انہوں نے متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کیے۔

متعدد بھارتی فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا بالخصوص بالی وڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا گانا ”دو لہے کا سہرا سہانا لگتا ہے“ کو توبے حد پذیرائی ملی تھی۔ان کی کئی قوالیوں اور گیتوں کو پاکستان و بھارت کے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا ہے۔
ان کا پہلا تعارف خاندان کے دیگر افراد کی گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا۔ ”حق علی مولا علی“ اور ”دم مست قلندر مست مست“ نے انہیں شناخت دی۔

بین الاقوامی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”ڈیڈ مین واکنگ“ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی وڈ کی ایک اور فلم ”دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ“ کی بھی موسیقی ترتیب دی۔عالمی سطح پر جتنی شہرت انہیں ملی وہ شاید کسی اور موسیقار یا گلوکار کو نصیب نہیں ہوئی۔بطور قوال ان کے 125آڈیو البم ریلیز ہوئے جو ورلڈ ریکارڈ ہے جن میں دم مست قلندر مست ،علی مولا علی،یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے،میرا پیا گھر آیا،اللہ ہو اللہ ہو،کنہا سوہنا تینوں رب نے بنایا سمیت کئی یادگار قوالیاں اور گیت شامل ہیں۔

بالی وڈ کی کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی جگایا جس میں”اور پیار ہو گیا“،”کچے دھاگے“اور ”کارتوس“شامل ہیں۔انہیں گیت،غزل،قوالی،کلاسیکل اور نیم کلاسیکل پر مکمل عبور حاصل تھا،انہوں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلموں کو مسلمان بھی کیا۔وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کے بہترین سفیر تھے کہ جہاں لفظ”پاکستان“ سے لوگ نا واقف تھے وہاں پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر متعارف کرایا۔


پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا،ان کی مشہور قوالی”علی مولا علی“ انہی دنوں کی یاد گار ہے بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعراء کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں ”سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا“ اور ”سانسوں کی مالا پہ“ نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔

وہ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر جبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی ”دم مست قلندر مست مست“ ریلیز ہوئی۔اس مشہور قوالی کے منظر عام میں آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویووفیسٹیول میں بھی فن کے جوہر دکھا چکے تھے۔لیکن”دم مست قلندر مست مست“کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔انہوں نے بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ”بینڈٹ کوئین“ کے لئے بھی موسیقی ترتیب دی۔انہوں نے جدید مغربی موسیقی اورمشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا اور نئی نسل میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments