اقبال حسن آل راؤنڈر فنکار

پنجابی فلموں کے وراسٹائل اداکار اقبال حسن کو مداحوں سے بچھڑے 36برس بیت گئے

ہفتہ نومبر

Iqbal hassan - All Rounder Actor
پنجابی فلموں کے وراسٹائل اداکار اقبال حسن کو مداحوں سے بچھڑے 36برس بیت گئے،انہوں نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں ”شیر خان“ کو بے پناہ شہرت حاصل ہوئی تھی۔اندرون لاہور میں پیدا ہونے والے اقبال حسن کے بڑے بھائی خورشید حسن بھی اداکار تھے اور انہوں نے ہی اقبال حسن کو ایک کیمرہ مین کے ساتھ بطور اسسٹنٹ رکھوایا تھا اس طرح اقبال حسن نے فنی زندگی کا آغاز فلم انڈسٹری میں ٹرالی مین سے کیا،پھر لائٹیں سیٹ کرنا بھی سیکھیں 1965ء میں اپنے بہنوئی کہانی نویس آغا حسن امتثال کی بحیثیت فلمساز پہلی پنجابی فلم ”پنجاب دا شیر“ میں اکمل اور نغمہ کے ساتھ پہلی بار اداکاری کی لیکن فلم میں انہیں کوئی کریڈٹ نہ مل سکا۔

اس کے بعد ہدایتکار ریاض احمد نے پنجابی فلم”سسی پنوں“میں مرکزی کردار دیا جس میں نغمہ نے سسی کا کردار کیا تھا،یہ فلم ابھی زیر تکمیل تھی کہ ہدایتکار حیدر چوہدری کی فلم”سوہنا“میں انہیں ہیرو کاسٹ کر لیا گیا۔

(جاری ہے)


اس وقت پنجابی فلموں میں اکمل،یوسف خان اور حبیب جیسے فنکاروں کا طوطی بول رہا تھا اور ان کی موجودگی میں اپنے لئے جگہ بنانا کافی مشکل تھا لیکن اقبال حسن اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں سے ایک نمایاں فنکار کی حیثیت سے سامنے آئے،انہوں نے بے شمار پنجابی فلموں میں کام کیا جن میں دھی رانی،خان خان،پنڈٹ جیون لال مٹو،سید شبیر حسین شاہ،خورشید بٹ،اُستاد سردار خان،بابو معراج دین اور جی اے فاروق کی بیٹھکیں زیادہ معروف تھی۔

فیروز نظامی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد آل انڈیا ریڈیو لاہور میں بطور پروگرام پروڈیوسر ملازم ہو گئے،پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی چلے گئے چاچا،میرا خون،نشان،عشق میرا ناں،بھولاسجن،یار مستانے،وحشی جٹ،ہتھکڑی،شوکن میلے دی،وحشی گجر نمایاں ہیں۔اردو میں ان کی صرف تین فلمیں ہی ریلیز ہوئیں جن میں ہدایتکار ریاض شاہد کی فلم”یہ امن“جو کشمیر کے موضوع پر مبنی تھی میں انہوں نے کشمیری حریت پسند کا کردار کمال مہارت سے ادا کیا۔


 جب خود فلم پروڈیوس کی تو اُردو فلم ”بدلے گی دنیا ساتھی“بنائی جس میں محمد علی اور زیبا کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی تنظیم حسن کو متعارف کروایا ۔اقبال حسن کا ستارہ گردش میں آیا تو فلمسازوں نے بھی ان سے آنکھیں پھیر لیں۔ایسے میں انہیں دوسری بار خود کو منوانے کی ضرورت پیش آئی۔یونس ملک نے 1980ء میں پنجابی فلم”شیر خان“بنانے کا اعلان کیا تو وہ اس میں شیر خان کا مرکزی کردار حبیب سے کروانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے معذرت کر لی جس کے بعد محمد علی کو بھی کاسٹ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ملی اور یوں وہ کردار اقبال حسن کو مل گیا۔

اس فلم میں ان کے ساتھ سلطان راہی کے علاوہ اداکارہ انجمن کسی پنجابی فلم میں پہلی بار ہیروئن آرہی تھیں۔یونس ملک اور اقبال حسن میں اس فلم کے معاوضے کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا کہ اگر فلم کامیاب ہوئی تو انہیں منہ مانگا معاوضہ دیا جائے گا لیکن فلم ناکام رہی تو معاوضہ نہیں ملے گا۔
فلم عید الفطر پر ریلیز ہوئی تو لاہور میں اس کے ساتھ چار دوسری پنجابی فلمیں بھی ریلیز ہوئیں جن میں ہدایتکار الطاف حسین کی فلم سالا صاحب،جہانگیر قیصر کی فلم چن و ریام ،کیفی کی فلم ملے گا ظلم دا بدلہ اور حیدر چوہدری کی فلم چاچا بھتیجا شامل تھیں۔

ان میں شیر خان اور سالا صاحب نے نمایاں کامیابی حاصل کی بلکہ”شیر خان“ تو 300 سے زائد ہفتے تک چلی۔کہا جاتا ہے کہ یونس ملک نے نوٹوں سے بھرا ہوا بریف کیس اقبال حسن کے سامنے رکھ دیا تھا کہ جتنے پیسے لے سکتے ہو لے لو لیکن اقبال حسن نے صرف اتنے ہی نوٹ لئے جو ان کے ہاتھوں میں آسکے اور کہا کہ یہی میرے نصیب میں ہے۔اقبال حسن علاؤ الدین کے بعد دوسر ے فنکار تھے جنہیں صحیح معنوں میں آل راؤنڈر فنکار کہا جا سکتا ہے ۔14 نومبر 1984ء کو وہ اداکار اسلم پرویز کے ساتھ فلم”جورا“کی شوٹنگ سے واپس آرہے تھے کہ فیروز پور روڈ پر ان کی گاڑی خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی جس میں اقبال حسن تو موقع پر انتقال کر گئے جبکہ اسلم پرویز شدید زخمی ہوئے اور ایک ہفتے بعد وہ بھی راہی ملک عدم ہو گئے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments