گلوکاری میری پہلی ترجیح ہے

گلوکارہ ثمن شیخ سے خصوصی گفتگو

جمعرات ستمبر

Gulukari Meri Pehli Tarjeeh Hai
وقار اشرف
کہا جاتا ہے کہ شہرت کچھ لوگوں کو اچانک ہی مل جاتی ہے لیکن حقیت یہ ہے کہ جس طرح حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ا سی طرح شہرت بھی گھر بیٹھے بٹھائے نہیں مل جاتی بلکہ اس کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ثمن شیخ کا شمار اس وقت ملک کی معروف گلوکاراؤں میں ہوتا ہے، قدرت نے انہیں خوبصورت اور سریلی آواز سے نوازا تھا لیکن اپنی اس خدا داد صلاحیت کو اس گلوکارہ نے باقاعدہ ہنر میں ڈھالا ہے،وہ بہت مختصر عرصے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں،ان کی کامیابیوں کا سفر زور دار طریقے سے شروع ہوا اور ہنوز اس کی رفتار بر قرار ہے،ان کا تعلق موسیقی سے وابستہ کسی گھرانے سے نہیں ہے ،اپنی خدا داد صلاحیتوں کے بل بوتے پر شوبز کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے والی یہ گلوکارہ اتنے مزے اور آسانی سے گاتی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پورا ماحول ہی ان کے ساتھ گا اور ناچ رہا ہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ دنوں اس با صلاحیت گلوکارہ کے ساتھ فاروق اسٹوڈیو مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں ایک نشست ہوئی ،اس موقع پر ہونے والی گفتگو پیش کی جارہی ہے۔
ثمن شیخ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بچپن ملتان میں گزرا بہت اچھا اور شرارتی بچپن تھا،سپورٹس کا بہت شوق تھا،گلوکاری سے بھی بے حد لگاؤ تھا لیکن اس وقت گھر والوں کی طرف سے اس کی اجازت نہیں تھی ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں فیشن ڈیزائنر بن گئی پھر بوتیک کے ساتھ ملتان کینٹ میں”بیوٹی فائی“ کے نام سے سیلون بھی شروع کر لیا،تقریباً پانچ چھ سال پہلے گلوکاری کا باقاعدہ آغاز کیا، اس دوران ماڈلنگ بھی کی ،پی ٹی وی پر ڈرامہ بھی کیا ۔

جہاں تک باقاعدہ گلوکاری کی طرف آنے کا تعلق ہے تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ تمہاری آواز اچھی ہے کیوں نہ باقاعدہ گانا سیکھ لو اس طرح گائیکی کے شوق کو سنجیدہ لینا شروع کر دیا ۔میری فطرت ہے کہ جو بھی کام کروں وہ دل سے کرتی ہوں ورنہ نہیں کرتی ۔گوالیار گھرانے کے استاد نیاز خان کے شاگرد اُستاد دلیپ کمار کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر لی اس طرح میں اُستاد دلیپ کمار کی باقاعدہ شاگرد اور اُستاد نیاز خان کی پوتی شاگرد ہوں۔

آج میں جو کچھ بھی ہوں اپنے استاد کی وجہ سے ہوں۔گائیکی کے اس سفر میں مجھے ہر طرح کے لوگ ملے لیکن میرے ساتھ جو لوگ چلے وہ بہت اچھے طریقے سے چلے،میڈیا نے بھی مجھے بہت سپورٹ کیا ،ساتھی آرٹسٹوں سے بہت پیار ملا،اچھے کنسرٹس ملے ہیں ،آج اندرون اور بیرون ملک میرے شوز ہو رہے ہیں۔
موسیقی کی پسندیدہ صنف کے حوالے سے ثمن شیخ نے بتایا کہ غزل مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہے ،کلاسیکل اور نیم کلاسیکل بھی بہت شوق سے سنتی ہوں۔

جہاں تک گانے کا تعلق ہے تو میں بھنگڑا،غزل اور فوک سب گاتی ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ فوک گائیکی مجھ پر زیادہ جچتی ہے ہاں ٹھمری اور کلاسیکل ابھی باقاعدہ نہیں گایا۔مجھے سولو طبلہ بہت پسند ہے ،فرصت کے لمحات میں طبلہ سنتی ہوں اور ردھم مجھے بہت پسند ہے۔ ملکی سطح پر مجھے کافی ایوارڈز مل چکے ہیں،گورنر ہاؤس میں مجھے حسن کارکردگی ایوارڈ ملا تھا،گلوکاری کے علاوہ ملتان میں اچھی اداکاری پر بھی ایوارڈ مل چکا ہے لیکن گلوکاری میری پہلی ترجیح ہے باقی ماڈلنگ،ایکٹنگ اور ہوسٹنگ بھی کرتی ہوں،کلاسیکل ڈانس کی کلاسز بھی لے رہی ہوں کیونکہ مجھے اس کا بھی بے حد شوق ہے۔


ثمن شیخ نے البمز کے حوالے سے بتایا کہ آج کل البمز کا دور نہیں رہا،اب تو سنگلز کا دور ہے ،یوٹیوب پر جو گانا آجاتا ہے لوگ اسی کو سنتے ہیں ۔سب سے پہلے میرا نیشنل سانگ”مائی ہیرو پاکستانی“ریلیز ہوا تھا جس کے بعد بھنگڑا سانگ“بلو“ریلیز ہوا،پھر”حانیاں“اور”یار جدائیاں پاگیا“ آیا،فوک نمبر”ماہیا پردیس دیا“ریلیز ہوا،کشمیر کے حوالے سے میرا ترانہ”کشمیر بنے گا پاکستان“بے حد پسند کیا گیا بلکہ سوشل میڈیا پر وائرل رہا ہے۔

حال ہی میں 6ستمبر کو یوم دفاع پاکستان کے موقع پر گانا”اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں“ ریلیز ہوا ہے جسے بہت پذیرائی ملی ہے ،ان کے علاوہ ایک اور گانا”تیرے نال محبت کر بیٹھے“ کو بھی بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے،ایک گانا”رُس کے ٹرپیے اور سرکار“بھی رواں ماہ میں ہی ریلیز ہونے جا رہا ہے ۔اور بھی کئی پراجیکٹس کئے ہیں ۔جہاں تک پسندیدہ گلوکار کا سوال ہے تو مجھے سبھی گلوکار اچھے لگتے ہیں ،اپنا آپ تو انسان کو اچھا لگتا ہی ہے،ماضی کے لیجنڈز گلوکاروں کو میں ہی کیا پوری دنیا پسند کرتی ہے ۔


ملکہ ترنم نور جہاں اور مہدی حسن مجھے ہمیشہ سے پسند ہیں انہیں کیسٹ کے دور سے سنتی آئی ہوں اب بھی میری گاڑی میں اکثر ان کے گانے چل رہے ہوتے ہیں ۔رونا لیلیٰ،نیرہ نور اور غلام علی بے حد پسند ہیں،نصرت فتح علی خان کی بھی دنیا دیوانی ہے وہ ہمارا سرمایہ ہیں۔سجاد علی کی میں بچپن سے مداح ہوں،میری خواہش ہے کہ سجاد علی کے ساتھ کبھی کوئی ڈوئٹ کروں،بھنگڑا میں ابرار الحق بے حد پسند ہیں ،ملکو بھی بہت اچھے پر فارمر ہیں،حمیرا ارشد بھی بہت اچھا گا رہی ہیں۔

سرائیکی خطے میں بھی بہت اچھے گلوکار ہیں جنہوں نے فوک کو دنیا میں متعارف کروایا ۔ مجھے اپنے پاکستان کومیوزک سن کر بے حد خوشی ہوتی ہے،صنم ماروی بھی مجھے بہت پسند ہیں، عابدہ پروین کی بھی بہت بڑی فین ہوں۔مجھے اچھی گائیکی پسند ہے۔
ثمن شیخ نے کلام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ میں نے کئی شعراء کا کلام گایا ہے،نیاز خان صاحب کا بھی کلام گایا ہے،کراچی سے کچھ کمپوزیشنز گوشی خان نے کی ہیں،ساجی خان نے بھی کی ہیں لیکن زیادہ تر کلام میں نے خود لکھا ہے۔

”کہاں ہو تم چلے آؤ“کو میں نے بطور ٹریبیوٹ گایا ہے۔شاعر سبھی اچھے ہیں،جو کلا م بھی کانوں کو اچھا لگا جائے وہ اچھا ہے ۔مجھے پاکستانی ڈرامے بہت پسند ہیں اور میری خواہش ہے کہ ہمایوں سعید،یاسر نواز اور ندیم بیگ کی پروڈکشن میں کام کروں،یہ گلوکاری کے علاوہ میری دوسری آپشن ہے کیونکہ پاکستانی ڈرامہ مجھے بہت پسند ہے۔
ثمن شیخ نے گلوکاروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے بتایا کہ جب سے ساؤنڈ ایکٹ نافذ ہوا ہے گلوکار اس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

کورونا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن میں بھی گلوکار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،آرٹسٹ اپنے کام سے پیار کرتا ہے وہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا،جب تک اس کا فن زندہ ہے تو آرٹسٹ زندہ ہے۔میری خواہش ہے کہ میں آئی ایس پی آر کے ساتھ بھی مل کر کام کروں اور پاک آرمی کے لئے کچھ گاؤں،اگر چہ میں نے کئی ترانے گائے ہیں لیکن آئی ایس پی آر کے پینل سے گانے کا بھی بے حد شوق ہے۔


پاکستان میں موسیقی کے مستقبل کے حوالے سے ثمن شیخ نے بتایاکہ مجھے موسیقی سے بے حد لگاؤ ہے لیکن اس میں ذرائع بہت کم ہیں۔پہلے موسیقی سکھانے والے بھی تھے اور سیکھنے والوں کے پاس بھی وقت ہوتا تھا۔ اب ہر انسان اپنا گھر چلانے کی فکر میں ہے،اب سروائیول بہت مشکل ہو گئی ہے۔یہ سال تو تقریباً لاک ڈاؤن کی نذر ہو گیا ہے ،ان حالات میں میری وزیراعظم پاکستان سے اپیل ہے کہ ساؤنڈ ایکٹ فوری ختم کیا جائے کیونکہ اس سے میوزک کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے،فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ،ایک فنکار اکیلا نہیں ہوتا اس کے ساتھ بہت ساری فیملیز جڑی ہوتی ہیں جن کی وہ کفالت کر رہا ہوتا ہے اس میں میوزیشنز اور ساؤنڈ والے بھی آتے ہیں،ساؤنڈ ایکٹ سے ہم میں فرسٹریشن بہت بڑھی ہے ظاہر ہے ہمارا شعبہ انٹر ٹینمنٹ کا ہے انٹر ٹینمنٹ کم ہونے سے عام لوگوں میں بھی فرسٹریشن بڑھی ہے انہیں ریلیکس ہونے کا وقت نہیں مل رہا اور فنکاروں کے گھر اس سے بہت ڈسٹر ب ہوئے ہیں وہ ویسے بھی بہت نازک ہوتے ہیں اس لئے میری پر زور اپیل ہے کہ ساؤنڈ ایکٹ ختم کرکے گلوکاروں کو ریلیف دیا جائے تاکہ ہم اچھے کنسرٹس کر سکیں ،حکومتی سطح پر بھی ہمیں کام ملنا چاہئے کیونکہ ہم اس ملک کے فنکار ہیں اور ہمیں اس ملک سے محبت ہے ۔

ثمن شیخ نے بتایا کہ گلوکار پیدائشی ہوتا ہے ہاں وہ اپنی محنت سے اپنے فن کو نکھار ضرور سکتا ہے ،جہاں تک حکومت اداروں کا فن یا موسیقی کی ترویج میں کردار کا تعلق ہے تو وہ کوئی خاص کردار ادا نہیں کر رہے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments