احمد راہی

ان کے گیتوں میں پنجاب کا رومان زندہ ہے

بدھ ستمبر

Ahmad Rahi
وقار اشرف
نامور شاعر،مکالمہ نویس اور نغمہ نگار احمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 18برس بیت گئے،12نومبر 1923ء کو امرتسر میں پیدا ہونے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا،انہوں نے 200سے زائد اردو اور پنجابی فلموں کے لئے ایک ہزار کے قریب نغمے تخلیق کیے جن میں سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے،نیناں والڑیا توں ایہہ گل بھلیں ناں،تیری زلفاں دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا،تم توکہتے تھے کہ بہار آئے گی تو لوٹ آؤں گا اور دیگر آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں،ان کے گیتوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان میں پنجاب کارومان زندہ ہے۔


احمد راہی نے ایم اے او کالج میں داخلہ لیا تو وہاں سیف الدین سیف ان کے کلاس فیلو تھے جن سے ان کی دوستی ہو گئی،سیف الدین سیف کی صحبت نے غلام احمد کوبھی آہستہ آہستہ شاعر بنا دیا اور انہوں نے بھی نام کے ساتھ غلام ہٹا کر احمد کے ساتھ راہی کا اضافہ کر لیا۔

(جاری ہے)

دونوں نے شاعری کا آغاز پنجابی شاعری سے کیا،اگر چہ سیف الدین سیف اور احمد راہی گہرے دوست تھے مگر سیف الدین سیف شاعری میں احمد راہی کے اُستاد تھے۔

تقسیم کے بعد احمد راہی نے ترقی پسند ادبی محلے”سویرا“کی ادارت سنبھالی جہاں 1951ء سے 1953ء تک رہے پھر فلمی دنیا کا رخ کر لیا اور فلمی کیریئر کا آغاز تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بننے والی پنجابی فلم”بیلی“سے کیا جس کی کہانی سعادت حسن منٹو نے لکھی جبکہ ہدایات مسعود پرویز نے دی تھیں،اس کے بعد پرواز،مجرم،پتن،ماہی منڈا،یکے والی اور سردار جیسی فلموں کے علاوہ مسعود پرویز اور خواجہ خورشید انور کی مشہور پنجابی فلم”ہیر رانجھا“کے بھی نغمات لکھے جن میں”سن ونجلی دی مٹھڑی تان دے“اور”ونجلی والڑیا توں تے مود لئی اے مٹیار“بے حدمقبول ہوئے۔


ان کے لکھے ہوئے دیگر مقبول نغموں میں میری چنی دیاں ریشمی تنداں،چوڑے والی بانہہ نہ مروڑ،نہ عشق نوں لیکاں لائیں،برے نصیب میرے،نکے ہوندیاں دا پیار،سُنجے دل والے بوہے اجے میں نہیوں ڈھوئے،آندا تیرے لئی ریشمی رومال ،جدوں تیری دنیا توں پیار ٹر جائے گا،ناں والیاں دے پکن پروٹھے، کوئی نواں لارا لا کے مینوں رول جا،اینی گل دس دیونکے نکے تاریو اور دیگر شامل ہیں۔

احمد راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ جتنے پیسے ملکہ ترنم نور جہاں ایک گانے کے وصول کرتی تھیں احمد راہی اس سے ایک روپیہ زیادہ وصول کیا کرتے تھے،انہوں نے تقریباً ایک درجن اردو فلموں کے لئے بھی خوب صورت نغمے تحریر کئے۔ہدایت کار ایس سلیمان کی فلم”باجی“کے گیتوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے،ملکہ ترنم نور جہاں اور نسیم بیگم کی آواز میں گائے ہوئے یہ گیت آج بھی سننے والوں کو سحر میں جکڑ لیتے ہیں ۔


رومانوی داستانوں ہیر رانجھا،مرزا صاحباں اور سسی پنوں کے نغموں کے علاوہ ان کے اسکرپٹ بھی احمد راہی نے لکھے تھے۔موسیقار خواجہ خورشید انور کے ساتھ انہوں نے انتہائی معیاری کام کیا،وہ چالیس سال تک فلمی دنیا سے وابستہ رہے،آخری گانا انہوں نے 1998ء میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ”نکی جئی ہاں“کے لئے لکھا جس پر انہیں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

”یکے والی“اور”چھومنتر“کے گیتوں نے احمد راہی کی کایا پلٹ دی ،یہ دونوں سپرہٹ فلمیں تھیں۔ ”چھومنتر“کا ایک گیت”برے نصیب میرے دیری ہو یا پیار میرا مانظر ملا کے کوئی لے گیا قرار میرا“اس زمانے میں گلی گلی کوچے کوچے میں مشہور تھا۔فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی نگار اور بولان ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔
پنجابی ادب میں احمد راہی کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی نظموں کا مجموعہ”ترنجن“ ہے جو 1952ء میں شائع ہوا تھا جس میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا۔

”ترنجن“کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا تھا۔ان کے دیگر شعری مجموعوں میں نمی نمی دا اور رُت آئے رُت جائے شامل ہیں۔احمد راہی 2ستمبر 2002ء کو 78سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے اور لاہور میں ہی آسودہ خاک ہیں۔وہ آج اس دنیا میں نہیں مگر ان کے انمول گیتوں کی خوشبو فضاؤں میں بکھری ہوئی ہے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments