ساحر لدھیانوی

لافانی اور شاہکار نغموں کا خالق

ہفتہ اکتوبر

Sahir Ludhianvi
لافانی اور شاہکار نغموں کے خالق ساحر لدھیانوی کو مداحوں سے بچھڑے 40برس بیت گئے مگر ان کی امر کر دینے والی شاعری آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔فیض کی طرح انہوں نے بھی 1940ء1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔8مارچ 1921ء کو پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ساحر کا اصل نام عبدالحئی تھا لیکن ساحر لدھیانوی کے نام سے شہرت حاصل کی۔

1943ء میں وہ لاہور آبسے اور 1945ء میں پہلا شعری مجموعہ ”تلخیاں“مکمل کیا لیکن 1949ء میں لاہور سے دہلی منتقل ہو گئے۔ان کی پہلی فلم”آزادی کی راہ“ تھی لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950ء میں بننے والی فلم”نوجوان“میں ان کے لکھے ہوئے نغموں سے ملی۔ایس ڈی برمن اور ساحر کی جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا جو آج بھی یادگار ہیں جن میں بازی،جال ،ٹیکسی ڈرائیور،ہاؤس نمبر 44،منیم جی اور پیاسا شامل ہیں۔

(جاری ہے)


ساحر لدھیانوی نے دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ان کے لکھے ہوئے مقبول گیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی،نیلے گگن کے تلے،چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی،میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں،دامن میں داغ لگا بیٹھے،ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں،میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا،کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے،میں پل دو پل کا شاعر ہوں،گاتا جائے بنجارا اور رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی جیسے مقبول گیت شامل ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گرودت کی ”پیاسا“ اور یش راج کی”کبھی کبھی“کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ساحر نے فنی زندگی میں دو بار فلم فیئر ایوارڈ جیتے جس میں پہلا 1964میں فلم”تاج محل“کے گیت”جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا“اور دوسرا ”کبھی کبھی“کی شاعری پر 1977ء میں اپنے نام کیا۔
ساحر لدھیانوی نے زندگی بھر شادی نہ کی،ان کا کہنا تھا کہ کچھ لڑکیاں مجھ تک دیر سے پہنچیں اور کچھ لڑکیوں تک میں دیر سے پہنچا۔

امرتا پریتم نے انہیں ٹوٹ کر چاہا مگر ساحر انہیں نہیں ملا بلکہ وہ کسی کو بھی نہیں ملا۔ساحر نے کبھی لفظوں میں امرتا کے لئے عشق کا اظہار نہیں کیا تھا مگر اُن کی شاعری امرتا کے گرد گھومتی ہے،امرتا کی حالت یہ تھی کہ وہ ساحر کے پیئے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑوں کو جمع کرکے خود پیتی تھیں،امرتا نے اپنے جذبات کا اظہار اپنی سوانح حیات”رسیدی ٹکٹ“میں بھی برملا کیا ہے۔


ساحر لدھیانوی نے لاتعداد غزلیں اور فلمی گیت لکھے،استحصال زدہ طبقے سے ہمدردی نے انہیں اشتراکیت کا ہمنوا بنایا،نا انصافیوں اور ناہمواریوں نے ان کے سیاسی و سماجی شعور کو پختگی بخشی۔انہوں نے رومانوی گانوں میں بھی اپنے اردگرد پھیلے دُکھوں اور تکلیفوں کی عکاسی کرنے کی کوشش کی۔یہ لازوال شاعر 25اکتوبر1980ء کو دنیا سے کوچ کر گیا تھا۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments