بلبل صحرا ریشماں

ان کی اُٹھائی ہوئی درد بھری تانوں کا سفر جاری رہے گا

منگل نومبر

BulBul e Sehra Reshman
وقار اشرف
بلبل صحرا ریشماں کو اگرچہ دنیا سے گئے سات برس بیت چکے ہیں لیکن ان کی اُٹھائی ہوئی درد بھری تانوں کا سفر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس درد کو دل میں جگہ دینے والے باقی رہیں گے اور ان کی ہوک بھری کوک ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔وہ کہنے کو تو ایک لوک گلوکارہ تھیں لیکن انہیں سُر،لَے اور تال کی اس قدر سوجھ بوجھ تھی کہ بڑے بڑے موسیقار اور گلوکار حیران رہ جاتے تھے کہ اس نے یہ تعلیم کہاں سے حاصل کر لی کیونکہ وہ بالکل ان پڑھ تھیں۔

راجستھان کے علاقے بیکانیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولنے والی ریشماں کو اپنی صحیح تاریخ پیدائش تو یاد نہیں تھی بس یہ یاد تھا کہ جب ان کا خاندان 1947ء میں ہجرت کرکے کراچی آیا تو وہ چند ماہ کی بچی تھیں۔ریشماں کے خاندان کی خواتین شادی بیاہ پر گڑوی کے ساتھ گایا کرتی تھیں،ریشماں نے بھی ہوش سنبھالا تو گڑوی کے ساتھ اپنی آواز ملانا شروع کر دی۔

(جاری ہے)

اولیائے کرام سے انہیں اور ان کے خاندان کو خاص طور پر عقیدت تھی اور جب تک ان کی صحت نے اجازت دی وہ مزارات پر حاضری دیتی رہیں۔
حضرت لعل شہباز قلندر رحمة اللہ علیہ کے مزار پر وہ چھوٹی عمر سے ہی حاضری دیتی آئی تھیں جہاں ان کی گائی ہوئی دھما لیں حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری کر دیتی تھیں۔وہ بارہ سال کی عمرمیں سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر رحمة اللہ علیہ کے عرس کے موقع پر دھمال ”لعل میری پت رکھیو بلا“ گا رہی تھیں کہ ریڈیو پاکستان کے مردم شناس پروڈیوسر سلیم گیلانی نے ان کی آواز سنی تو انہیں اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی کراچی آنا ہو تو اس پتے پر ضرور آنا۔

کچھ عرصہ بعد ریشماں کا کراچی جانا ہوا وہ ریڈیو پاکستان پہنچ گئیں،ان کی آواز پہلی بار فضاؤں میں بکھری تو ہر کوئی ان کی آواز کے سحر میں ڈوب گیا کیونکہ ایسی آواز ریڈیو پاکستان پر پہلے کسی نے نہیں سنی تھی،پھر جب پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلی بار گائیکی کا مظاہرہ کیا تو ان کی شہرت کو مزید پر لگ گئے۔انہوں نے انفرادی گانوں کے ساتھ کئی گلوکاروں کے ساتھ بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔

ان کے گائے ہوئے بے شمار گیت اور دھمالیں زبان زد خاص و عام ہوئیں جن میں لمبی جدائی،دمادم مست قلندر،نئیں لگدا دل میرا،سن چرکھے دی مٹھی مٹھی کوک،میں چوری چوری تیرے نال لالیاں اکھاں،میری ہم جولیاں،نہ دل دیندی بے دردی نوں، گڈی آگئی ٹیشن تے،گوریے میں جانا پردیس اور دیگر شامل ہیں۔
ریشماں ایک بار بھارت میں اداکار دلیپ کمار کے گھر پر منعقد ہونے والی ایک محفل میں گا رہی تھیں کہ وہاں ہدایت کا ر سبھاش گئی ان کی آواز کے دیوانے ہو گئے اور ان کا گانا”لمبی جدائی“اپنی فلم ”ہیرو“میں شامل کر لیا جو وہاں بھی بے حد مقبول ہوا۔

اس کے بعد راج کپور کی فلم”بوبی“ کے لئے ریشماں کا گایا ہوا گانا”اکھیاں نوں رہن دے“لتا منگیشکر نے گایا تھا۔بھارت میں ریشماں کے پرستاروں میں فلمی ستاروں کے علاوہ سیاستدان بھی شامل تھے۔اندرا گاندھی جب وہاں وزیراعظم تھیں تو انہوں نے بھی ریشماں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی،اندرا گاندھی نے انہیں بھارت میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی بھی پیش کش کی مگر ریشماں نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ پاکستان نے مجھے یہ عزت اور پہچان دی ہے اس لئے میں اس ملک کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

ریشماں نے پنجابی اور اُردو کے علاوہ سندھی، سرائیکی،پشتو،راجستھانی،فارسی،ترکی اور عربی زبان میں بھی گایا،ان جیسی آواز صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ان کا آخری البم ”پکھی واس“2012ء میں ریلیز ہوا تھا جس کا ایک گانا”ہتھ جوڑنی آں“ بہت مقبول ہوا تھا۔وہ 1980ء میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئیں جس کا انہوں نے کافی عرصے تک برطانیہ میں علاج کروایا،ڈاکٹروں نے انہیں کھانے پینے میں احتیاط کے ساتھ ساتھ گائیکی سے بھی روک دیا تھا،وہ اسی بیماری کے باعث 3 نومبر 2013ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔انہیں ان کی وصیت کے مطابق امام بارگاہ گلشن حیدر میں سپرد خاک کیاگیا تھا۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments