عائشہ عمر․․․اسٹائلش ہے اور خوبصورت بھی

چھوٹے پردے سے بڑے پردے تک کامیاب اداکارہ

جمعرات ستمبر

Ayesha omer - stylisg hai or khobsorat bhi
درخشاں فاروقی
یورپ میں تھیٹر کئی کئی برس چلتے ہیں اسی طرح ٹی وی سیریلز کے کئی Seasonsبنتے ہیں۔ہمارے یہاں بلبلے بھی کئی برسوں سے چل رہا ہے اور ان کا ایک کردار’خوبصورت‘کا ہے جسے جواں سال اداکارہ عائشہ عمر ادا کرتی ہیں۔یہ سٹ کام گزشتہ گیارہ برس سے آن ایئر جا رہا ہے اور عائشہ عمر ہر روز ہر گھر میں دیکھی اور پسند کی جارہی ہیں بے شک اس تفریحی سلسلے میں مومو (حنا دلپذیر) کا بھی بڑا اہم کردار ہے لیکن اسٹاک کیریکٹر میں خوبصورت نہ ہوتو دلچسپ حالات و واقعات آگے بڑھتے ہی نہیں۔

اسی طرح گزشتہ کئی برس سے تمام اہم ایوارڈ شوز اور فیشن شوز کے ریڈ کارپٹ اور میزبانی میں انہیں شامل کیا جانا ان کی فنی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہنستی مسکراتی اور خوبصورت گفتگو کرنے والی عائشہ عمر سے مختصر سی ایک ملاقات کا احوال آپ بھی پڑھئے․․․
”آپ کسی سے مدد لئے بغیر اپنے گھر کی کشتی کے پتوار تھامے تھپیڑوں کا مقابلا جو انمردی سے کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

آپ کیسی ہیں عائشہ عمر؟“
”میں ٹھیک ہوں اور خوش ہوں۔چونکہ میں گھر کی بڑی اولاد ہوں تو اس رشتے سے اپنی ماں اور بھائی کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔میرا بھائی مجھ سے چھوٹا ہے اور ابھی زیر تعلیم ہے اور میری بھی تن تنہا والدین(سنگل مدر)کی طرح ہماری پرورش کر رہی ہیں اس لحاظ سے میری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اسی لئے میں پروفیشنل ہو کر پہلے اپنے کام کا معاوضہ طے کرتی ہوں۔

میں کراچی آتی ہی اسی لئے ہوں کہ یہاں ڈرامہ انڈسٹری ہے اور فلم والے بھی کراچی میں ہیں۔ٹی وی چینلز کے صدر دفاتر بھی کراچی میں ہیں اس لئے مجھے اپنے اور اس گھر کا کرایہ،اپنے اخراجات،لاہور والے گھر کے اخراجات اور بھائی کی تعلیم کے خرچے اسی کام سے نکالنے ہیں۔مگر بھئی میں نے تلخ تجربات بھی سہے ہیں۔ شروع میں مجھے ہر کام کا شوق تھا میں نے ریڈیو،ایوارڈ شوز اور ایک فلم یلغار،بغیر پیسوں کے کر دی۔

اس فلم سے جڑے تجربات تو پریشان کن رہے۔ان لوگوں نے مجھے سوائے بلبلے،کے کوئی اور پراجیکٹ بھی نہ کرنے دیا اور اس معاوضہ بھی بہت مطالبوں کے بعد دیا۔ میں نے تین سال اس فلم کے لئے ضائع کر دئیے“۔
”آپ کی ایک فلم احسن خان کے ساتھ”رہبرا“ بھی تو آنے والی تھی اس کا کیا بنا؟“
”عام طور پر ایسے پروجیکٹ زیر تکمیل ہی رہتے ہیں۔لوگ دیہاتوں اور ریلوے اسٹیشنز کی لوکیشن پر کام تو شروع کر لیتے ہیں مگر اداکاروں کو بنیادی سہولتیں بھی مہیا نہیں کرتے۔

مقامی لوگوں کا ایک ہجوم ہمارے اردگرد ہوتا ہے۔نہ ہمیں واش رومز کی سہولت دیتے ہیں نہ وقت پر کھانے اور آرام کی کوئی سہولت ہوتی ہے حتیٰ کہ بسا اوقات انتظامیہ سے اجازت بھی نہیں لی جاتی۔اس ملک میں منظم ادارے بھی ہیں جو آرٹسٹوں کی حفاظت اور آرام کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔رہبرا نئے پروڈیوسر کی کاوش ہے اور سیکھتے سیکھتے ہی سیکھیں گے۔میں نے اس فلم میں کام کرنے کی حامی اس لئے بھری کہ بعض دفعہ آپ نئے لوگوں پر بھروسہ کرکے کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ بھی اس دور میں شروع ہونے والی فلم تھی جو بن کر ریلیز بھی ہو گئی اور جسے ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔مجھے عروہ حسین والا کردار ملا تھا جسے میں نے نہیں کیا تھا۔یہ ہوتی ہے پروفیشنل اپروچ،اب میں کسی کو کیا مورو الزام ٹھہراؤں۔“
”آپ کی ایک فلم’کاف کنگنا‘بھی تھی اس کی ناکامی میں کیا عوامل تھے اور آپ نے کیا سوچ کے یہ فلم سائن کی تھی؟“
”جب مجھے فلم کے اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمان قمر صاحب کی کال آئی اور انہوں نے فلم کی آفر دی تب تک میرے پاس کوئی فلم نہیں تھی میں نے ان سے اپنی وارڈ روب فلم میں استعمال ہونے والے ملبوسات کے لئے کوئی فرمائش نہیں کی اور نہ ہی نخرہ دکھایا۔

یہ کردار اندرون شہر لاہور میں رہنے والی ایک مڈل کلاس کی لڑکی کا تھا وہ جیسے لباس کہہ رہے تھے میں پہن رہی تھی اور کردار کے مطابق ڈھلنے کی پوری کوشش میں مصروف تھی مگر جیسے ہی فلم سیٹ پر گئی یکے بعد دیگرے سوہائے علی ابڑو جو لیڈنگ رول کر رہی تھی فلم سے علیحدہ کر دی گئیں ان کی جگہ عروہ حسین کو لے لیا گیا۔جب دوسرے سیٹ پر گئی تو دیکھا کہ عروہ کو جواب دے دیا گیا ہے اب ایشال یہ رول کرے گی یعنی میرا کردار عروہ سے لے کر ایشال کو دے دیا گیا۔

انہوں نے مجھے تسلی دی کہ میرا کردار بھی مرکزی کردار کے برابر ہی رہے گا اور میں بھی لائم لائٹ میں رہوں گی ۔کوئی پروفیشنل پروڈکشن کمپنی یہ فلم نہیں بنا رہی تھی۔خلیل صاحب کی فیملی اور وہ خود سارا کام دیکھ رہے تھے۔میں لاہور جانے کے لئے تیار بیٹھی تھی اور ٹکٹ نہیں پہنچا اچانک رات گئے پتا چلا کہ شوٹنگ کینسل ہو گئی ہے۔کبھی کیمرے مرمت کے لئے چلے جاتے کبھی الیکٹرسیٹ پر نہ آتے اس طرح 25 دن کا اسپیل دوبارہ شوٹ کیا گیا۔

سیٹ پر کوئی گوشہ ایسا نہ ملے کہ جہاں کوئی خاتون سکون سے بیٹھ سکے۔16گھنٹے مسلسل کام کیا اور جب بریک ہو ہجوم میرے پاس سیلفیاں بنانے چلا آئے۔چلئے سیلفیاں بھی بنوالی جائیں مگر جس کام کے لئے ہم ایک جگہ اکٹھے ہوئے ہیں وہ تو پہلے ڈھنگ سے ہو جائے“۔
”اگر آپ کو’میرے پاس تم ہو‘عائزہ خان والا کردار دیا جاتا تو کیا کر لیتیں؟“
”یہ تو اداکاری کی بات ہے۔

اسے پرسنل نہیں لیا جانا چاہئے۔اس کردار کو ادا کرکے عائزہ یا کوئی دوسری اداکارہ بے وفا یا بدکردار کیسے ہو جاتی۔لوگوں نے اس کردار کو یا تو سمجھا ہی نہیں اور پھر اپنے اپنے نظریئے سے خلیل صاحب کو برا بھلا کہا۔مجھے تو اس وقت بہت برا لگا جب لائیو پروگرام میں خلیل صاحب عورتوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔انہوں نے اپنے کردار سے عورت کے لئے دو ٹکے کی قیمت لگائی۔

یہ ان کے اندر کا غصہ اور نفرت بول رہی تھی پھر کیوں اس مرد کو مرتے ہوئے دکھایا گیا۔میرا خیال ہے کہ بہت سے آرٹسٹوں کو ان کا یہ رویہ بھلا نہیں لگا لیکن شوبز ایک دو رخی اور منافقت بھری دنیا ہے کوئی اسکرپٹ رائٹر کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لئے خواتین آرٹسٹس نے اپنا رد عمل رجسٹر نہیں کروایا۔میں بھی اس دنیا سے تعلق رکھتی ہوں مگر اتنا ضرور کہنے دیجئے کہ ان کو بچپن میں عورتوں نے شفقت نہیں دی،محرومیاں دی ہیں اس لئے وہ عورتوں کے لئے بڑی آسانی سے بڑے کلمات کہہ جاتے ہیں۔


”چلئے آپ اپنی ذاتی زندگی کی طرف آئیے۔آپ کس طرح اپنے شوق،مشاغل،خاندانی ذمہ داریوں اور فنون لطیفہ کو ساتھ لے کر چل رہی ہیں؟“
”میری والدہ 30برس کی تھیں جب ہم دو بچوں کے ساتھ اکیلی رہ گئیں۔بیوگی جو عورت کاٹتی ہے یہ دکھ اور المیہ وہی جانتی ہے انہوں نے ہم دونوں بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا۔میں نے نیشنل کالج آف آرٹس سے گریجویشن مکمل کی ۔

میں نے پروڈیشنل انداز میں اپنا پورٹ فولیو دبئی کے نامی گرامی فوٹو گرافرز سے تیار کیا تھا اور ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔میں نے اپنی شخصیت،بالوں ،لباس،دیگر اور روپوں کے اظہار میں عملی طور پر بہتری کی کوششیں کیں۔اس لئے مجھے اسٹائلش کہا جاتا ہے اور کسی بھی پروفیشن میں محنت اور مثبت سوچ ہی آپ کو آگے لے جا سکتی ہے۔کامیابی اور شہرت کا کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا“۔


”کبھی امی کی طرف سے شادی کر لینے اور گھر داری کی خواہش ظاہر نہیں ہوئی یا آپ خود ہی ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پائیں؟“
”اگر میں مشترکہ خاندانی نظام میں والد کے زیر سیاہ پرورش پا رہی ہوتی تو اب تک شادی بھی ہو چکی ہوتی اور مجھے ہر چیز ہر قدم اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق کرنے کا موقع نہ ملتا اور اب جبکہ مجھے پتا ہے کہ کوئی لوگ میرے متعلقین ہیں۔

ان کے کھانے پینے اور بردوباش کے اخراجات میں نے اٹھانے ہیں تو ایسی صورتحال میں میں گھر بسانے کا فیصلہ کیسے کرلوں؟میں تو بڑی خوش نصیب ہوں کہ مجھے اپنی فیملی سے چاہت ملی ہے۔وہ میرا خیال رکھتے ہیں میں ان کا خیال رکھتی ہوں۔وہ مجھے دعائیں دیتے ہیں اور میری کامیابیوں کو سراہتے ہیں باقی گھریلو معیشت کی جنگ لڑنے والی سپاہیانہ توانائی جو قدرت نے مجھ میں بھری ہے میں اتنا کام کرتی ہوں۔اگر اس دوران کوئی مسٹر رائٹ مجھے ملتا ہے تو گھر بسانے کی تجویز پر غورکیا جا سکتا ہے“عائشہ کی ستاروں جیسی آنکھوں میں امید،خوشی،اعتماد اور فاتحانہ مسکراہٹ رقصاں تھی۔وہ گلوکاری ،اداکاری ،ماڈلنگ اور میزبانی اتنے محاذوں کی فاتح شخصیت ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ وہ اکیلی کہاں ہے؟

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments