ایک لڑکی من موہنی سی

معروف اداکارہ حاجرہ یامین سے ملئے

منگل ستمبر

Aik Larki Man Mohni Si
درخشاں فارقی
صد شکر کہ وہ دور ختم ہوا جب کم تعلیم یافتہ اور مخصوص گھرانوں کی لڑکیاں تھیٹر،ٹی وی اور فلم میں آیا کرتی تھیں۔اب کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ لاہور میں بھی اچھی پڑھی لکھی اور مہذب گھرانوں کی لڑکیاں لڑکے متعارف ہو رہے ہیں۔میڈیا میں انہیں عزت و مرتبہ مل رہا ہے اور یہ بھی وقار کے ساتھ اپنے فن کا لوہا منوا رہے ہیں۔اس وقت کراچی ڈرامہ انڈسٹری کا گڑھ ہے۔

بڑے اور نامور پروڈکشن ہاؤسز بھی یہیں مصروف کار ہیں اور دوسرے شہروں سے کراچی آن کر بیسرا کرنے والے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں وہ خواہ گوہر رشید ہو،کنزیٰ ہو یا حاجرہ یامین، ٹیلی ویژن پر یہ سب بے حدمعروف ہیں۔
”انور مقصود کے مقبول تھیٹر سیاچن کے بعد کیسے حالات رہے،سنا آپ تو اسلام آباد سے آکر واپس ہی نہ جا سکیں؟“
(ہنستے ہوئے)”جی بالکل․․․․ایک تھیٹر کے بعد دوسرا پھر تیسرا ملتا گیا اور پھر ہم سیاچن کو لے کر لاہور اور اسلام آباد بھی ہو آئے۔

(جاری ہے)

بڑا خوشگوار سفر کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ٹیلی ویژن کا کیریئر بھی شروع ہو گیا“۔
”نئے پڑھنے والوں کو اپنے سیریلز کے بارے میں کچھ تفصیل بتا دیں“؟
”بنجارن،بھوکی بانو،تو دل کا کیا ہوا،تیری رضا،باندی،تعبیر،شہر ملال اور عہد وفا آن ایئر جا چکے ہیں اور کچھ پائپ لائن میں ہیں“۔
”سنا ہے آپ سعودی عرب سے یہاں منتقل ہوئی ہیں،اپنی فیملی کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی؟“
”جی ،میرے والد سعودی ایئر لائنز سے وابستہ رہے اب ریٹائرڈ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

میرا ایک بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔میں سب سے چھوٹی ہوں۔2000ء میں ہم لوگ سعودی عرب سے پاکستان شفٹ ہوئے تھے۔RootsسےOlevelکیا۔پھر فاطمہ جناح یونیورسٹی اسلام آباد سے کمیونیکیشن میں گریجویشن کیا۔یونیورسٹی میں تھیٹر کرنا شروع کر دیا تھا۔گریجویشن تو ہو گیا مسٹرز رہ گیا اور اداکاری کا کیریئر شروع ہو گیا۔میں نے کبھی اپنے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی۔

مجھے ٹی وی اور فلموں میں اپنی کامیابی کا بھروسہ بھی بہت بعد میں ہوا جب لوگوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا کہ تم ڈراموں میں اداکاری کر سکتی ہو۔میں تو ان سے پوچھا کرتی تھی کہ کیا اس میں اسکوپ ہے؟کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ میں اداکاری کر سکوں گی“۔
”آپ نے غالباً دو تین فلمیں بھی کیں،یہ کیسا تجربہ رہا؟“
”اسمانبیل کی فلم’مان جاؤ نا‘شازیہ علی خان کی فلم’پنکی میم صاحب‘میں مرکزی کردار ادا کئے۔

بس پتا نہیں کیسے کر لئے۔لوگ کہتے ہیں کہ میں شوخ و چنچل ہوں اس لئے یہ کردار میری شخصیت کے قریب تر تھے اور مجھے کچھ مشکل پیش نہ آئی۔ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ خاندان میں دور دور تک کوئی آرٹسٹ پیدا نہیں ہوا اور فیملی کے لوگ اس کام کو اچھا بھی نہیں سمجھتے تھے۔میں چھوٹی اور لاڈلی تو تھی ہی اور چاہتی تھی کہ کچھ نیا کام کروں شاید اسی لئے میں نے فیملی کی مخالفت بھی مول لی۔

گریجویشن کرکے تھیٹر کیا“۔
”سیاچن کے لئے آپ کا انتخاب کیسے ہوا تھا؟“
”میں ناپا اور آرٹس کونسل میں اٹھتی بیٹھی تھی۔وہیں پتا چلا کہ انور مقصود صاحب کے پلے کے لئے لڑکیوں کے آڈیشنز ہو رہے ہیں،کسی نے کہا حاجرہ موقع اچھا ہے۔لکھنے والا بہت بڑا فنکار ہے ممکن ہے کہ بات بن جائے۔اب میں نے آڈیشن تو دے دیا مگر میری اردو پنجابی زدہ تھی یعنی میں صاف اور نستعلیق انداز میں اردو بولنا نہیں جانتی تھی۔

ہمارے گھر میں تو پنجابی زبان بولی جاتی ہے البتہ نئی نسل اردو بولنے لگی ہے مگر آپ سمجھ سکتی ہیں کہ شین قاف ہمارے کم ہی درست ہوتے ہیں لہٰذا انور صاحب نے لگ کے ایک مہینے تک میری اردو ٹھیک کی،تلفظ کی ادائیگی بہتر بنائی۔سیاچن کے ہدایتکار اور محمود نے بھی میری بڑی رہنمائی کی“۔
”سیاچن‘میں آپ نے شہروں شہروں پر فارم کیا اس کا تجربہ کیسا رہا؟“
”بہت شاندار․․․میں نے کراچی سے اسلام آباد پھر لاہور،ملتان،فیصل آباد اور دبئی میں بھی پر فارم کیا۔

ہر شہر میں ہمیں بڑی اچھی آڈئینس ملی۔پھر جب ہم دبئی میں تھیٹر کر رہے تھے تو میری فارمنس دیکھ کر شازیہ علی خان نے مجھے اپنی فلم’پنکی میم صاحب‘میں کاسٹ کر لیا۔تھیٹر کے لئے مجھے رقص کی تربیت بھی دی گئی تھی لہٰذا میری دونوں فلموں میں پرفارمنس کو سراہا گیا“۔
”آپ اب تک ڈراموں نیم مرکزی حیثیت کے کردار ادا کر رہی ہیں لیڈ پر کب آئیں گی؟“
”عہد وفا میں لیڈ تھا کم از کم میرے لئے ایک ٹریک میں تو تھا سچی بات تو یہ ہے کہ بس ایک اداکارہ ہوں اور مجھے جس کردار کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے،دے دیا جاتا ہے۔

اب میں اس میں کتنے خلوص اور توانائی کے ساتھ پر فارمنس دیتی ہوں یہ میری خدادا صلاحیت اور تھوڑی بہت محنت شامل حال ہوتی ہے۔میرے ہر ڈرامے میں میرا کردار مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔اگر کردار مضبوط اور نمایاں نہ ہوتو کام کا مزا کیسے آئے گا۔جو میں اتنے عرصے سے کام کر رہی ہوں تو سے میری لگن اور شوق بھی کہا جاسکتا ہے۔میں آپ کو بتاؤں کہ لیڈ کردار تو فنکاروں کو پروموٹ کیا کرتے ہیں جبکہ سپورٹنگ کاسٹ کہانی اور پلاٹ کو جاندار بناتے ہیں اور توجہ کے مرکز ٹھہرتے ہیں۔

یہ کسی اور دور کا قصہ ہے کہ خوبصورت لڑکی کو صرف ہیئروئن ہی ہونا چاہئے اب یہ لڑکی منفی کردار بھی ادا کرتی ہے۔نوجوان لڑکیاں مائیں بنتی ہیں کیونکہ بنیادی نکتہ پر فارمنس کا مارجن ہوتا ہے اب وہ سپورٹنگ کاسٹ میں ہویا مرکزی اداکاوں کے کرداروں میں ہو فرق واضح ہو جاتا ہے۔میں نے کبھی پیسے کے لئے کوئی سیریل نہیں کیا،ہمیشہ کردار کو دیکھا ہے اور میرے خیال میں ہر اداکارہ اسی طرح ہوتی ہے۔


”آپ کو فرصت کے مشاغل کے لئے وقت ملے تو کیا کرتی ہیں؟“
”میں شاعری پڑھتی ہوں۔انگریزی ادب کا انتخاب زیادہ ہوتا ہے۔اردو میں فہمیدہ ریاض کی شاعری متاثر کرتی ہے ایک تھیٹر میں ان کی نظم پر پرفارمنس بھی دی،اس وقت حیات تھیں اور انہوں نے بڑی شفقت کا برتاؤ کیا تھا۔“
”پرانے گیت اور گانے اپیل کرتی ہیں یا آج کل کے“
”مہدی حسن کی غزلیں اپیل کرتی ہیں سنتی تو آج کل کے گانے بھی ہوں مگر”رنجش ہی سہی کا جواب نہیں“۔


”اداکاروں میں کس نے متاثرہ کیا؟“
”مختلف موقعوں پر مختلف لوگ متاثر کرتے ہیں اور اگر ماضی میں جائیں تو وحید مراد جیسی گیتوں کی پرفارمنس تو کہیں نظر نہیں آتی،پڑوسی ملک میں بھی کوئی اداکارہ ان کے پائے کا ہے ہی نہیں“۔
”اداکاراؤں میں کس نے متاثر کیا؟“
”ڈراموں میں عظمیٰ گیلانی،خالدہ ریاست اور روحی بانو کا جواب نہیں۔رقص میں مادھوری ڈکشٹ کی دیوانی ہوں اور پر فارمنس میں ودیا بالن با کمال آرٹسٹ ہیں۔

اب پاکستان میں ثانیہ سعید اور نادیہ جمیل میری آئیڈیل ہیں۔ڈوب کر پرفارم کرنے کا جو انداز ان دونوں خواتین کا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا۔کاش میں بھی باریک بینی سے ایسی شاندار پر فارمنس دے سکوں“۔
اس من موہنی اداکارہ سے باتیں تو اور بھی کرنے کو جی چاہتا تھا مگر اسے ڈائریکٹر کی کال آگئی اور آپ جانتے ہیں کہ اس موقع پر گفتگو کی بساط لپیٹ دینا ہی اچھا ہوتا ہے۔

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments