سلیم رضاعہد رومان کی ایک سریلی آواز

آئے گی یاد شام ڈھلتے ہی․․․․․

بدھ نومبر

Saleem raza - ehd e romaan ki aik sureli awaz
وقار اشرف
مدھر آواز کے مالک معروف گلوکار سلیم رضا کو اس دنیا سے گئے 37 برس بیت گئے مگر ان کے گائے ہوئے گیت انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ 4 مارچ 1932 ء کو امرتسر کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے سلیم رضا کا نام رکھا گیا تھا،قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی جہاں نام تبدیل کرکے سلیم رضا رکھ لیا۔

گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا 1955ء میں فلم ”نوکر“ سے بطور پلے بیک گلوکار فلمی صنعت میں قدم رکھا جس کے موسیقار غلام احمد چشتی تھے اور اس فلم میں انہوں نے کوثر پروین کے ساتھ مل کر قتیل شفائی کا لکھا دو گانا”تقدیر کے مالک دیکھ ذرا،کیا ظلم یہ دنیا کرتی ہے“گایا تھا۔ اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ”قاتل“ میں ماسٹر عنایت حسین کی بنائی طرز پر قتیل شفائی کا گانا ”آتے ہو یاد بار بار کیسے تمہیں بھلائیں ہم“ گایا لیکن اصل شہرت 1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”سات لاکھ“ کے گانے ”یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں“ سے ملی جسے سیف الدین سیف نے لکھا اور رشید عطرے نے اس کی دُھن بنائی تھی۔

(جاری ہے)


اس کے بعد انہوں نے اے دل کسی کی یاد میں،جان بہاراں رشک چمن،کہیں دو دل جو مل جاتے،یہ جادو یہ نگاہیں،تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم ،میرے دل کی انجمن میں،رُت ہے شباب کی دن ہیں بہار کے، اوجانے والے بابو اک پیسہ دے دے،دل دھڑکے میری آنکھ پھڑکے تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ،دل ہمارا زُلف کی زنجیر کے قابل نہ تھا،رات ہو گئی جواں نغمہ بن کے آگئی لب پہ دل کی بات،نظر سے نظر ملا لیں اگر اجازت ہو،بے درد زمانے والوں نے کبھی درد کسی کا جانا ہے،ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلے تھم تھم کے دن ڈھلے،آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی،اُداس ہے دل نظر پریشان جیسے متعدد یادگار گانے بھی گائے۔

مقبول نعت ”شاہ مدینہ“ بھی ان کے کریڈٹ پر ہے۔ یکم نومبر 1957ء کو ریلیز ہونے والی فلم ”نور اسلام“ میں شامل یہ نعت آج بھی ایک سحر سا طاری کر دیتی ہے جسے تنویر نقوی نے لکھا اور کورس میں آئرن پروین نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 22 فروری 1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”داتا“ میں قتیل شفائی کی ایک حمد ”کر ساری خطائیں معاف میری تیرے درپہ میں آن گرا“ بھی گائی جس کی طرز تصدق حسین نے بنائی تھی۔


سلیم رضا نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں کیلئے بھی کئی خوبصورت گیت گائے،ان کی پہلی پنجابی فلم ”چن ماہی“ تھی جو اداکارہ بہار کی بھی پہلی فلم تھی،2 نومبر 1956ء کو ریلیز ہونے والی اس فلم کو پاکستان کی 100 ویں فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ ”چن ماہی“ میں سلیم رضا نے زبیدہ خانم کے ساتھ نغمہ نگار طفیل ہوشیار پوری کا لکھا ہوا دو گانا”ساڈے انگ انگ وچ پیار نے پینگھاں پائیاں نی“ بھی گایا تھا۔


1970ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”نجمہ“ بطور پلے بیک گلوکار سلیم رضا کی آخری اُردو فلم تھی جس میں انہوں نے مالا کے ساتھ قتیل شفائی کا لکھا ڈوئٹ ماسٹر عنایت حسین کی دُھن پر گایا تھا۔ فلمی صنعت میں احمد رُشدی،مہدی حسن،مسعود رانا،مجیب عالم اور دیگر گلوکاروں کی آمدکے بعد ان کی مقبولیت میں کمی آنے لگی تو وہ حالات سے مایوس ہو کر کینیڈا چلے گئے جہاں 1975ء میں موسیقی کا ایک سکول قائم کیا۔ یہ نامور گلوکار 25 نومبر 1983ء کو گردوں کے عارضے کے باعث 51 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments