ایک دلفریب آواز نسیم بیگم

49برس بعد بھی مداح نہیں بھولے

منگل ستمبر

Aik Dilfareeb Awaz Naseem Begum
پاکستان فلم انڈسٹری کی نامور پلے بیک گلوکارہ نسیم بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 49برس بیت گئے لیکن ان کے مداح آج بھی انہیں یاد رکھے ہوئے ہیں،یہ دلفریب آواز 29ستمبر 1971ء کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی تھی۔ 1936ء میں امرتسر میں پیدا ہونے والی نسیم بیگم کا خاندان قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گیا تھا،گائیکی کا انہیں بچپن ہی سے شوق تھا،نو عمری ہی میں انہوں نے گلوکارہ فرید خانم کی بڑی بہن مختار بیگم (آغا حشر کی اہلیہ) سے کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔

1958ء میں ریڈیو پاکستان لاہور سے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا پھر موسیقار شہریار نے انہیں اپنی فلم ”بے گناہ“ کے ایک نغمے ”نینوں میں جل بھر آئے روٹھ گیا میرا پیار“ کے ذریعے فلم انڈسٹری میں متعارف کروایا جس کے بعدان پر فلموں کے دروازے کھل گئے لیکن شہرت کی بلندیوں پر وہ 1964ء میں اس وقت پہنچیں جب انہوں نے فلم ”حویلی“ کے لئے ایک گانا”میرا بچھڑا بلم گھر آگیا“ گایا،انہیں ملکہ ترنم نور جہاں کا نعم البدل بھی تصور کیا جاتا تھا،انہوں نے 1960ء سے 1964ء تک بہترین خاتون گلوکارہ کے طور پر 4نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے 12سالہ کیریئر کے دوران جتنے بھی گیت گائے وہ تقریباً سپر ہٹ رہے۔ ان کی آواز ملکہ ترنم نور جہاں اور سمن کلیان پور سے ملتی تھی جس کا انہیں نقصان بھی ہوا کیونکہ ان کے اکثر گانوں کو لوگ ملکہ ترنم یاسمن کلیان پور کے گانے ہی سمجھتے رہے۔
نسیم بیگم کے گائے ہوئے مشہور نغمات کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سو بار چمن مہکا‘ اس بے وفا کا شہر ہے‘چندا تو ری چاندنی میں، نگاہیں ہو گئیں پرنم،ہم بھول گئے ہر بات‘ہم نے جو پھول چُنے‘آجاؤ آنے والے‘میری نظریں ہیں تلوار‘دیسا دا راجہ میرے بابل دا پیارا‘میرا بچھڑا بلم گھر آگیا‘رنگ محفل ہے اور نہ تنہائی ‘میں پھول بیچنے آئی‘سانوں وی لے چل نال دے،چھپ گئے ستارے ندیا کنارے نمایاں ہیں۔

نسیم بیگم نے سلیم رضا‘منیر حسین‘مہدی حسن‘احمد رشدی اور مسعود رانا کے ساتھ متعدد ڈوئٹس بھی گائے جو بے حد مقبول ہوئے۔
1955ء سے 1964ء تک نسیم بیگم کے عروج کا زمانہ تھا۔ اگر چہ ان کی آواز میں اداسی ،کرب اور تڑپ تھی لیکن انہوں نے شوخ گیت بھی بہت خوب صورتی سے گائے۔ موسیقار صفدر حسین نے فلم ”گل بکاؤلی“میں ان سے ایک کلاسیکل گیت”چلے مور کی چال،کرے سب دنیا کو پامال جوانی دیوانی“گوایا جو اس وقت کی خوب صورت اداکارہ جمیلہ رزاق پر فلمایا گیا تھا ،اسی فلم کا ایک ڈوئٹ ”جوانی مسکرائے گنگنائے گائے تیرے میرے پیار کے دن آئے“نسیم بیگم اور زبیدہ خانم نے پشتو دھن پر گایا تھا۔


نسیم بیگم کو پہلا بریک تھرو ایس ایم یوسف کی 1960ء میں بننے والی فلم”سہیلی“ سے ملا تھا جس کے سارے گیت نسیم بیگم نے گائے اور سب بہت مقبول ہوئے جن میں ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے،کہیں دو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا،ہم نے جو پھول چُنے دل میں چبھے جاتے ہیں،مکھڑے پہ سہرا ڈالے آجا او آنے والے شامل تھے۔1962ء میں فلم”اولاد‘کے بھی سبھی گیت نسیم بیگم کو شہرت کی بلندیوں پر لے گئے جن میں تم ملے پیار ملااب کوئی ارمان نہیں، نام لے لے کے تیرا ہم تو جیے جائیں گے ،تم قوم کی ماں ہو سوچو ذرا اور عورت سے ہمیں یہ کہنا ہے شامل تھے ۔

اسی سال ریاض شاہد کی فلم”شہید“کے گانے بھی نسیم بیگم نے گائے اور بے حد مقبول ہوئے جن میں اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو،نقاب جب اُٹھایا،آواز میں صرف ایک گیت”میں پھول بیچنے آئی“شامل تھا۔فلم”باجی“کے لئے نسیم بیگم نے دو گیت گائے لیکن ان کا گایا ہوا مشیر کاظمی کا ترانہ ”اے راہ حق کے شہیدو“دل کو چھو لینے والے انتہائی پر اثر ترانوں میں سے ایک ہے۔


نسیم بیگم نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں کے لئے بھی کئی گیت گائے جن میں گڈی گڈا کے علاوہ کرتار سنگھ،تیس مار خان اور مکھڑا چن ورگا جیسی فلمیں شامل ہیں۔”کرتار سنگھ“ میں انہوں نے وارث لدھیانوی کا لکھا ہوا شادی بیاہ کا ایک گیت”دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، ویر میرا گھوڑی چڑھیا“گایا اور امر کر دیا۔نسیم بیگم کا ایک گیت”ہم بھول گئے ہر بات“لتا منگیشکر نے بھارتی فلم”سوتن کی بیٹی“ کے لئے بھی گایا تھا اسی طرح نسیم بیگم کے کئی اور گیت بھی بھارت میں کاپی کئے گئے ۔نسیم بیگم نے مسلسل چار نگار ایوارڈز کے علاوہ پرائیڈ آف پرفارمنس بھی حاصل کیا تھا۔ان کی شادی لاہور کے معروف پبلشر دین محمد سے ہوئی تھی اور تین بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments