عظیم موسیقار فیروز نظامی

برصغیر پاک وہند کے عظیم موسیقار فیروز نظامی کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 45برس بیت چکے ہیں

پیر نومبر

Azeem Musician Feroz Nizami
وقار اشرف
برصغیر پاک وہند کے عظیم موسیقار فیروز نظامی کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 45برس بیت چکے ہیں مگر ان کی ترتیب دی ہوئی دُھنیں آج بھی انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بے شمار لازوال گیت ان کے کریڈٹ پر ہیں جن میں چاندنی راتیں،تم زندگی کو غم کا فسانہ بنا گئے،یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے،روتے ہیں چھم چھم نین،منڈیا سیالکوٹیا،چن دیا ٹوٹیا وے دلاں دیا کھوٹیا اور دیگر شامل ہیں۔

وہ کلاسیکل سے لے کر مغربی موسیقی سمیت کئی طرز کی دھنیں بنانے میں عبور رکھتے تھے۔ 10 نومبر 1910ء کو لاہور کے علاقے اندرون بھاٹی گیٹ میں پیدا ہونے والے فیروز نظامی چار بھائی تھے اور چاروں بھائیوں نے اپنے اپنے شعبے میں نام کمایا۔ بڑے بھائی سراج نظامی صحافت اور شاعری سے منسلک تھے،چھوٹے بھائی سلطان ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے،تیسرے بھائی نذر محمد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممتاز کھلاڑی تھے۔

(جاری ہے)


فیروز نظامی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے بی اے آنرز کرنے کے بعد کیرانہ گھرانے کے نامور گلوکار عبدالوحید خان کے باقاعدہ شاگرد ہو گئے تھے،کیرانہ گائیکی کے اصول و ضوابط اور رموز سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد استاد سردار خان دہلی والے شاگرد ہو گئے،اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں جمنے والی موسیقی کی ”بیٹھکوں“سے بھی فیض حاصل کرتے رہے اس وقت لاہور میں موسیقی کی کئی ”بیٹھکیں“ بہت مشہور تھیں جن میں اُستاد برکت علی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں بھی تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہاں فیروز نظامی نے ایک اچھی میوزک سوسائٹی تشکیل دی تھی جسے ایم ڈی تاثیر،پروفیسر سراج الدین آذر،محمود نظامی اور فیض احمد فیض جیسے لوگوں کی سرپرستی بھی حاصل جہاں خواجہ خورشید انور اور کرشن چندر جیسے نابغہ روزگار بھی ان کے ساتھی تھے،یہ تینوں حضرات کچھ عرصہ بعد ریڈیو چھوڑ کر ممبئی چلے گئے اور وہاں کی فلمی صنعت کا حصہ بن گئے اور فلموں کی موسیقی ترتیب دینا شروع کر دی۔


بطور موسیقار فیروز نظامی کی پہلی قسم”وشواس“1943ء میں ریلیز ہوئی۔ اگلے برس ان کی دوسری فلم”بڑی بات“ریلیز ہوئی جو نہ صرف کامیاب رہی بلکہ اس کے گانوں کو بھی بہت پذیرائی ملی، 1946ء میں فلمساز اور ہدایتکار ایس ایم یوسف کی فلم ”نیک پروین“ نے فیروز نظامی کی موسیقی کو پہلی بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا جس کی ایک نعت”تیری ذات پاک ہے اے خدا“ بھی بہت مقبول ہوئی تھی۔

1946ء میں فلمساز اور ڈائریکٹر شوکت حسین رضوی نے فلم ”جگنو“ شروع کی جو نور جہاں اور دلیپ کمار کی ایک ساتھ پہلی اور آخری فلم تھی،اس فلم نے فیروز نظامی کو صحیح معنوں میں شہرت دی کیونکہ اس کے سارے گانے ہی مقبول ہوئے تھے۔ دلیپ کمار کی پہلی فلم”جوار بھاٹا“اس وقت تک اگرچہ ریلیز ہو چکی تھی لیکن اتنی کامیاب نہیں ہوئی تھی اور”جگنو“نے دلیپ کمار کو دنوں میں مقبول فنکاروں کی صف میں لاکھڑا کیا۔

اسی فلم میں محمد رفیع اور نور جہاں نے ایک ڈوئٹ”یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے“گایا تھا جو ان دونوں کا ایک ساتھ پہلا اور آخری گانا ثابت ہوا۔ محمد رفیع فیروز نظامی کے باقاعدہ شاگرد بھی تھے۔
1943ء سے 1947ء تک یعنی چار برسوں میں فیروز نظامی نے وہاں 10فلموں کی موسیقی دی۔ 1947ء میں فیروز نظامی شوکت حسین رضوی، نور جہاں،انور کمال پاشا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ہندوستان میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آگئے اور یہاں نئے سرے سے فلم انڈسٹری کی بنیاد رکھی۔

1950ء میں فیروز نظامی نے یہاں فلم”ہماری بستی“کی موسیقی دی لیکن اگلے برس شوکت حسین رضوی کی پنجابی فلم”چن وے“ریلیز ہوئی جس کی موسیقی نے ہر طرف دھومیں مچا دیں،اس کا ایک گانا”تیرے مکھڑے دا کالا کالا تل وے“کے ریکارڈ تو بلیک میں فروخت ہوتے رہے تھے۔ اس کے بعد دوپٹہ،قسمت،راز،سولہ آنے اور منزل جیسی فلموں کی بھی موسیقی دی۔ فلمی موسیقی کے ساتھ ساتھ فیروز نظامی ریڈیو پاکستان کیلئے کلاسیکی موسیقی کی نشریات میں بھی حصہ لیتے رہے،موسیقی پر انگریزی اخبار”پاکستان ٹائمز“میں کالم لکھتے رہے،پانچ کتابیں بھی لکھیں جن میں فن موسیقی پر کتاب”اسرار موسیقی“کو موسیقی کے حوالے سے ایک معتبر کتاب تسلیم کیا جاتا ہے،دو مرتبہ ثقافتی طائفے کے لیڈر کی حیثیت سے افغانستان گئے،1963ء میں ایران کے شہر شیراز میں ہونے والے انٹر نیشنل میوزک سیمینار میں حکومتی وفد کی قیادت کی،آخری سالوں میں صوفی ازم اور روحانیت کی طرف رُجحان کے بعد ایک کتاب”سر چشمہ حیات“لکھی۔

الحمراء آرٹس کونسل کی میوزک اکیڈمی کے پرنسپل بھی رہے اور موسیقی کے طلبہ کو موسیقی کی باریکیاں سکھاتے رہے 1975ء میں اپنے انتقال سے چند روز قبل پنجاب آرٹس کونسل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ان کی تعیناتی ہوئی تھی۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments