شفیع محمد شاہ ایک ورسٹائل اداکار

وراسٹائل اداکار شفیع محمد شاہ کو مداحوں سے بچھڑے 13 برس بیت گئے

منگل نومبر

Shafi Muhammad Shah - aik versatile actor
وقار اشرف
وراسٹائل اداکار شفیع محمد شاہ کو مداحوں سے بچھڑے 13 برس بیت گئے،انہوں نے جو کردار بھی نبھایا خوب نبھایا،سنجیدہ اور رُعب دار کردار ان کی خاص پہچان تھے۔وہ اپنے قریبی حلقوں میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے علاقہ خانی ڈائرو میں پیدا ہونے والے شفیع محمد شاہ نے سندھ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایگریکلچر بینک میں ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان میں بھی صدا کاری کرنے لگے،کچھ عرصے بعد بینک کی ملازمت چھوڑ کر لاہور آگئے اور ایک فلم”کورا کاغذ“ میں اداکاری کی،اسی دوران پاکستان ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر شہزاد خلیل نے انہیں ڈرامہ ”اُڑتا آسمان“ کے ذریعے پی ٹی وی پر متعارف کروایا لیکن ان کی شہرت کا آغاز ڈرامہ سیریل ”تیسرا کنارا“ سے ہوا جس کے پروڈیوسر بھی شہزاد خلیل تھے۔

(جاری ہے)


لاہور میں قیام کے دوران شفیع میں شاہ نے کئی مزید فلموں میں بھی کام کیا جن میں بیوی ہو تو ایسی ،ایسا بھی ہوتا ہے،نصیبوں والی،روبی، تلاش،میرا انصاف،الزام اور مسکراہٹ شامل تھی۔ہدایت کار شہزاد رفیق کی فلم ”سلاخیں“ ان کے فنی کیریئر کی آخری فلم تھی۔شفیع محمد شاہ اپنے انداز،اپنی آواز اور اپنی اداکاری سے ہر کردار کو یادگار بنا دیتے تھے۔

تقریباً 30 سالہ فنی کیریئر کے دوران انہوں نے پچاس سے زائد ڈرامہ سیریل اور مختلف ٹی وی چینلز پر نشر کئے جانے والے اردو اور سندھی زبان میں سو سے زائد ڈراموں میں اداکاری کی جن میں جنگل، دائرے،کالا پل،ماروی،کھیلن کو مانگے چاند،تیسرا کنارہ،چاند گرہن، آنچ، بند گلاب،دائرے اور محبت خواب کی صورت شامل ہیں۔شفیع محمد شاہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی گورننگ باڈی کے بھی رُکن منتخب ہوئے۔


اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 2002ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ان کی فنی خدمات پر انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے انہیں بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا تھا جبکہ حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز بعد از مرگ بھی عطا کیا تھا۔یہ وراسٹائل اداکار جگر کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد 17 نومبر 2007ء کو کراچی میں وفات پا گئے تھے اور ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں،انہوں نے چار بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑا تھا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments