حافظ نذیر احمد سے شباب کیرانوی تک

فلمی دنیا کیلئے ان کی خدمات بھلائی نہیں جا سکتیں

جمعرات نومبر

Hafiz Nazir Ahmad Se Shabab Keeranvi Tak
وقار اشرف
پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور ہدایتکار،فلم ساز اور سٹوڈیو اونر شباب کیرانوی کی 38 ویں برسی 5نومبر کو منائی جا رہی ہے،انہوں نے پاکستان کی فلمی صنعت میں بہت بڑا مقام حاصل کیا،وہ کہانیاں لکھتے تھے،گیت نگار تھے،فلمساز اور ہدایت کار تھے ،اسٹوڈیو کے مالک تھے لیکن آغاز میں صحافی تھے اور لاہور سے شائع ہونے والی فلمی ماہنامہ ”ڈائریکٹر“ کے ایڈیٹر تھے۔


1925ء میں بھارتی ریاست اُتر پردیش کے شہر کیرانہ میں پیدا ہونے والے شباب کیرانوی کا اصل نام حافظ نذیر احمد تھا،وہ حافظ قرآن تھے اور فلمی کیریئر کا آغاز 1955ء میں بطور پروڈیوسر فلم ”جلن“ سے کیا جس میں پہلی بار عنایت حسین بھٹی ہیرو کا کردار ادا کر رہے تھے،فلم تو ناکام ہو گئی لیکن اس فلم نے انہیں ایک نئے حوصلے سے ہمکنار کیا۔

(جاری ہے)

1956ء میں انہوں نے نامور مصنف علی سفیان آفاقی سے ایک مزاحیہ سبجیکٹ پر کہانی ”ٹھنڈی سڑک“ لکھوا کر فلم پروڈیوس کی جو اداکار کمال کی بطور ہیرو پہلی فلم تھی،مسرت نذیر اس میں ہیروئن تھیں، ظریف اور معروف گلوکارہ زبیدہ خانم نے بھی اس فلم میں اہم کردار ادا کیے تھے،یہ فلم بے حد کامیاب رہی۔

1960ء میں بطور فلمساز طلسماتی فلم”گلبدن“بنائی جو بے حدکامیاب رہی۔
1961ء میں پہلی بار ان کا نام بطور ہدایتکار فلم”ثریا“کے ٹائٹل پر آیا جس میں نیئر سلطانہ نے ثریا کا یادگار کردار کیا،اس اصلاحی ڈرامہ فلم کو خواتین نے بے حد پسند کیا تھا،اسی فلم کا ایک گانا”آج میرے منے کی سالگرہ ہے“بہت مقبول ہوا تھا۔بطور فلمساز ان کی فلم”سپیرن“میں لیلیٰ نے ٹائٹل رول کیا اور حبیب ہیرو تھے جس میں احمد رشدی کا گایا ہوا گانا’‘’چاند سا مکھڑا گورا بدن“بہت مقبول ہوا تھا۔

بطور فلمساز، مصنف اور ہدایتکار ان کی فلم”مہتاب“نے گولڈن جوبلی منائی جس میں نیئر سلطانہ نے ٹائٹل رول کیا،”مہتاب“کی کامیابی نے شباب پروڈکشن کی بنیاد رکھی۔انہوں نے فلموں میں کئی نئے چہرے بھی متعارف کروائے جن میں مسعود اختر،طارق عزیز،ننھا،علی اعجاز،صائقہ، زرقا،فرح جلال،روشن،مہتاب بانو،طلعت حسین،آسیہ،غلام محی الدین، روحی بانو،شائستہ قیصر،عمران،وسیم،مینا داؤد،شاہنواز گھمن،امبر ،علی رضا اور انجمن شامل ہیں۔


1963ء میں انہوں نے ”تیس مار خان“ بنائی جس میں علاؤ الدین نے ٹائٹل رول کیا اور شیریں ہیروئن تھیں،حیدر چوہدری کی بطور ہدایتکار یہ پہلی فلم تھی،اسی سال ان کی فلم”ماں کے آنسو“نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔شباب پروڈکشن کے بینر تلے بننے والی دیگر مشہور فلموں میں نیلم،بلبل بغداد،شکریہ،لاڈلی، عورت کا پیار،جمیلہ،ملنگ،فیشن،ناچے ناگن باجے بین،وطن کا سپاہی،گھر کا اُجالا آئینہ،میلہ،انسانیت اور دل دیوانہ شامل ہیں۔

1968ء میں انہوں نے بڑے بیٹے ظفر شباب کے نام سے ظفر آرٹ پروڈکشنز کے بینر تلے فلم”سنگدل“نائی جس میں ندیم ہیرو تھے۔1971ء میں چھوٹے بیٹے نذر شباب کے نام سے نذر آرٹ پروڈکشن کے بینر تلے پہلی فلم”گرہستی“بنائی۔اس طرح ان باپ بیٹوں کے نام سے بننے والے تینوں اداروں نے فلمی صنعت کو بہت سی یادگار فلمیں دیں۔شباب کیرانوی نے اپنی فلمی کہانیوں کو بار بار فلمایا اور کامیابیاں سمیٹیں۔


1966ء میں فلم”آئینہ“بنائی جس میں دیبا اورمحمد علی نے مرکزی کردار کیے،اسی فلم کو 1977ء میں دوبارہ ”بیٹی“ کے نام سے بنایا۔ان کی ڈائریکشن میں بننے والی نمایاں فلموں میں انسان اور آدمی،انصاف اور قانون،افسانہ زندگی کا،دل ایک آئینہ،من کی جیت،دامن اور چنگاری،پردے میں رہنے دو،آئینہ اور صورت،میرا نام ہے محبت،بے مثال،انسان اور فرشتہ،نشیمن،محبت ایک کہانی،شمع محبت،سہیلی، انمول محبت،وعدے کی زنجیر،دو راستے،لاجواب،یہ زمانہ اور ہے اور ایک دن بہو کا شامل ہیں۔

70ء کی دہائی میں انہوں نے اپنا ذاتی اسٹوڈیو شباب کے نام سے قائم کیا تھا۔وہ 5نومبر 1982ء کو راہی ملک عدم ہو گئے تھے،وہ ایک سدا بہار شخصیت تھے اور فلمی دنیا کے لئے ان کی بیش بہا خدمات کو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments