وارث لدھیانوی

لازوال گیتوں کا خالق ان کے گیت ہمارے کلچر کا حصہ بن چکے ہیں

ہفتہ ستمبر

Waris Ludhianvi
لازوال پنجابی گیتوں کے خالق نامور نغمہ نگار وارث لدھیانوی کو مداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے مگر ان کے لکھے ہوئے گیت ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے جو ہمارے کلچر کا حصہ بن چکے ہیں،انہوں نے پنجابی گیتوں کو عظمت بخشنی ،یہ عظیم نغمہ نگار 5ستمبر 1992ء کو دل کا دورہ پڑنے سے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔11اپریل 1928ء کا لدھیانہ میں پیدا ہونے والے وارث لدھیانوی کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا،شاعری شروع کی تو ابتداء میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر اُستاد دامن کے شاگرد ہوئے تو وارث تخلص کر لیا اور استاد دامن کی شاگردی کے بعد اردو کی بجائے پنجابی شاعری پر توجہ مرکوز کرلی۔

انہوں نے اُستاد دامن سے بہت کچھ سیکھا اور بارہا اس کا اعتراف بھی کیا،ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کی خوش بختی ہے کہ انہیں استاد دامن کی شاگردی نصیب ہوئی۔

(جاری ہے)


بطور نغمہ نگار ان کی پہلی فلم”شہری بابو“تھی جس کا ایک گیت”اک منڈے دی چیز گواچی بھل کے چیتا آوے گا“زبیدہ خانم کی آواز میں کافی مشہور ہوا تھا لیکن”دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا امبڑی دے دل دا سہارا نی ویر میرا گھوڑی چڑھیا“نے انہیں بہت زیادہ شہرت دی،یہ گیت فلم”کرتار سنگھ“میں شامل تھا جو 1959ء میں ریلیز ہوئی اور اسے پاکستان کی سب سے بڑی پنجابی فلم قرار دیا جاتا ہے،یہ گیت آج بھی سپرہٹ گانوں میں شمار ہوتا ہے اور پنجاب میں شادی بیاہ کی کوئی تقریب اس گیت کے بغیر ادھوری ہوتی ہے۔

ان کے دیگر شاہکار گیتوں میں دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے(منیر حسین،زبیدہ خانم)،میرا دل چنا کچ دا کھڈونا(زبیدہ خانم)،سانوں وی لے چل نال وے باؤ سوہنی گڈی والیا(نسیم بیگم )۔جھانجریا پہنا دو(ملکہ ترنم نور جہاں)،میں دل تیرے قدماں چے رکھیا،وے سب توں سوہنیاں ہائے وے من موہنیاں ،دلاں دیاں میلیاں نے چن جیاں صورتاں،گوری گوری چاندی ،چنا تیری یاد وچ چن چن دے سامنے آگیا،جھانجھر دی پانواں چھنکار،جے میں ہوندی ڈھولنا سونے دی تویتری،،میں چڑھی چوبارے عشق دے،پانویں مینوں کملی کہہ لے پانویں کہہ لے جھلی، مینوں تیرے جیا سوہنا دلدار ملیاں،پاگل نیں او جیڑے سچا پیار کسے نال کر دے نیں،دلا ٹھہر جا یار دا اور دیگر شامل ہیں۔

انہیں اپنا گیت ”پھکی پے گئی چناں تاریاں دی لوء توں اجے وی نہ آیوں سجناں“ ذاتی طور پر بہت پسند تھا۔
وارث لدھیانوی نے جن فلموں کے لئے نغمات لکھے ان میں ماہی منڈا،جٹی،مکھڑا،ناجی،مٹی دیاں مورتاں،ہیر سیال،لچھی،یار دیس پنجاب دے،میلے سجناں دے،ضدی،خوشیا، نوکر و وہٹی دا،وحشی جٹ،الٹی میٹم،شیرخان،شعلے،انگارہ،جانباز،باجی،پگڑی سنبھال جٹا، رنگیلا،شعلے ،مفرور،روٹی،حکومت،مکھڑا،دو رنگیلے اور دیگر فلمیں شامل تھیں۔

انہوں نے جن ممتاز موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ان میں بابا جی اے چشتی،ماسٹرعنایت حسین،رشید عطرے،صفدر حسین،طافو،طفیل فاروقی اور نذیر علی شامل ہیں۔وارث لدھیانوی نے تقریباً تیس برس سے زائد فلمی دُنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ان کی گیت نگاری دیگر نغمہ نگاروں سے الگ تھی ،ان کی زبان بہت سادہ اور پُر اثر تھی اسی لئے ان کے گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی اور وہ زبان زد عام ہوئے۔


انہوں نے ایک جگہ رکنے کی بجائے خود کو وقت کے ساتھ تبدیل کیا اور زمانے کے ساتھ چلے یہی وجہ تھی کہ 50اور 60کی دہائی میں ان کی گیت نگاری کا انداز کچھ اور تھا لیکن 70 اور 80کی دہائی میں ان کی نغمہ نگاری کی نئی پرتیں دیکھنے کو ملیں۔وہ گیت لکھنے سے پہلے فلم کے موسیقار سے بھی مشورہ لیتے اور فلمی مناظر کی سیچویشن کے مطابق نغمات لکھتے، اداکاروں اور اداکاراؤں سے بھی اس حوالے سے بات چیت کرتے تھے۔

ان کے حوالے سے ایک واقعہ مشہور ہوا تھا جس کے راوی احمد عقیل روبی مرحوم تھے کہ جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا،پولیس والے لوگوں کے منہ سونگھتے پھرتے تھے،وارث لدھیانوی کو پکڑ کر تھانے لے گئے،حوالات میں بند کرنے لگے تو وارث لدھیانوی نے تھانیدار سے پوچھا”پتر،تیرا ویاہ ہویا اے ؟“تھانیدار نے کہا”ہاں ہو یااے،تے ایس تھانے وچ سارے ویاہے ہوئے نیں“اس پر وارث لدھیانوی نے کہا:”تے فیر ساریاں دے ویاہ تے اک گیت ضرور بھیناں نے گایا ہونا اے“”تھانیدار نے پوچھا“کیہڑا گیت؟“تو وارث لدھیانوی نے کہا:”دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا،امبڑی دے دل دا سہارا ،نی ویر میرا گھوڑی چڑھیا “تھانیدار نے کہا کہ”ہاں ایہہ گیت گایا سی،پر تیرا ایس گیت نال کیہ تعلق؟“وارث لدھیانوی نے ہنس کے کہا”یار ایہہ گیت میں لکھیا اے تے میرا ناں وارث لدھیانوی اے“ تھانیدار نے اسی وقت تانگا منگوایا اور ایک سپاہی کی ڈیوٹی لگائی”جا وارث صاحب نوں سلطان پورہ چھڈ کے آ،کدھرے کوئی ہور پولیس والا نہ پھڑ لوے۔


مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments