ورسٹائل گلوکار منیر حسین

دلاں ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے

پیر ستمبر

verstyle golokar Munir Hussain
وقار اشرف
نامور گلوکار منیر حسین کو مداحوں سے بچھڑے 25برس بیت گئے،انہوں نے فنی زندگی کا آغاز فلم ”سات لاکھ“ سے کیا اور پہلے ہی نغمے ”قرار لوٹنے والے“ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا،اپنے انتہائی عروج کے دور میں سلیم رضا کے بعد وہ پاکستان کے دوسرے مقبول اور مصروف ترین فلمی گلوکار تھے۔ موسیقار صفدر حسین نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کروایا جن کی فلم ”حاتم“ کے لئے انہوں نے نغمہ ”تیرے محلوں کی چھاؤں میں قرار اپنا لٹا بیٹھے“ گایا اور پہلے ہی نغمے نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

اس کے بعد موسیقار رشید عطرے، خواجہ خورشید انور اور اے حمید نے ان کی آواز سے بھرپور فائدہ اٹھایا،وہ پاکستان کے پہلے گلوکار تھے جنہیں بیک وقت اُردو اور پنجابی فلموں میں کامیابی ملی۔

(جاری ہے)


ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھنے والے منیر حسین کے سگے ماموں رشید عطرے پاکستان کے عظیم ترین موسیقار تھے جبکہ ان کے خالہ زاد بھائی صفدر حسین بھی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے اس طرح پاکستان میں سب سے زیادہ فلموں کی موسیقی دینے والے موسیقار وجاہت عطرے ان کے ماموں زاد بھائی تھے ۔

منیر حسین کو اپنی پہلی ہی فلم ”سات لاکھ“ کے سدا بہار گیت ”قرار لوٹنے والے تو پیار کو ترسے“ کی ریکارڈنگ کے لئے ان کے ماموں رشید عطرے نے بڑی تیاری کروائی تھی۔ منیر حسین کا گیت ”دلاں ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے“ ان کی شہرت کا باعث بنا۔ منیر حسین اور سلیم رضا نے 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری پلے بیک گلوکاری کے شعبے میں راج کیا۔


 اپنے 36 سالہ کیریئر کے دوران منیر حسین نے 163 فلموں کے لئے 217 گانے گائے جن میں اُردو کے علاوہ پنجابی گانے بھی شامل تھے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ڈوئٹ ”اک چیز گواچی“ بھی مقبول ہوا تھا جو پنجابی فلم ”نوراں“ میں شامل تھا۔ منیر حسین کو اگر چہ شہرت فلم ”سات لاکھ“ کے گانوں سے ملی لیکن ”نوراں“ان کی پہلی فلم تھی۔ فلم ”مکھڑا“ کے لئے ”دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے“ بھی ان کے مقبول ترین گانوں میں شامل ہے لیکن ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ فلم ”ہیر رانجھا“ کے لئے ڈوئٹ ”ونجلی والڑیا“ ان کا سدا بہار گیت ہے، اس گانے کو خواجہ خورشید انور نے کمپوز کیا تھا احمد راہی اس شہر آفاق گیت کے خالق تھے ۔یہ معروف پلے بیک گلوکار 27 ستمبر 1995ء کو راہی ملک عدم ہو گئے تھے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments