لہری

برجستہ مکالمے اُن کا خاصہ تھا

ہفتہ ستمبر

Lehri
برجستہ جملوں اور بے ساختہ مکالموں سے قہقہے بکھیرنے والے پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ مزاحیہ اداکار لہری کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے،لہری کا پورا نام سفیر اللہ صدیقی تھا،وہ فلمی صنعت کے بزرگ ترین فنکار تھے،انہیں مرحوم مزاحیہ اداکار یعقوب کا جانشین قرار دیا جاتا تھا اور انہیں یعقوب کے منفرد اسلوب کا امین بھی کہا جا سکتا تھا۔ خوبصورت برجستہ اور چبھتے ہوئے جملوں سے طنز و مزاح پیدا کرنا اور پھر انتہائی کامیابی سے کردار کو اداکرنا لہری کا خاصہ تھا،وہ ایک صاحب طرز اور دور اندیش فنکار تھے،برجستگی کے ساتھ مکالموں کی ادائیگی میں انہیں ملکہ حاصل تھا،کئی فلموں میں منفی کردار بھی کئے لیکن ان میں بھی حقیقت کا رنگ بھر کے شائقین سے خوب داد سمیٹی۔


38سالہ فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے 300سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں انسان بدلتا ہے،رات کے راہی،فیصلہ،جوکر، کون کسی کا،آگ،توبہ،انجمن،پھول میرے گلشن کا،دل میرا دھڑکن تیری،افشاں،رم جھم،چھوٹی بہن،بالم،جلتے سورج کے نیچے،انجان، پرنس،زبیدہ،زنجیر،نیا انداز،بہو رانی ،موم کی گڑیا،جلے نہ کیوں پروانہ ،رسوائی،بدل گیا انسان،اپنا پرایا،میرے ہمسفر، صائقہ،نیا انداز، رات کے راہی،دوسری ماں،اک نگینہ،اک مسافراک حسینہ،چھوٹی امی،تم ملے پیار ملا،بہادر،نوکری،بہاریں پھر بھی آئیں گی،ضمیر،دل لگی، آگ کا دریا،دیور بھابھی ،داغ،نئی لیلیٰ نیا مجنوں،بندھن، تہذیب،دلہن رانی،نیا انداز،دو باغی،سوسائٹی، انہونی، ننھا فرشتہ،ایثار، دامن،آنچل،پیغام اور علی سفیان آفاقی کی کنیز جیسی فلمیں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

لہری نے اظہار فن کے لئے طنز و مزاح کو موضوع بنایا،وہ ایسے لیجنڈ کامیڈی اداکار تھے جن کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مداح تھے اور آج بھی ہیں اور ان کا فن اسی طرح مداحوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔
لہری قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آئے تو غم روزگار میں بڑی جان فشانی اور محنت سے شب و روز بسر کئے ،شارٹ ہینڈ سیکھ کر کئی فرمز و سرکاری محکمے میں اسٹیون ٹائپسٹ کی ملازمت کی جبکہ شام کے اوقات میں کراچی کے علاقے صدر میں ہوزری کی اشیاء بھی بیچیں۔

1955ء میں لچھو سیٹھ شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے نے ایک فلم ”انوکھی“بنانے کا اعلان کیا تو اس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لئے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان آئیں،سفیر اللہ کو بھی اس فلم میں اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لئے پیش کی گئی جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے وہ شہرت اور مقبولیت کے اس مقام پر پہنچ گئے جس کا انہوں نے چند سال قبل تصور بھی نہیں کیا تھا۔

منورظریف،نذر اور آصف جاہ کے بعد لہری کے لئے فلم انڈسٹری میں اپنے لئے جگہ بنانا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بیرون ملک فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا تھا،پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے،وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد مزاحیہ فنکار تھے جن کے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں پرستار موجود تھے ،ان کی زندگی کے آخری ایام میں معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی اور لہری کا آخری ایام میں کہنا تھا کہ اللہ کے بعد اس دنیا میں زندگی کے اس کٹھن سفر میں معین اختر اور سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے میرا نا صرف قدم قدم پر خیال رکھا بلکہ ہر لمحہ خبر گیری بھی کی۔


لہری کو اگر چہ پنجابی فلموں کی بھی آفرز تھیں لیکن انہوں نے ان میں کام نہیں کیا،اس حوالے سے وہ کہا کرتے تھے کہ وہ پنجابی فلموں کے مزاج کے مطابق کام نہیں کر سکتے۔لہری تھیٹر سے بھی وابستہ رہے،معین اختر مرحوم نے کراچی اور دیگر شہروں میں اسٹیج ڈراموں میں لہری کی صلاحیتوں کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا،وہ ٹی وی ڈراموں اور شوز میں بھی پرفارم کرتے رہے،یہ نامور کامیڈین طویل علالت کے بعد 83 سال کی عمر میں 13 ستمبر 2012ء کو انتقال کر گئے تھے،وہ پاکستان کے پہلے کامیڈین تھے جنہوں نے نگار ایوارڈ 11 مرتبہ حاصل کیا جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے،ان کا آخری ایوارڈ بھی نگار ایوارڈ تھا جو 1993ء میں انہیں دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ کئی مقامی اداروں کی جانب سے بھی لاتعداد ایوارڈز انہیں مل چکے تھے۔

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments