خوبرو ہیرو یوسف خان

بچھڑے گیارہ برس بیت گئے

پیر ستمبر

Khobro Hero Yousaf Khan
چودھری عبدالخالق
پاکستانی فلموں کے وراسٹائل اداکار یوسف خان نے کئی سالوں تک فلمی دنیا میں کام کرکے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ،وہ 20ستمبر 2009ء کو اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے انہیں ہم سے بچھڑے گیارہ برس ہو گئے ہیں۔ یوسف خان 1931ء کو فیروز پور میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے خاندان کے ساتھ قصور میں رہائش پذیر ہو گئے ،خوبصورت چہرہ‘گورا چٹا رنگ اور موٹی موٹی معصوم آنکھوں والے اس اداکار کا کردار بھی ان ہی کی طرح صاف ستھرا تھا جس کی گواہی آج بھی ان کے ساتھی دیتے ہیں۔

ان کی اداکاری کا اپنا ہی اسٹائل تھا۔ لاہور میں یوسف خان کی رہائش کرشن نگر (اسلام پورہ) میں رہی ،وہ ایک اعلیٰ پٹھان فیملی سے تعلق رکھتے تھے ان کے والد بڑے وضع دار اور آباؤ اجداد کی روایتوں کے امین تھے ان کے ہمسائے اور اردگرد کے لوگ ان کا بڑا احترام کرتے تھے، شام کے وقت وہ چارپائی بچھا کر گھر کے باہر بیٹھ جاتے جہاں ان کے واقف کار بھی آجاتے خوب رونق لگی رہتی شروع میں انہوں نے اپنے بیٹے یوسف خان کو فلموں میں کام کرنے سے بہت روکا مگر وہ باز نہ آئے تو بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔

(جاری ہے)


دراصل انہیں بچوں کا رات دیر تک گھر سے باہر رہنا سخت نا پسند تھا اور فلموں کے کام میں تو دن رات کی کوئی پروا نہیں ہوتی جب شوٹنگ ختم ہوئی گھر آگئے اکثر اوقات تو ساری ساری رات گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے۔ بہر حال یوسف خان اپنے کام میں دلجوئی سے لگے رہے ،کرشن نگر کے ہرن بازار میں ہائی کلاس ہیئر ڈریسر کی دکان ہوا کرتی تھی جس کا مالک عبدالطیف یوسف خان کا بڑا یار تھا،یوسف خان اسی سے کٹنگ وغیرہ کرواتے جب وہ اس کی دکان میں داخل ہوتے تو انہیں جاننے والے دو چار آدمی دکان میں آجاتے اور خوب محفل سجتی۔

یوسف خان بہت اچھی طبیعت کے مالک تھے یہی وجہ تھی کہ علاقے کے لوگ ان کی بھی بڑی عزت کرتے تھے ۔یوسف خان کا سگریٹ پینے کا انداز بھی نوابوں جیسا تھا، اُنگلیوں میں سگریٹ دبا کر ہاتھ بند کر لیتے اور بند ہاتھ کی مٹھی سے کش لگاتے،چٹا گورا ہاتھ انگلی میں عقیق جڑی انگوٹھی وہ اس انداز سے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بڑے اچھے لگتے تھے۔
ان کا واحد شوق کبوتر بازی تھا،انہیں کبوتر پالنے کا بڑا جنون تھا اور اپنے گھر میں بڑے قیمتی کبوتر پال رکھے تھے جن کی دیکھ بھال پر وہ دل کھول کر خرچ کرتے ،گھر میں جتنا بھی وقت فارغ ملتا وہ اپنے کبوتروں کے ساتھ مکان کی چھت پر گزارتے ،ان کے گھر کی چھت پر بھی بڑی رونق لگی رہتی تھی،یوسف خان کے ایک روحانی پیشوا تھے جن کا وہ بڑا احترام کرتے تھے ان کا نام میاں بشیر احمد تھا،میاں صاحب کے فلمی لائن میں اور بھی مرید تھے جن میں سنتوش فیملی بھی شامل ہے،میاں بشیر راقم کے ساتھ واپڈا میں بطور سپر نٹنڈنٹ نوکری کرتے تھے ،ان دنوں واپڈا کا ہیڈ آفس میو ہسپتال کے پاس بھارت بلڈنگ میں ہوا کرتا تھا جہاں آج کل پرانے کپڑوں کی مارکیٹ بن چکی ہے۔

یوسف خان کبھی کبھار میاں بشیر سے ملنے ہمارے آفس بھی آجاتے اور جب کبھی میاں صاحب کا موڈ بنتا وہ مجھ ساتھ لے کر یوسف خان کے آفس واقع رائل پارک چلے جاتے اور دیر تک خوش گپیوں میں مصروف رہتے ۔یہ بھی واضح کرتا جاؤں کہ پاکستان کی ایک بہت بڑی اور سر کردہ شخصیت بھی میاں صاحب کی بڑی معتقد تھی جو اکثر ان کے ساتھ رابطے میں رہتی اور ان کی دعاؤں سے فیض یاب ہوتی رہتی تھی۔


ویسے تو یوسف خان شروع میں کراچی کے اُردو ڈراموں میں کام کرتے رہے ان کے ساتھ سلطان راہی بھی اردو ڈراموں میں کام کیا کرتے تھے مگر دونوں فنکاروں کو عروج پنجابی فلموں سے ملا۔یوسف خان نے فلمی کیریئر کا آغاز 1954ء میں ریلیز ہونے والی ہدایتکار اشفاق ملک کی فلم ”پرواز“ سے بطور ہیرو کیا تھا مگر یہ فلم ناکامی سے دو چار ہوئی ۔یہ وہ دور تھاجب درپن‘سدھیر‘اسلم پرویز اور سنتوش پاکستان فلم انڈسٹری پر چھائے ہوئے تھے جن کی موجودگی میں کسی نئے فنکار کا فلم انڈسٹری میں قدم جمانا بہت مشکل تھا۔

فلم ”پرواز“ سے بہت زیادہ توقع رکھنے والے یوسف خان کو اپنی اس فلم کی ناکامی سے بڑی مایوسی ہوئی 1958ء میں ان کی فلم ”حسرت“ ریلیز ہوئی جو ایک کامیاب فلم تھی اس میں سنتوش کے ساتھ سائیڈ کریکٹر ملا تھا اس فلم میں ان کے ساتھ صبیحہ خانم اور زمرد تھیں جن کی یہ پہلی فلم تھی۔جے سی آنند کی اس فلم کے ہدایتکار منشی دل اور موسیقار صفدر حسین تھے،سائیڈ ہیرو ہونے کی وجہ سے اس کامیاب فلم کا کریڈٹ یوسف خان کو نہ مل سکا۔


تیسری فلم ”بھروسہ“ میں انہیں پھر ہیرو کا کردار ملا جب کہ چوتھی فلم میں وہ رتن کمار اور نیلو کے مد مقابل ولن کے کردار میں نظر آئے۔ہدایتکار خلیل قیصر کی اس فلم میں سلطان راہی کو بھی پہلی بار ایک چھوٹا سا کردار ملا تھا۔ قسمت کی بات ہے کہ اس فلم کا کریڈٹ بھی فلم بینوں نے رتن کمار کو دیا جو فلموں میں چائلڈ اسٹار کے کردار کرتے کرتے پہلی بار اس فلم میں ہیرو آئے تھے ۔

ساٹھ کے عشرے میں یوسف خان زیادہ تر سائیڈ کریکٹرز میں نظر آئے اس دوران انہوں نے خاموش رہو‘زرینہ‘جگنی اور حاتم طائی جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،اپنے ہر کردار کو بڑی محنت اور جانفشانی سے نبھاتے رہے مگر اس کے باوجود انہیں ابھی ہیرو تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا۔ہمارے معاشرے کی فرسودہ روایات پر بننے والی فلم ”سسرال“ 19اکتوبر 1962ء کو ریلیز ہوئی ،یہ ریاض شاہد کی بطور مصنف”فلمساز و ہدایتکار پہلی فلم تھی حالانکہ اس فلم میں یوسف خان نے بھی بڑی اچھی اداکاری کی تھی مگر اس فلم کو بھی علاؤ الدین کے نام کر دیا گیا۔

اس کے بعد ہدایت کار جمیل اختر کی کامیاب فلم ”خاموش رہو“میں محمد علی کی دھوم مچی اس میں بھی یوسف خان کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
اسی سال شاہکار پنجابی فلم ”ملنگی“ریلیز ہوئی جس میں ملنگی کا مرکزی کردار اکمل نے ادا کیا تھا اور یوسف خان کی فردوس کے ساتھ جوڑی بنائی گئی جس پرمشہور گانا ”ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں“ فلمایا گیا تھا مگر اس فلم کا کریڈٹ بھی اکمل لے گئے ۔

اب بھی جب کبھی ملنگی کا ذکر آتا ہے تو لوگ اکمل کو ہی یاد کرتے ہیں۔یوسف خان نے اور بھی بڑی اچھی فلموں میں جاندار کردار کئے مگر انہیں وہ مقام نہ مل سکا جو انہیں ملنا چاہئے تھا۔1968ء میں ان کی دو پنجابی فلمیں ”بدلہ“ اور ”باؤ جی“ ریلیز ہوئیں جنہوں نے زبردست کامیابی حاصل کی ان دونوں فلموں کے ناصرف سارے گانے ہٹ ہوئے بلکہ رنگیلا اور منور ظریف کی کامیڈی نے چار چاند لگائے۔

اگلے سال مصنف و نغمہ نگار حزیں قادر ی کی سپرہٹ فلم ”تیرے عشق نچایا“ میں یوسف خان نے ینگ ٹو اولڈ کریکٹر کیا جسے بے حد سراہا گیا ،اس فلم کے ہدایتکار ایم اکرم تھے ساتھی اداکاروں میں نغمہ اور اعجاز شامل تھے ۔اپنی جانداراداکاری سے فلم بینوں کے دل جیتنے والے یوسف خان کی ایک اور فلم ”ٹیکسی ڈرائیور تھی جس میں ان کے ساتھ رانی ‘عالیہ اور حبیب نے کام کیا تھا 1970ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے ہدایتکار اقبال کشمیری تھے ۔


اس دوران یوسف خان بہت سی فلموں میں کام کر چکے تھے جن میں حیدر خان‘جن پتر،چن سجناں‘دلدار‘مکھڑا چن ورگا‘دلیر خان‘پیار دا ویری‘ غیرت شیر جواناں دی‘بدلہ‘باؤ جی‘نیلی بار اور ٹیکسی ڈرائیور شامل ہیں۔ان کی فلم ”بابل“ جون 1971ء میں ریلیز ہوئی جس میں ان کے ساتھ سلطان راہی تھے یوسف خان کا کردار بڑا جاندار تھا مگر اس فلم کا کریڈٹ سلطان راہی لے گئے ۔

اس کے بعد یار دیس پنجاب دے‘ غیرت میرا نا‘جٹ دا قول اور جاگدے رہنا جیسی فلمیں کرنے کے بعد انہیں اقبال کشمیری کی فلم ”ضدی“ میں مرکزی کردار ملا جس میں انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کیا اور پاکستان فلم انڈسٹری میں وہ مقام حاصل کر لیا جہاں پہنچنے کے لئے انہوں نے انیس سال جدوجہد کی تھی ۔
فلم ”ضدی“ مکمل طور پر یوسف خان کی فلم تھی جو 16جنوری 1973 ء کو ریلیز ہوئی جس پر یوسف خان کو سال کے بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

اس فلم کے سارے گانے سپرہٹ ہوئے خاص طور پر نور جہاں کے گائے ہوئے دو گانے ”چھڈ میری وینی نہ مروڑ“ اور ”تیرے نال نال نال وے میں رہنا“آج بھی لوگ شوق سے سنتے ہیں۔فلم”سدھا رستہ“میں یوسف خان سلطان راہی کے ساتھ جلوہ گر ہوئے اس کے بعد یہ دونوں ”شریف بد معاش“میں آئے یہ دونوں فلمیں زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئیں، یہ یوسف خان کے عروج کا دور تھا ،ایک فلم”قسمت “میں انہوں نے ڈبل رول ادا کرکے فلم بینوں سے خوب داد سمیٹی جس میں ایک رول ذہنی مریض اور ڈرپوک شخص کا تھا اور دوسرا ایک بہادر انسان کا تھا انہوں نے دونوں رول اس خوبی سے کئے کہ دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔

یوسف خان نے اپنے 54سالہ فلمی کیریئر میں 400سے زیادہ فلموں میں کام کیا جن میں اردو‘پنجابی اور پشتو فلمیں شامل ہیں۔
2000ء میں ان کی دو فلمیں ”آرائیں دا کھڑاک“اور بڈھا گجر“ریلیز ہوئیں بالخصوص”بڈھا گجر“میں وہ فن کی بلندیوں پر نظر آئے اور اپنی لا جواب اداکاری سے ثابت کیا کہ اچھا فنکار چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ہو اپنے کام کے ذریعے اپنا لوہا منوا سکتا ہے ۔

وہ اپنے ساتھی اور چھوٹے اداکاروں سے محبت کرتے تھے ۔فلمی دنیا میں اسکینڈل لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں ،بہت کم اداکار ایسے ہوں گے جن کا کوئی اسکینڈل نہ بنا ہو ۔یوسف خان بھی اس طرح کے ایک اسکینڈل کی زد میں آئے تھے ان کا سب سے بڑا سکینڈل ملکہ ترنم نور جہاں سے شادی کرنے کا تھا،ملکہ ترنم نور جہاں سے ان کی دوستی جب گہرے تعلقات میں تبدیل ہوئی تو فلم انڈسٹری میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور زیادہ شور اس وقت اُٹھا جب یہ دونوں حج پر اکٹھے گئے ،اس دوران فلمی پریس میں یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی کہ نور جہاں اور یوسف خان نے شادی کر لی ہے ،بہر حال جب دونوں حج سے واپس آئے تو انہوں نے اس کی تردید کر دی اور آہستہ آہستہ اس افواہ نے دم توڑ دیا ۔

انہیں ایک ایسا منفرد ایوارڈ دیا گیا جو اس سے پہلے کسی اور کو نہیں ملا تھا، انہیں یہ اعزاز مسلسل پچاس سال تک فلموں میں جلوہ گر ہونے کا تھا ۔2004ء میں انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
یوسف خان میں وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی اسی لئے وہ پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش کے سخت خلاف رہے،بھارتی فلموں اور ایکٹروں کی مخالفت میں پیش پیش رہے ،وہ اداکاروں کی تنظیم کے سر براہ بھی رہے ،زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے بڑے زور و شور سے بھارتی فلموں کی نمائش کے خلاف تحریک شروع کی تھی ،وہ کھلے لفظوں میں بھارتی فلموں اور اداکاروں کی مذمت کیا کرتے تھے ،انڈین فلموں کے خلاف ان کا جوش و جذبہ اور رویہ بڑا سخت تھا۔

ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انہیں شیخ زاید ہسپتال داخل کر ایا گیا جہاں 20ستمبر 2009ء کو وہ لاکھوں چاہنے والوں کو چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ،ان کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی اور قصور کے قبر ستان میں والدہ کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments