اداکارہ حریم فاروق

ہر دم کچھ نیا کرنے کی چاہ میں

جمعہ 11 دسمبر 2020

Actress Hareem Farooq
درخشاں فاروقی
ستاروں کی مسحور کن دنیا میں حریم فاروق ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ اس نے تھیٹر سے کیریئر کا آغاز کیا اور کچھ ہی عرصے میں اداکاری کے ساتھ فلم سازی بھی شروع کی۔کراچی تھیٹر دیکھنے والوں کو پونے 14 اگست اور آنگن ٹیڑھا نہیں بھول سکتا جہاں انور مقصود جیسے ہنر کار نے اس سے شاندار پرفارمنس لی۔خاص کر آنگن ٹیڑھا کی جہاں آرا کا کردار جسے ٹیلی ویژن پر بشریٰ انصاری جیسی ہمہ صفت اداکارہ ادا کر چکی تھیں حریم کے لئے ایک بھرپور چیلنج ہی تھا۔

کمال ہنر دیکھئے کہ بشریٰ نے بھی اسے سراہا ہے۔وہ فلم سازی کے شعبے میں آئی تو جاناں،دوبارہ پھر سے،پرچی اور ہیر مان جا میں اداکاری کے جوہر بھی دکھا کے اپنی شناخت واضح کر گئی۔ٹیلی ویژن ڈراموں کی فہرست دیکھئے تو حریم کے کیریئر میں موسم،جسد ہنگامہ،دیار دل،میرے جیون ساتھی،صنم،باغی،میرے ہمدم میرے دوست،میں خیال ہوں کسی اور کا اور تیرے بغیر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

آئیے ان سے کچھ بات چیت کرتے ہیں․․․․․
حریم آپ کی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کیا ہے؟
”میں آپ کو سن بھی بتا دوں گی 26 مئی 1989ء یہ لڑکی پیدا ہوئی اسلام آباد میں“۔ (قہقہہ)
اور کتنے بھائی بہن ہیں کیا پڑھی لکھی ہیں؟
”ہم دو ہی بہنیں ہیں۔اے لیولز کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں گریجویشن کیا اور سوشیالوجی بھی پڑھی۔اس کے بعد تو شوبز میں آگئی۔

ابو پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور میڈیسن سے متعلق ہیں۔امی ماہر امراض جلد ہیں۔بہن آرکیٹکٹ ہے۔بھائی ہماراکوئی نہیں۔عمران کاظمی کو میں بھائیوں کی طرح چاہتی ہوں وہ ہم سب کا بہت خیال رکھتے ہیں“۔
والدین کا شعبہ طب رہا ایسے گھرانے میں تو بچے ڈاکٹر ہی بنتے دیکھے۔آپ دونوں بہنیں الگ الگ راستوں پر کیسے چل پڑیں؟
”بھئی،مجھے تو بچپن ہی سے سمجھ لیں کہ اداکاری کا شوق تھا۔

اسکول کے بعد کالج میں بھی ثقافتی و سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اور امی ابو شکر ہے کہ ہمارے دوست ہیں انہوں نے کبھی منع بھی نہیں کیا اور مجبور بھی نہیں کیا کہ ہم میڈیسن پڑھیں۔دماغ دیکھ لئے تھے کہ اعتماد سے یہی کام کر سکتی ہیں۔مجھے لگتا تھا کہ میں شوبز میں کچھ شائد ہی کر پاؤں۔میرے بچپن کے دوست عثمان خالد بٹ نے ایک تھیٹر پلے میں کام کرنے کا مشورہ دیا۔

آڈیشن دیا۔کامیاب رہی۔ڈرامے میں حاضرین نے میری پرفارمنس کو پسند کیا۔اس طرح حوصلہ افزائی ہوئی اب ہماری پوری ٹیم تعلیم یافتہ تھی۔اچھے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہی گریجویشن مکمل کیا۔
زندگی کی پہلی کمائی کتنی تھی اور کیسے خرچ کی؟
”تھیٹر میں پانچ مہینے لگاتار کام کرنے کرکے 20 ہزار ملے تھے ،اس دن میں اس قدر خوش تھی کہ پھر شائد ایسا موقع نہیں آیا۔

میں سیدھی والدین کے پاس گئی اور ساری رقم ان کے ہاتھ پر رکھ دی۔بعد میں زیادہ پیسے بھی کمائے مگر وہ پہلی پہلی خوشی میرے لئے انمول سرمایہ ہے“۔
”بحیثیت خاتون فلم ساز کے مشکلات کا سامنا تو کرنا پڑایا نہیں؟
”جب آپ انتظامی شعبے ہوتے ہیں تو آپ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔چھوٹی اسکرین سے میں نے اداکاری سیکھی۔تھیٹر سے ٹائمنگ سیکھی اور فلم سے دوستانہ مقابلے کی اقدار سیکھیں۔

مطالعے کا شوق رہا ہے۔فلم تکنیک سے متعلق پڑھے لکھے لوگوں سے مکالمہ کیا۔ان کے تجربات ،ان کی مشاہدے اور اپنے مشاہدے کی کڑیاں ملائیں۔اداکاری سے فلمسازی تک کتنے ہی چیلنجز کامقابلہ کیا۔ظاہر ہے کہ میرے تجربات کا فائدہ ساتھی آرٹسٹوں اور انڈسٹری کو بھی ہو گا۔مشکلات کچھ نہیں ہوا کرتیں اگر آپ کے ساتھ مخلص اور ہنر مند فنکاروں کی ٹیم بن جائے اور میں خوش قسمت ہوں کہ قدرت نے میری کامیابی کے راستے متعین کر دئیے۔

میری فلمیں بھی بزنس کر گئیں اور ناظرین نے اسے پسند کیا“۔
ڈائریکٹر کے ساتھ کبھی کوئی چپقلش وغیرہ ہوئی؟
”میں ڈائریکٹر کے کام اور تخیل پر کبھی بحث و تکرار نہیں کرتی۔وہ کیمرہ ورک کا ماہر ہوتا ہے۔اس کی بصیرت اور بصارت پر دورائے نہیں ہونی چاہئے۔اگر وہ مشورہ کرے تو ٹھیک اگر ضروری نہ سمجھے تو اس پر تنقید کرنا بنتا نہیں ہے۔ہم دوستانہ فضا کے بغیر ایک دوسرے کے معاون یا مددگار کیسے ہو پائیں گے۔

میرا کام ڈائریکشن نہیں یہ بہت جان کار آدمی کا کام ہوتا ہے پھر چپقلش کیسی؟“
ہماری فلم انڈسٹری کا احیا ہوا ہے۔ٹیلی ویژن کی اداکاروں نے فلم کے میدان میں بھی کامیابی سمیٹی ہیں مگر کیا کہانیاں ٹیلی پلے یا ڈرامائی آہنگ لئے ہوئی نہیں ہیں؟
ہمارا ٹیلی ویژن اور فلم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ڈرامے کے لوگ فلم بنانے لگے ہیں۔یہ نئی اور بہتر شروعات ہے۔

پرانی صنعت سہولتوں کے فقدان اور اس دور کی مروجہ روایتوں کے ساتھ بھیڑ چال کا شکار ہوتی رہی۔ان کی ناکامی کی وجوہ بس یہاں کیا دہراؤں ۔آپ بھی جانتے ہی ہیں اور لوگ بھی سمجھدار ہیں۔Content کا جہاں تک تعلق ہے تو ڈرامہ نگار ہی اب تک سامنے آئے اور کامیاب بھی رہے اس لئے انہیں سیکھنے دیں۔ثاقب ملک نے باجی تو کسی ڈائجسٹ رائٹر سے نہیں لکھوائی تھی۔

میں نے ہیر مان جا،جاناں،پرچی کسی ڈرامہ نگار سے نہیں لکھوائیں۔رفتہ رفتہ لوگ فلم کی ٹریٹمنٹ اور بہتر کریں گے کیونکہ کراچی انڈسٹری بہت زیادہ پرجوش ہے اور تبدیلیوں پر خائف نہیں“۔
”آپ کو کسی فلم ساز یا ڈائریکٹر نے متاثر کیا؟
”یہ شعبہ محنت کا تقاضا کرتا ہے۔مجھے ہر باصلاحیت ڈائریکٹر پروڈیوسر اچھا لگتا ہے۔مثال کے طور پر مومنہ درید،سعدیہ جبار اور فضا علی مرزا، ہمایوں سعید اور دوسرے تمام لوگ اور میں بتاؤں کہ ہم سب ایک دنیا سے ہیں اور ہماری دنیا بہت چھوٹی سی ہے۔

مل جل کر کام کرنا ہوتا ہے ۔مشورے بھی ہوتے ہیں اور لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں مگر سدھار کے لئے بگاڑ کے لئے ہر گز نہیں۔“
ڈرامہ نگری میں آپ کے تجربات کیسے رہے اور کیسے جا رہے ہیں؟
اچھے رہے اور اچھے ہی ہیں۔موسم میں احسن خان اور یمنیٰ زیدی میرے ساتھی اداکار تھے۔دیار دل اور صنم کے درمیان مجھے فلم ”دوبارہ پھر سے“ میں مصروف رہنے کے باوجود انڈسٹری نے کوئی شکایت نہیں کی۔

آرٹسٹ بھی اچھے ملے مثلاً علی رحمن خان،امجد علی اکبر اور عثمان مختار، انہوں نے پرچی (فلم) میں بھی میرے ساتھ کام کیا۔اب وہ ماضی جیسی بات کم از کم نوجوانوں میں نہیں کہ کسی کردار کم کروائیں اپنا بڑھائیں یا شارٹ کٹس استعمال کرکے آگے بڑھیں“۔
آپ نے گلوبل انٹرٹیمنٹ کمپنی بھی بنائی اور سعودی عرب میں پہلی بار پاکستانی فلم نمائش کروائی۔

یہ خیال کیسے آیا؟
” یہ ہماری تقسیم کار کمپنی ہے جو دنیا بھر میں کورونا کے بعد انشاء اللہ پاکستانی فلمیں نمائش کروائے گی۔اتفاق سے سعودی تقسیم کنندگان سے پہلے معاہدہ ہو گیا۔اس لئے وہاں فلم نمائش ہوئی اور عربوں کے ساتھ پاکستانیوں نے اسے سراہا“۔
اب تک کتنے ایوارڈ مل چکے ہیں اور ایوارڈ شوز کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں؟
”مجھے اپنے وطن کے سارے ہی ایوارڈ شوز Host کرنے کا موقع دیا گیا اور یہ بڑا دلچسپ تجربہ ہوتا ہے۔

کسی کی لکھی ہوئی لائنوں کو لائیو بولنا اور اداکاری نہ کرنا۔اس گفتگو میں بڑا ٹھہراؤ،ولولہ اور امنگ چاہئے ہوتی ہے اور پنچ لائن آنے پر اپنا کوئی جملہ بولنا بہت اچھا تجربہ ہوتا ہے۔اس کے لئے آپ کو حاضر دماغ رہنا ہوتا ہے اور مجھ پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس صلاحیت سے نوازا ہے”سیاہ“ ایسا ڈرامہ تھا جس میں مجھے نامزد کیا گیا تھا اور توقع کے خلاف ایوارڈ بھی ملا“۔


کوئی ایسا ڈرامہ جو نہ چاہتے ہوئے کیا ہو یا جس پر تنقید ہوئی ہو؟
”میرے ہمدم میرے دوست کیریئر کا ایسا ڈرامہ تھا جس میں نیگیٹو رول تھا اور میرے ساتھیوں،عزیزوں اور دوستوں نے مجھ پر تنقید کی کہ یہ تمہیں نہیں کرنا چاہئے تھا۔بے چاری عورت کا کردار میں اب آئندہ کروں گی بھی نہیں کیونکہ یہ میرے مزاج کے برعکس ہے۔میں رو دھو نہیں سکتی۔

ہاں اگر ظلم سہنے اور احتجاج کرنے والی لڑکی کا کردار ملا تو کر سکتی ہوں۔مگر میں دیکھ رہی ہوں کہ اب ہر دوسرے ڈرامے میں یا تو لڑکی پسند کی شادی کے لئے گھر سے بھاگ رہی ہے یا اس پر سسرال والے ظلم کر رہے ہیں،شوہر دوسری عورت کے چکر میں ہے یا خفیہ تعلقات میں رشتوں کا احترام ختم کیا جا رہا ہے لکھنے والے ایک طرح سے انہیں بند گلیوں میں گم ہیں۔

کچھ نیا بہت کم اور کبھی کبھی دکھائی دیتا ہے“۔
آپ کی نظر سے ٹیلی ویژن انڈسٹری کے تخلیقی ایچ رکھنے والی ڈائریکٹرز کون کون ہیں؟
”اویس خان،انجم شہزاد اور حسیب حسن کے ساتھ ہی میں نے کام کیا ہے۔دوسروں کے بارے میں کچھ جانتی نہیں“۔
اداکارہ کو کن خوبیوں کا مالک ہونا چاہئے؟
”جیسے مادھوری ڈکشٹ ہیں مکمل اور ہمہ صفت ،جیسے شوخ و چنچل عالیہ بھٹ ہیں یہ نسلوں کو متاثر کرنے والے اداکار ہیں ان میں نصیر الدین شاہ،نیاز الدین صدیقی،نانا پاٹیکر بھی ہیں۔

ہمارے یہاں عدنان صدیقی،صنم جنگ،گوہر رشید،عثمان خالد بٹ،صنم سعید،فہد مصطفی اور صبا حمید جیسے باکمال آرٹسٹ موجود ہیں۔انہیں اچھے اسکرپٹس ملیں تو یہ بین الاقوامی اداکاروں سے کم نہیں“۔
آپ کا خواب اور اگلے پانچ برس خود کو کیا دیکھنا چاہیں گی؟
”پاکستان کا نام پاکستانی آرٹسٹوں کی عزت و تکریم اور وطن میں خوشحالی کا خواب دیکھتی ہوں۔میری اپنی ذات اہمیت نہیں رکھتی لیکن میں پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھنا چاہتی ہوں“۔

مزید ٹیلی ویژن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments