درپن

پاکستان فلم انڈسٹری کے خوبرو ہیرو

ہفتہ نومبر

Darpan
وقار اشرف
پاکستانی فلم انڈسٹری کے خوبرو اداکار درپن کو مداحوں سے بچھڑے 40 برس بیت گئے،وہ قد کاٹھ،رنگ روپ اور مردانہ وجاہت کی وجہ سے عام زندگی میں بھی کسی ہیرو سے کم نظر نہیں آتے تھے۔1929ء کو اُتر پردیش میں پیدا ہونے والے درپن کا حقیقی نام سید عشرت عباس تھا لیکن فلموں میں درپن کے نام سے شہرت حاصل کی۔وہ نامور اداکار سنتوش کمار،ہدایت کار ایس سلیمان اور اداکار منصور کے بھائی تھے، سنتوش کمار اپنے وقت کے کامیاب ہیرو تھے اور ان کا حقیقی نام سید موسیٰ رضا تھا،ایس سلیمان نے ڈائریکشن میں بہت نام کمایا۔


مردانہ وجاہت اور گہری نیلی شرارتی آنکھوں والے درپن نے فلمی سفر کا آغاز ہدایت کار حیدر شاہ کی فلم”امانت“سے کیا جو 21 دسمبر 1950ء میں سینماؤں کی زینت بنی تھی اور اس میں وہ اپنے اصل نام عشرت عباس کے ساتھ جلوہ گر ہوئے تھے،ان کی دوسری پنجابی فلم ”بلو“ تھی جس کا نام پہلے”میراثی“رکھا گیا تھا لیکن احتجاج کے بعد نام بدل کر”بلو“رکھ دیا گیا۔

(جاری ہے)

پاکستان میں چند فلموں میں کام کرنے کے بعد وہ ممبئی چلے گئے جہاں انہوں نے”عدل جہانگیری“اور”باراتی“میں کام کیا۔”عدل جہانگیری“میں محمد رفیع کا گایا ہوا گانا”اپنا ہی گھر لُٹانے دیوانہ جا رہا ہے“بڑا مشہور ہوا تھا۔بھارت میں قیام کے دوران ان کے اس وقت کی حسین اداکارہ نگار سلطانہ کے ساتھ خاصے تعلقات بن گئے جو بڑھتے بڑھتے محبت میں تبدیل ہو گئے،نگار سلطانہ نے بھارتی فلم”مغل اعظم“میں دل آرام کا کردار بھی کیا تھا،درپن دوبارہ پاکستان آگئے اور یہاں قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی اور انہیں فلمیں ملنا شروع ہو گئیں۔

نگار سلطانہ بھی ان کے پیچھے پیچھے پاکستان چلی آئیں لیکن کچھ عرصے بعد ناکام واپس لوٹ گئیں۔
لاہور میں انہوں نے درپن کے فلمی نام سے فلم”باپ کا گناہ“سے اپنے فلمی کیریئر کا دوبارہ آغاز کیا اس کے بعد انہیں بہت سی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا جن میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم”نائلہ“سرفہرست ہے۔انہیں لگاتار دو فلموں میں بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی ملا تھا۔

پہلا ایوارڈ 1959ء میں بننے والی فلم”ساتھی“اور دوسرا اگلے سال 1960ء میں آنے والی فلم”سہیلی“پر ملا تھا۔1959ء میں انہوں نے ایک فلم”ساتھی“بنائی جس میں ان کے ساتھ نیلو،طالش،حسنہ اور نذیر نے کام کیا تھا،یہ فلم بہت مقبول ہوئی اور اسی سے درپن کی کامیابیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔اس کے بعد انہوں نے کئی کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں ساتھی،رات کے راہی،سہیلی،گلفام،قیدی، آنچل،باجی،شکوہ،اک تیرا سہارا،نائلہ،انسان بدلتا ہے،دلہن،شکوہ،آنچل اور پائل کی جھنکار نمایاں ہیں۔

بطور ہیرو درپن کی آخری کامیاب فلم”پائل کی جھنکار“1966ء میں ریلیز ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے کریکٹر اور سپورٹنگ رول ادا کرنا شروع کر دیئے تھے۔
درپن نے اگرچہ کم لیکن معیاری فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ،انہوں نے مجموعی طور پر 67فلموں میں کام کیا جن میں 57اردو،8 پنجابی اور دو پشتو فلمیں شامل تھیں۔بطور فلم ساز بھی چند فلمیں بنائیں جن میں بالم،گلفام،تانگے والا،انسپکٹر اور ایک مسافر ایک حسینہ شامل ہیں۔

درپن نے نیئر سلطانہ کے علاوہ نیلو،مسرت نذیر،رانی،شمیم آراء،زیبا کے ساتھ بھی بطور ہیرو کام کیا تھا۔بطور ہیرو 15 فلمیں شمیم آراء کے ساتھ اور 16 فلمیں اپنی بیوی نیئر سلطانہ کے ساتھ تھیں۔درپن اور شمیم آراء کے افیئر کی خبریں بھی اخبارات کی زینت بنی تھیں مگر انہوں نے اداکارہ نیئر سلطانہ کو جیون ساتھی بنا لیا۔درپن اور نیئر سلطانہ کو سلور سکرین کی حسین ترین جوڑی ہونے کا اعزاز حاصل رہا اور یہ شادی فلمی صنعت کی کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے،یہ بندھن مرتے دم تک قائم رہا۔


1960ء کی دہائی میں ریلیز ہونے والی فلم”سہیلی“نے ان کے فلمی کیریئر کو نیا موڑ دیا جس میں بہترین اداکاری پر صدارتی ایوارڈ بھی ملا، اس فلم میں ان کے ساتھ شمیم آراء اور نیئر سلطانہ نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے درپن کا اس میں ڈبل رول تھا۔کہا جاتا ہے کہ وحید مراد کے فلم انڈسٹری میں آنے کے بعد ان کی مقبولیت کا سورج گہنا گیا تھا،انہوں نے فلموں کے بعد اپنی ریکروٹنگ ایجنسی بنا لی تھی جس سے وہ گھر کے اخراجات پورے کرتے رہے۔


یہ خوبرو اداکار 8نومبر 1980ء کو لاہور میں طویل بیماری کے باعث راہی ملک عدم ہو گئے تھے ،اس وقت ان کی عمر 52سال تھی،وہ مسلم ٹاؤن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں،ان کے مرنے کے بعد نیئر سلطانہ ان کا کاروبار بخوبی چلاتی رہیں اور بارہ سال بعد اکتوبر 1992 ء میں وہ بھی انتقال کر گئیں تو انہیں خاوند کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments