روٴف خالد کو بچھڑے 9 برس بیت گئے

”انگار وادی“اور”لاگ“شہرت کا باعث بنے

منگل نومبر

Rauf Khalid Ko Bichchre 9 Years Beet Gaye
وقار اشرف
معروف پروڈیوسر‘ڈائریکٹر‘مصنف اور اداکار روٴف خالد کو مداحوں سے بچھڑے 9 برس بیت گئے،اپنی منفرد شخصیت اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے بہت کم عرصے میں ہی بے پناہ شہرت پائی،تحریک آزادی کشمیر کے پس منظر میں ان کی مقبول ترین ڈرامہ سیریل ”انگار وادی“آج بھی شائقین کی یادوں میں تازہ ہے۔ 19 دسمبر 1957ء کو مردان میں پیدا ہونے والے روٴف خالد کا پورا نام عبدالروٴف خالد تھا،فنی کیریئر کا آغاز بطور رائٹر اور ڈائریکٹر 1989ء میں منشیات کے موضوع پر بننے والی ڈرامہ سیریل ”مدار“ سے کیا جس کے بعد 1991ء میں 52 اقساط پر مشتمل ڈرامہ ”گیسٹ ہاؤس“ کیا جس میں انہوں نے جان ریمبو کو متعارف کروایا تھا۔


کشمیر کے موضوع پر ڈرامہ سیریل ”انگار وادی“ اور ”لاگ“ ان کی شہرت کا باعث بنے جس کے وہ ڈائریکٹر‘پروڈیوسر اور رائٹر تھے اس کے علاوہ بطور اداکار بھی ان میں کام کیا تھا۔

(جاری ہے)

اس سے کشمیریوں کی حق خودار ادیت کی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر تقویت ملی اور قابض بھارتی فوج کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہوا۔ نیئر اعجاز اور خواجہ سلیم کو بھی ان ڈراموں سے بہت زیادہ شہرت ملی تھی۔

ٹی وی کے علاوہ بطور رائٹر‘ڈائریکٹر اور پروڈیوسر 2003ء میں جدوجہد آزادی پر فلم ”لاج“ بھی بنائی لیکن وہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ 2008ء میں طویل عرصہ کے بعد اپنی تیسری میگا ڈرامہ سیریل ”مشال“ بنائی۔وہ ہالی وڈ اسٹار جولیا رابرٹس کے ساتھ بھی ایک فلم بنانا چاہتے تھے جس کے لئے اسے پاکستان آنے کی دعوت بھی دی لیکن اپنی مصروفیات کے باعث جولیا رابرٹس نے انکار کر دیا تھا۔


روٴف خالد سابق بیوروکریٹ بھی تھے،لوک ورثہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کلچر کے بانی ہونے کے ساتھ چانسلر کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دیتے رہے،مصوری سے بھی انہیں بے حد لگاؤ تھا،فائن آرٹ گیلری نیویارک اور اوماما آرٹ گیلری میں ان کی پینٹنگز کی نمائش منعقد ہوئیں۔ وہ چوتھی میگا ڈرامہ سیریل پر بھی کام کر رہے تھے جس کا صرف پوسٹ پروڈکشن اور نام فائنل ہونا باقی رہ گیا تھا لیکن زندگی نے وفا نہ کی ،وہ 24 نومبر 2011ء کو صرف 53 سال کی عمر میں ایک ٹریفک حادثے میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے،انہیں فنی خدمات کے اعتراف پر پرائیڈ آف پرفارمنس کے علاوہ دی کشمیر میڈل سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments